PM IK cabinet meeting 14

اقتدار کیلئے ہوم ورک ضروری!

56 / 100

اقتدار کیلئے ہوم ورک ضروری!
وزیراعظم عمران خان جب اقتدار میں آنے والی ہر حکومت کیلئے پوری پیشگی تیاری کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں تو اس میں کسی لگی لپٹی کے بغیر بعض اعترافات بھی شامل ہوتے ہیں اور انتقالِ اقتدار کے طریق کار میں اصلاح کا پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے۔ منگل کے روز اُن کی جانب سے جس تقریب کا اہتمام کیا گیا وہ بھی اِس اعتبار سے منفرد تھی کہ اُس میں مالی سال 2020-21کیلئے وزارتوں کے اہداف سونپے گئے اور معاہدوں پر دستخطوں کی صورت میں اس عہد کا اظہار کیا گیا کہ زیادہ محنت اور کارکردگی سے مطلوب اہداف کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔ اس تقریب کے اہتمام اور وزیراعظم کے خطاب میں کہی گئی باتوں کا ایک مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ خود ان کے ذہن میں اپنی حکومت کی کارکردگی کا جو تصور تھا وہ ڈھائی سال کے دوران عملی طور پر سامنے نہیں آسکا اور وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی میعاد کے سوا دو سال باقی رہ گئے ہیں اس لئے ایسے کسی عذر کی گنجائش نہیں رہی کہ ہم سیکھ رہے ہیں، اب کارکردگی دکھانے کا وقت آگیا ہے، جب تک ساری وزارتیں پرفارم نہیں کریں گی، گورننس بہتر نہیں کی جاسکے گی۔ یہ ایک ایسی حکومت کے سربراہ کا تجزیہ ہے جو شاکی رہی ہے کہ اسے انتہائی مشکل معاشی حالات میں اقتدار ملا اور جس نے نہ صرف غیرملکی قرضوں کے واجبات کی بروقت ادائی کا اہتمام کیا بلکہ
معاشی حالات کے حوالے سے جس کی کاوشوں کا بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراف کیا گیا۔ یہی نہیں شیلٹر ہومز، لنگر خانوں، ہیلتھ کارڈ، احساس پروگرام، ای او بی آئی پنشن میں اضافے سمیت کئی اقدامات سے جس کی سمت واضح ہے اور کئی اقدامات سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں جبکہ رہائشی تعمیرات کی صورت میں مزید مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کے بعض اقدامات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے یا مشکل حالات کی رکاوٹوں کے ذکر کے پیچھے چھپنے کی بجائے اِس بات کو ترجیح دی کہ تمام وزارتوں کیلئے نظام الاوقات کے مطابق کارکردگی کے اہداف مقرر کرکے تمام شعبوں میں کام کی رفتار تیز کی جائے۔ وزیراعظم کا اپنے تجربے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’’جب حکومت میں آئے تو تین ماہ صرف معاملات سمجھنے میں لگ گئے، توانائی سمیت کئی شعبوں میں ڈیڑھ سال تک اصل اعداد و شمار کا پتا ہی نہیں چل رہا تھا۔ اقتدار سنبھالنے سے پہلے تک ہر چیز ہم باہر سے دیکھ رہے تھے۔ جب حکومت میں آئے تو وہ بالکل مختلف تھی، امریکہ کی طرح یہاں بھی نئی حکومت کو ہر چیز کی صورتحال پر بریفنگ دی جانی چاہئے۔ ہمیں سسٹم کو بدلنا ہے‘‘۔ وزیراعظم کی تجویز کردہ قبل از عنان اقتدار بریفنگ کی گنجائش پارلیمانی نظام میں کیسے نکالی جاسکتی ہے؟ اس باب میں صاحبانِ دانش کو یہ بات مدنظر رکھنی ہوگی کہ پاکستانی عوام پارلیمانی جمہوریت ہی کے دلدادہ ہیں۔ اِس نظام کو کسی آلودگی کے بغیر حقیقی جمہوری اقدار کے مطابق چلاتے ہوئے بھی سیاسی پارٹیوں میں تحقیقی اور مطالعاتی گروپوں کے ذریعے بڑی حد تک حقائق تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے اور ایک حکومتی میعاد کے دوران دیگر سیاسی پارٹیوں، بالخصوص بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے زعماء کیلئے وقتاً فوقتاً بریفنگ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق اس وقت سب سے بڑا چیلنج وزارتِ بجلی کو درپیش ہے۔ اس پیچیدہ شعبے کا نظام بہتر بنانا ہے اور عوام کو سستی بجلی بھی فراہم کرنی ہے۔ تقریباً ڈھائی ارب روپے کی سبسڈی دوسرا بڑا چیلنج ہے۔ پنشنوں کا بھاری بوجھ ہے، مہنگائی بھی اہم چیلنج ہے۔ گورننس نظام میں بیورو کریسی کے حوالہ سے اصلاحات پر کام ہورہا ہے، ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کرنا ہیں۔ یہ سب چیلنج اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ حکومت ان کا ادراک رکھتی ہے۔ اور اہداف کے حصول کیلئے ٹائم فریم کے مطابق آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ اگر تمام وزارتیں اور ادارے جاں فشانی سے کام کریں تو ان اہداف کو مکمل طور پر نہیں تو بڑی حد تک حاصل کرنے کی اب بھی امید کی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں