انسانی حقوق کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں 19

انسانی حقوق کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں

53 / 100

انسانی حقوق کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں
افضال ریحان
آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ 10دسمبر 1948کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 30شقوں پر مشتمل اِس تاریخ ساز دستاویز یا آفاقی منشور کی منظوری دی جسے نسلِ انسانی کی تہذیبی ترقی اور شعوری عظمت کی معراج قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ 1215کے میگنا کارٹا، امریکی اعلانِ آزادی، انقلابِ فرانس یا رؤسو کے افکار ہی نہیں، صدیوں پر محیط شعورِ انسانی کی جدوجہد کا ثمر ہے، یہ واحد دستاویز ہے جو تیار تو فرانسیسی اور انگریزی میں کی گئی تھی مگر اِس کے تراجم دنیا میں سب سے زیادہ زبانوں میں کئے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں شمولیت اختیار کرنے والے ممالک جب اِس عالمی میثاقِ انسانیت پر دستخط کرتے ہیں تو گویا اقوامِ عالم کے سامنے یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ اپنے ممالک اور اقوام میں اِن ارفع و برتر انسانی اقدار کی پاسداری کریں گے۔ اِس مختصر کالم میں تیس شقوں کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے، اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ انسانی حقوق، انسانی وقار اور آزادیوں میں کوئی نسلی، مذہبی یا جنسی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔ تمام انسان آزاد اور عزت و حقوق کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں، اُنہیں ضمیر اور عقل و شعور ودیعت کیا گیا ہے، کسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اُنہیں لونڈی یا غلام بنا کر رکھے یا بردہ فروشی کرے یا امتیازی رویہ اپنائے یا تذلیل کرے یا جان و مال کو نقصان پہنچائے۔ ہر انسان کو آزادیٔ فکر، آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ مذہب کا پورا حق حاصل ہے۔ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ جو چاہے مذہبی عقیدہ رکھے یا اُسے تبدیل کر لے یا اُسے ترک کر دے یا کوئی بھی عقیدہ نہ رکھے۔ ہر انسان کو پُرامن طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خیالات اور عقائد پر عمل کر سکے اور اُن کی تبلیغ و تشہیر کر سکے یا پُرامن طور پر تنظیم سازی کر سکے۔ ہر انسان کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی انسانی سہولیات تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے انسانی حقوق اور آزادیوں میں رخنہ ڈالے۔ تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی نشوونما ہو گا۔ تعلیم، اقوامِ عالم اور نسلی و مذہبی گروہوں کے درمیان باہمی مفاہمت، رواداری اور دوستی کو ترقی دے گی اور امنِ عالم کو برقرار رکھنے کے لئے اقوامِ متحدہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائے گی۔ اِس طرح رائے کی آزادی یا ووٹ کی عزت کو اُتنا ہی تقدس بخشا گیا ہے جتنا انسانی جان و مال اور آبرو کو۔ اقوامِ متحدہ میں شمولیت اختیار کرنے والی اقوام نے اِس بات کا بھی عہد کر رکھا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں انسانی حقوق کے اِس عالمی چارٹر پر نہ صرف خود عمل پیرا ہوں گی بلکہ اُن اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنے عوام میں رائج و راسخ کرنے کیلئے اُن کی کماحقہ تشہیر کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے مختلف ادارے دنیا بھر میں بالعموم اور غریب ممالک میں بالخصوص بچوں سے لے کر بزرگوں تک بلاتمیز نسل، جنس یا مذہب بھوک، ننگ، بیماریوں یا قدرتی آفات میں مدد کیلئے پیش پیش رہتے ہیں۔ جنگوں میں بھی جنیوا کنونشنز کے مطابق انسانی آبادیوں، اسپتالوں یا انسانی فلاحی مقامات پر انسانی بچائو یا بہبود کیلئے تن دہی سے تگ و دو کرتے ہیں۔ یو این کی کامیابیوں یا ناکامیوں کا تنقیدی جائزہ لیا جا سکتا ہے لیکن انسانی عظمت و وقار کو آگے بڑھانے کا ہمارے پاس اِس سے بہتر متبادل کوئی نہیں۔
یو این ہیومن رائٹس چارٹر کا اولین تقاضا یہ ہے کہ تمام اقوام اپنے اپنے ممالک میں سوسائٹی کے کمزور طبقات بالخصوص خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا سہارا بنیں، اُنہیں برابر کے شہری و انسانی حقوق دلانے کیلئے ہر نوع کے امتیازی قوانین اور رویوں کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ ہر سوسائٹی کا میڈیا نہ صرف خود اپنی آزادی کے حق کو منوانے کیلئے پوری یکجہتی و طاقت کے ساتھ ڈٹ جائے بلکہ کمزور طبقات کی زبان اور سہارا بنے۔ اب اگر درویش اِن ارفع انسانی اصولوں اور آدرشوں کی روشنی میں اپنی سوسائٹی یا سماج کا جائزہ لے تو سخت مایوسی اور دکھ میں آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ کیا کہیں سے ایسی کوئی مضبوط آواز اٹھ رہی ہے کہ یو این ہیومن رائٹس چارٹر کو ہر سطح پر ہمارے تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ ہونا چاہئے؟ اگر آج کے دن تک ایسا نہیں ہو سکا تو اِس کا ذمہ دار کون ہے؟ اُس کے برعکس ہمارا نصاب اور میڈیا مختلف النوع تعصبات کے تحت اکثر و بیشتر منافرت کو پروموٹ کرتا ہے۔ ہماری بربادی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم حال میں نہیں ماضی میں جی رہے ہیں۔ اِس کائنات میں انسانی جان سے زیادہ حرمت والی کوئی چیز نہیں مگر افسوس اِس مملکتِ خدا داد میں انسانی خون و وقار سے ارزاں کوئی چیز نہیں رہی، جب انسانی جان کی ناموس و حرمت نہیں ہو گی تو پھر اُس کی رائے اور سوچ کی بھی ایسی ہی تذلیل ہو گی جیسی 70برسوں سے یہاں روا رکھی جا رہی ہے۔ آج آپ ماضی کی کوتاہیوں سے تائب ہو کر ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ کاش یہاں لٹھ کی بجائے عقل و شعور کو اِس کا مقام کماحقہ حاصل ہو سکے۔ کاش خواتین اور کمزور اقلیتوں کے خلاف تمام امتیازی قوانین اور رویوں کا خاتمہ ہو سکے جو فی الواقع ہمارے آئین، قوانین اور رویوں سے دیمک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں