_تبدیل سیئات به حسنات 0

انسانوں سے متعلق اللہ تعالی کی سنت ہے کہ وہ حَسَنات پر فیصلہ کرتے ہیں اور سئیات سے درگزر فرما دیتے ہیں.

49 / 100

انسانوں سے متعلق اللہ تعالی کی سنت ہے کہ وہ حَسَنات پر فیصلہ کرتے ہیں اور سئیات سے درگزر فرما دیتے ہیں.

کیوں ؟

اس لیے کہ انسان اپنی اصل میں “ظلوماً جہولا” ہے. اپنے نفس کا غلام اور جبلت کا پیرو. اس سطح سے اٹھنے کے لیے اسے بہت محنت کرنا پڑتی ہے. ہر اچھا عمل ، نفس پر اس کی فتح اور بحیثیت انسان احسن تقویم کی آئیڈیل منزل کی طرف اس کی پیشقدمی کی نشاندہی ہوتا ہے. اسی محنت کی قدردانی اس کا رب یوں کرتا ہے کہ حاصل محنت کو شمار کر لیتا ہے اور اس راہ میں سرزد غلطیوں اور کوتاہیوں سے چشم پوشی کرتا ہے کہ غلطی کا پتلا غلطی نہیں کرے گا تو کیا کرے گا. اچھائی پر یہ دہری حوصلہ افزائی فرد کے انفرادی و معاشرتی ارتقاء میں نہایت کلیدی کردار ادا کرتی ہے.
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کسی بھی وقت اگر اللہ تعالی یہ طے کرلیں کہ انسان کی خامیوں کو بھی اسی طرح شمار کرنا ہے جس انداز میں اس کے اچھے اعمال کو کیا جاتا ہے تو خود اللہ تعالی کے مطابق…. زمین پر ایک ذی روح باقی نہ بچے. انسان سے پرفیکشن کی امید عبث ہے. پرفیکٹ تو صرف اللہ سبحان تعالی کی ذات ہے.
دوسروں پر رائے دیتے ہوئے ہمیں بھی چاہیے کہ ان کے حسنات پر پہلے بات کریں اور گفتگو کا زیادہ حصہ اسی سے متعلق ہو. تاکہ یہ باور کروایا جا سکے کہ جو اچھا کام کرے گا اسے اس کی کوتاہیوں میں دفن کر کے ضائع کر دینے کی کوشش نہیں کی جائے گی. اچھائی کا تشکر فوقیت رکھے گا. کوتاہی پر تذلیل کے بجائے اس کی نشاندہی ضرور ہوگی لیکن صرف اس لیے کہ بعد میں آنے والے معلوم کر لیں کہ ان سے کیا توقعات ہیں. یہ بھی کہ اس ضمن ان کی محنت اور اخلاص کو سراہا بھی جائے گا.
تہذیب کا سفر تادیب سے زیادہ ترغیب سے آگے بڑھتا ہے. ستائش دراصل انسان کی کمزوری نہیں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اسے خود سے آگے بڑھ کر سوچنے اور عمل کرنے کا حوصلہ بخشتی ہے.
ہم ایک زندہ قوم ہیں. ہماری قومی زندگی کا سفر جاری ہے اور اس کی سمت درست ہو جانے کے امکانات بھی ہمہ وقت موجود ہیں. اس سفر میں آگے بڑھنے کے لیے ہمیں کیا راہ چننا ہے، نہایت اہم فیصلہ ہو گا. ناشکرگزار اور ناقد، یا اعتراف عمل کرنے والی قوم جو معترف بھی ہے اور خوب سے خوب تر کی توقع بھی رکھتی ہے. اعلی ظرفی بہر حال ایک شاندار انتخاب ہو گا.

پھر انسان کے باب میں خود اللہ تعالٰی کا طریقہ بھی یہی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں