دوستی کا پھل 15

اللہ کی شکر گزاری

55 / 100

اللہ کی شکر گزاری
روبینہ ناز
حماد اپنے گاؤں کے سکول کی آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ایک قابل ،محنتی اور والدین و اساتذہ کا تابعدار طالب علم تھا۔والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کی نصیحت بڑے غور سے سنتا اور عمل کرتا تھا۔
ان کا تعلق گاؤں کے ایک غریب گھرانے سے تھا اس کے والدین اس کو ایک کامیاب انسان بنانا چاہتے تھے۔ایک دن امی سے کہنے لگا امی جان میرے سارے کلاس فیلوز کے پاس کتابوں کا اچھا بیگ ہوتا ہے قلم کاپیاں اور دیگر ضروری اشیاء ہر دن نئے نئے لاتے ہیں اور خاص کر ان کا نہایت ہی اعلیٰ اور عمدہ کھانوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس میرے پاس اس جیسی اشیاء نہیں ہوتیں اور لنچ بھی معمولی ہوتا ہے۔
احمد نے امی سے شکوے کے انداز میں کہا۔
یہ سن کر شفقت سے امی کی آنکھیں بھر آئیں۔

لیکن پھر حوصلہ کرکے تسلی دینی شروع ہوئیں اور بولی بیٹا!ہمیں آپ کا احساس ہے کہ اس طرح تمہیں تعلیم کی سہولیات نہیں ہونی چاہئے مگر تم دیکھتے ہو کہ یہ پیسہ تمہارے والد کے خون پسینے کی کمائی ہے ہم یہ بچا بچا کر تمہارے سکول کی فیس اور دیگر تعلیمی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں یہاں کچھ دیر کے لئے اس کی امی پانی پیتے خاموش ہو گئی۔

حماد امی کی بات غور سے سن رہا تھا۔
اس کی امی پھر بولیں۔”بیٹا تم ناشکری نہ کرو بلکہ اس کھانے پر اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ”اگر تم شکر کرو گے تو تم کو زیادہ نعمت دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔
”شکر کیا ہے؟امی جان حماد نے بے چینی سے پوچھا۔
خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ ”نعمت کو غیر مناسب جگہ خرچ مت کرو۔یہ ناشکری ہے“امی نے جواب دیا۔
حماد نے یہ سن کر وعدہ کیا کہ آئندہ میں کبھی کسی بھی نعمت کی ناشکری اور اس قسم کی باتیں نہیں کروں گا تو امی نے شفقت سے اس کی پیشانی کو بوسہ دے کر گھر کے کام کاج میں لگ گئی کچھ ہی عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اللہ نے حماد کے والد کو ایک اچھی جگہ نوکری عطا کی جس کی وجہ سے حماد کی وہ شکایت خود بخود دور ہو گئی اور بقیہ زندگی خوشی کے ساتھ بسر کرتے رہے۔

پیارے بچو!تم بھی حماد کی طرح اگر شکر گزاری کے ساتھ زندگی گزارو گے تو تمہاری زندگی بھی خوشگوار بن جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں