انسانی علم، توبہ اور شیطان 22

انسانی علم، توبہ اور شیطان

56 / 100

انسانی علم، توبہ اور شیطان
بلال الرشید
ایک دفعہ ایک سیکولر نے طنزاً یہ کہا تھا:آج اس زمانے میں بھی کچھ لوگ یہ یقین رکھتے ہیںکہ شیطان واقعی Exist کرتاہے اور رمضان میں قید بھی کر دیا جاتاہے۔ اس پر میں نے یہ کہا کہ شف شف نہیں شفتالو کہو۔ شیطان کی اپنی توکوئی اہمیت نہیں ۔ اس کی اہمیت خدا کی Existenceسے ہے ۔ آپ کھل کر کہیں کہ یہ کائنات اپنے آپ بنی ہے ۔ اپنے آپ کروڑوں ارب سیاروں میں سے ایک پر زندگی پیدا ہوگئی۔ اپنے آپ پانچ ارب قسم کی مخلوقات(Species)میں سے ایک کو عقل مل گئی اور وہ لباس پہننے لگی ۔ پھر میں ایک شافی جواب گوش گزار کرتا ہوں ۔ ان لوگوں کیلئے بارش اورLifeکو Sustainکرنے والی مٹی میں کوئی نشانی نہیں ۔ ان کے نزدیک مخلوقات کا دو جنسوں میں پیدا ہونا کوئی نشانی نہیں ۔ ان کی سوئی اس ایک نکتے پر اٹکی ہوئی ہے کہ دنیا میں ہمیں ہر عیاشی کی کھلی چھوٹ ملنی چاہئے۔ شیطان بنا ہے آگ سے ۔ انسان مٹی سے بنا ہے ۔ آج بھی سب سے زیادہ جراثیم مٹی میں پائے جاتے ہیں ۔ دراصل مٹی میں وہ ہائیڈرو کاربنز ہوتے ہیں ، جن سے زندہ مخلوقات کے خلیات بنے ہیں ۔پانی ان ہائیڈروکاربنز کو آپس میں زیادہ سے زیادہ روابط بنانے کا موقع دیتا ہے ۔ نتیجہ وہی ہے ، جو قرآن میں لکھا ہے کہ ہر زندہ شے کو ہم نے پانی سے پیدا کیا۔ یہ عین ممکن ہے کہ کسی سیارے پر آگ یا کسی دوسرے عنصر سے بنی ہوئی مخلوق پائی جاتی ہو لیکن ہم اسے سمجھ نہیں سکیں گے ۔ یہ ہماری عقل سے باہر کی چیزیں ہیں۔

تو جیسا کہ قرآن کہتاہے کہ انسان سڑی ہوئی مٹی سے پیدا ہوا، کیچڑ سے ۔ یہ مٹی اور کیچڑ دیکھنے میں اچھا نہیں لگتا۔ ادھر بھڑکتی ہوئی آگ میں ایک دبدبہ ہوتاہے ۔ اس سے شیطان کے دل میں غرور پیدا ہوا اور کرّہ ء ارض کی مخلوقات کو وہ حقیر سمجھنے لگا۔ اس نے کہا کہ میں اسے سجدہ کروں ، جو مٹی سے بنا ہے ؟ اس جاہل کو علم ہی نہ تھا کہ ظاہری شکل و صورت سے زیادہ اہم چیز آگ اور مٹی کی تاثیر اور خصوصیات ہیں۔ آگ گرم ہوتی ہے ۔ مٹی ہمیشہ ٹھنڈی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جانور کیچڑ میں لوٹ پوٹ ہو تے اور خود کو ٹھنڈا کرتے ہیں ۔ اصل اہمیت تو ذہانت کی تھی ۔ دیکھنے میں تو شیر انسان سے کہیں خوبصورت ہے لیکن انسان کے آگے اس کی حیثیت کیاہے ۔ ہو مو سیپین تو بہرحال کافی خوبصورت ہے ۔نی اینڈرتھل جیسے کئی انسان ایسے بھی تھے ، جو خوبصورت نہیں تھے ۔کوئی شک نہیں کہ ہومو سیپین سب سے زیادہ ذہین بھی تھا۔ شیطان نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جانتا تو اللہ ہی ہے کہ آگ کیا ہے اور مٹی کیا۔ برتر تو وہی ہے ، جسے خالق بہتر قرار دے۔

انسان کے دشمن دو ہیں ۔ ایک شیطان اور دوسرا نفس۔ ایک دفعہ پروفیسر احمد رفیق اختر یہ فرمانے لگے کہ شیطان کی نسبت کہیں زیادہ خطرہ انسان کو اپنے نفس سے ہے۔ شیطان کوبہرحال یہ فائدہ حاصل ہے کہ انسان کو وہ دیکھ سکتاہے ۔ ہم تواسے دیکھ نہیں سکتے ۔آدمؑ کو سجدے سے انکار کے بعد شیطان نے یہ کہا تھا کہ اسے گمراہ کروں گا۔ابلیس ہمارے کان میں پھونک سکتاہے۔ وہ ہمارے دماغ میں ایک خیال پیدا کر سکتاہے ۔ بالخصوص اس وقت، جب انسانی ذہن دبائو کا شکار ہو۔ گناہ میں لذت کیوں ہوتی ہے ؟ اس کا تعلق ہماری بناوٹ، انسانی تشکیل میں چھپا ہے۔ اس لیے کہ گناہ کرتے ہوئے دماغ میں کیمیکلز خارج ہوتے ہیں، جو بہت لذت انگیز ہوتے ہیں ۔ آپ کی جلد میں موجود حسی خلیے لطیف لمس کا احساس جسم میں موجود باریک تاروں (Nerves)کے ذریعے ریڑھ کی ہڈی تک پہنچاتے ہیں اور وہ یہ پیغام دماغ کو بھیج دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زن کی وجہ سے ہمیشہ قتل و غارت ہوتی رہی ہے ۔ خواہشات کا منبع بہرحال ہمارا اپنا ذہن ہے۔ نفس اسی طرح دماغ کے اندرقیام پذیر ہے، جیسے عقل ۔ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ کروڑوں برس میں نفس کی عادات پختہ ہو چکیں ۔ سوائے خدا سے مدد لینے کے اور کوئی رستہ ہمارے پاس موجود نہیں ۔

فرشتوں نے جب انسان کو زمین پہ نائب بنانے پر اعتراض کیا تو اپنے تئیں وہ درست تھے۔انسانی اور حیوانی تاریخ بہت پرانی ہے۔ہومو اریکٹس سمیت کرّہ ء ارض پہ انسان کے اجداد شروع سے آپس میں قتل و غارت کرتے چلے آرہے تھے ۔ خدا جو استعداد آدمؑ میں پیداکر رہا تھا، جس اندا زمیں علم الاسما سیکھنے کے دوران اس کے دماغ میں کھربوں کنکشنز بن رہے تھے ، فرشتے اس سے لا علم تھے۔ یہ بات انہیں معلوم نہ تھی کہ جس انسان کو خدا اپنا خلیفہ مقرر کرنے جا رہا ہے، اس کے زمین پہ اترنے کے ساتھ ہی انسان کا اوپر والا دماغ (سیری برم +کارٹیکس)انتہائی خوبصورت اور پیچیدہ شکل اختیار کر جائے گا۔ سوال آگ کی مٹی پر سبقت کا نہیںتھا۔زندگی کی یہ دو اقسام ذہنی صلاحیت میں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ آدمؑ کی اولاد کو ارادہ و اختیار دیا جانا تھا۔ وہ بھی اس صورت میں کہ گناہ اس کیلئے پر کشش تھے اور خداکو مکمل طور پر پردے میں چلے جانا تھا۔یہ وہ امتحان ہے ، انسان کے علاوہ اور کوئی مخلوق کبھی جس سے نہ گزاری گئی ۔ شیطانی جہالت کی انتہا دیکھیے کہ خدا کے روبرو اس نے انکار کیا۔دوسری طرف آدمؑ کو دیکھیے تو ممنوعہ شجر کو چھولینے کے بعد توبہ کا قرینہ سیکھا اور جھک گیا۔ اپنی کمزوریوں، کوتاہیوں اور گناہوں سے قطع نظر، آئیے ایک لمحے کیلئے آج اپنے رب کے سامنے سربسجود ہوں۔صرف علم نہیں ،یہ توبہ بھی ہے جو ہومو سیپینز کو خوبصورت بناتی ہے ۔محض علم تو شیطان کے پاس بھی بہت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں