87

ام المصائب :زینب بنت علی کرم اللہ وجہہ

54 / 100

ام المصائب
زینب بنت علی کرم اللہ وجہہ
آج سیدہ زینب بنت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا یوم وصال ہے۔آپکا وصال 15 رجب المرجب کو ہوا۔آپکے فضائل میں یہی کافی ہے کہ آپ باب مدینۃ العلم اور سیدہ نساء العالمین کی صاحبزادی، تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ملیکۃ العرب سیدہ خدیجۃ الکبریٰ علیھا السلام کی نواسی ہیں۔حضرات حسنین کریمین کی بہن ہونابھی قابل فخر سرمایہ ہے۔
سیدہ زینب کی اسلام کے لیے سب سے ظیم خدمت واقعہ کربلا کو زندہ رکھنا ہے۔آج پیغام کربلا اس طرح زندہ وجاوید نہ ہوتا اگر شریکۃ الحسین سیدہ زینب شریک سفر کربلا نہ ہوتیں۔حق کی آبیاری اگرکربلا کے شھیدوں نےاپنے خون سے کی ہے تو پیام کربلا زینب بنت علی کے خطبوں نے زندہ رکھا ہے۔اسی لیے علامہ اقبال نےمعرکئہ کربلا کو دو ابواب میں تقسیم کیا اور کہا کہ ایک باب حسین ابن علی نے رقم کیا ہے تو دوسرے کو زینب بنت علی نےسلام اللہ علیھم۔علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

حدیث عشق دو باب است کربلا ودمشق
یک حسین رقم کرد و دیگر زینب
کیا طاقتور حوصلہ کی مالکہ تھیں کہ مصائب وآلام سیدہ زینب کے سامنے شکست خوردہ نِظر آتے ہیں۔کربلا میں اپنے بھائیوں بھتیجوں حتی اپنے دونوں بیٹوں عوم و محمد کو سامنے ذبح ہوتے دیکھا، گلش زہراء کے پیاسے پھول ایک ایک کر کے کملا رہے تھےمگر زہراء ثانی استقامت کا کوہ گراں بن کے یزیدیوں کے سامنے کھڑی تھی۔پھر ابن زیاد کے دربار میں امام زین العابدین کو جب لعین شھید کرنے لگا تو آپ بیمار کربلا پر لیٹ گئیں۔اپنی جان پر کھیل کر امام کو بچا لیااور پھوپھی کے رشتہ کو ماں کا تقدس عطا کر دیا۔آج ایک بھتیجےکو جو اپنی پھوپھی کے ساتھ ماں جیسی محبت دیکھنے میں آتی ہے تو یہ حقیقتا فیض ہے زینب بنت علی کا۔ان ہستیوں نے نہ صرف اسلام کی ناموس کا تحفظ کیا بلکہ انسانی رشتوں میں بھی محبت والفت کا جاودانی وروحانی نورکارنگ گھولا۔
اسلام کے دامن میں جہاں اس گھر کا عطا کردہ اور قیمتی سرمایہ ہے وہاں خطبات زینب جو آپ نے ملعونوں کے درباروں میں ارشاد فرمائے تھےوہ متاع بے بہا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ابن زیاد اور یزید کے جشن فتح پر سیدہ کے خطبوں نے پانی پھیر دیا۔مرتضوی لہجہ میں دیے گئے بنت مرتضی کے خطبات نے ماحول کو یکسر سر بدل کے رکھ دیا۔ناواقفان حال کو اصل صورت حال سے آگاہ کردیا اور واقفان حال کو خجالت اور شرمندگی کےپسینے میں ڈبو کے رکھ دیا۔آپ کے خطبات نےجلالت مولا علی کی یاد کو تازہ کردیا۔سید نصیر الدین نے کیا خوب کہا:
وہ خطبئہ زینب کہ علی بول رہے تھے
ہر لفظ پہ فق تھا بھرے دربار کا چہرہ
یہ وہ خطبات ہیں جنکا اثر آج بھی ہمیں چاردانگ عالم میں صاف نظر آرہا ہے۔یہ آج بھی کارگاہ حیات میں انسانوں کی ھدایت و رہنمائی کا عظیم اثاثہ ثابت ہورہے ہیں۔
تیری سنت ہے شھیدوں کے لہو کی تشھیر
بنت زہراء تیرے خطبوں کی صدا باقی ہے
اللہ تعالی میری امت کی بہادر بیٹیوں اور بہنوں کو اسوہ سیدہ زینب پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
طالب دعاء گدائے کوچئہ آل بیت
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں