عدنان عادل 0

افغانستان میں امن کے امکانات

59 / 100

افغانستان میں امن کے امکانات
گزشتہ چند ہفتوں سے افغانستان میں پُرتشدد واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ افغان طالبان جگہ جگہ سرکاری عمارتوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ قندھار اور ہلمند میں خاص طور سے بدامنی زیادہ ہوگئی ہے۔ طالبان نے نئی حکمت عملی یہ اختیار کی ہے کہ وہ سڑکوں اورپُلوں کو دھماکہ سے تباہ کررہے ہیں تاکہ افغان حکومت کی افواج کو نقل و حرکت میں دشواری ہو۔طالبان سمجھتے ہیں کہ کابل انتظامیہ کو کمزور کرکے وہ مذاکرات کی میز پر اپنے مطالبات زیادہ آسانی سے منواسکتے ہیں۔ سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ کابل حکومت میں ان کا غالب حصہ ہو۔ اگلے ماہ پانچ جنوری کو دوہا (قطر) میں طالبان اور اشرف غنی کی حکومت کے درمیان بات چیت کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ان مذاکرات میںفریقین کا روّیہ مستقبل کے حالات کے تعین میں بہت اہم ہوگا ۔ دوہا مذاکرات سے پہلے کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح طالبان کو آمادہ کیا جاسکے کہ وہ اپنی پُرتشدد کاروائیوں کو کم کریں تاکہ انکی کابل حکومت کے ساتھ سیز فائر ہوسکے۔ اشرف غنی کی حکومت کا سب سے بڑامطالبہ یہ ہے کہ طالبان پُرتشدد کاروائیاں ختم کریں تاکہ ایک اعتماد کی فضا ہو جس میں عبوری حکومت کا قیام عمل میں آجائے۔ چند روز پہلے طالبان کا وفد ملّا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں اسلام آباد آیا ۔ اس نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے بھی طالبان پریہی زور دیا کہ تشدد کم کریں اور سیز فائر کی طرف بڑھیں۔ اگلے روز امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملّی نے پہلی بارطالبان کے وفد سے ملاقات کی ہے تاکہ افغانستان میں امن کے قیام اورفروری میں کیے گئے دوہا(قطر) معاہدہ پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ جنرل ملّی افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ رہ چکے ہیں۔انکا طالبان سے ملاقات کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ دوہا معاہدہ کے تحت امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکال رہا ہے۔ اسوقت وہاں صرف چار ہزار امریکی رہ گئے ہیں۔ پندرہ جنوری تک انکی تعدادمزید کم ہوکر اڑھائی ہزار رہ جائے گی۔ افغان طالبان کی جنگ بندی کی ایک اہم شرط یہ رہی ہے کہ غیرملکی افواج ان کے وطن سے نکل جائیں۔یہ شرط دوہا معاہدہ میں مان لی گئی تھی۔ امریکہ نے طالبان سے وعدہ کیا ہُوا ہے کہ مئی تک وہ اپنی ساری فوجیں افغانستان سے نکال لے گا۔تاہم دس جنوری کو صدر ٹرمپ کی جگہ جو بائیڈن لیں گے تو دیکھنا ہوگا کہ وہ اس عہد پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔ امید تو یہی ہے کہ وہ بھی طالبان سے کیے گئے دوہا معاہدہ پر عمل کریں گے اور امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین انیس سالہ جنگ کو ختم کرنا چاہیں گے لیکن ہوسکتا ہے کہ وہ مئی تک امریکی فوجوں کے مکمل انخلا کے شیڈول میں کچھ تبدیلی کردیں۔ جو بائیڈن میڈیا کو انٹرویوز میں یہ کہتے رہے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کو اتنی فوجیں رکھنی چاہئیں جو وہاں پر داعش اور القاعدہ ایسی تنظیموں کو قدم جمانے سے روک سکیں۔تاہم جب صدر اوبامہ نے افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد بڑھائی تھی تونائب صدر کی حیثیت سے جو بائیڈن نے اسکی مخالفت کی تھی۔ آثار بتارہے ہیں کہ امریکہ اور طالبان ایک دوسرے کے ساتھ ملکر کام کرنے کو تیارہیں۔مسئلہ کابل کے حکمران طبقہ کے سخت گیر موقف رکھنے والے عناصرہیں جو طالبان کو عبوری حکومت میںبڑا حصہ دینے کو تیار نہیںحالانکہ وہ اسکے حقدار ہیںکیونکہ ملک کے اکثریتی علاقوں میں ان کا غلبہ ہے۔ اگرجو بائیڈن کابل انتظامیہ پر عبوری حکومت بنانے اور اس میں طالبان کو شریک کرنے کے لئے دباؤ ڈالتی ہے تومعاملہ حل ہوسکتا ہے۔ کابل حکومت کے بجٹ کا نوّے فیصد بیرونی امداد سے آتا ہے جس میں سب سے زیادہ پیسہ امریکہ فراہم کرتا ہے۔ کابل حکومت کی اپنی آمدن کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔امریکہ اگر اشرف غنی کو پیسہ دینا بند کردے تو یہ حکومت چند ماہ بھی نہیں چل سکتی۔ماضی میں بھی امریکہ یہ دباؤ استعمال کرتا رہا ہے۔ امریکی دھمکی کے نتیجہ میں ہی اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی رہا کیا تھا۔ افغانستان میں ایک بڑا مسئلہ جنگجو سرداروں (وارلارڈز) کا ہے۔یہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں خودمختار حکومتیں بناکر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے مفادات مسلسل جنگ سے وابستہ ہوچکے ہیں۔ بیرونی طاقتوں سے بھی انکے تعلقات ہیں۔اسمگلنگ اور افیون و ہیروئن کے کاروبار سے انکو بہت دولت حاصل ہوتی ہے۔ ان جنگجو سرداروں کو کنٹرول کرنا اور انہیں امن قائم کرنے پر راضی کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ افغانستان کو مستحکم کرنے کی خاطر ان سرداروں کو یا تو خریدنا پڑے گا یا سختی سے کچلنا پڑے گا۔انڈیا کا مفاد بھی افغاانستان میں بدامنی جاری رہنے میں ہے تاکہ وہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوششیں جاری رکھ سکے۔ پاکستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کو فنڈز‘ اسلحہ اور تربیت فراہم کرتا رہے۔ جب تک وہ مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت کو پوری طرح کچل کر اپنے عزائم کی تکمیل نہیں کرلیتا پاکستانی افواج کا بڑا حصہ مغربی محاذپر مصروف رہے۔ کچھ بیرونی قوتیں افغانستان میں داعش کی بھی مدد کررہی ہیں تاکہ اسکی مدد سے اس خطہ میں بدامنی کے حالات قائم رہیں۔ افغانستان کی صورتحال خاصی پیچیدہ ہے۔امریکی تو شاید اپنی جان چھڑا کر افغانستان سے چلے جائیں لیکن اس ملک میں دیرپا امن فوری طور پر قائم ہونا ایک معجزہ ہوگا۔ان حالات میں پاکستان کو مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک اچھی پیش رفت یہ ہے کہ چین بھی افغانستان میں امن کے لیے کوشاں ہے۔ وہ افغان سرزمین کو پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں( سی پیک) سے منسلک کرنا چاہتا ہے تاکہ بذریعہ افغانستان وسط ایشیا تک تجارتی راستہ مکمل ہوجائے جو آگے یورپ سے جڑا ہوا ہے۔ چینی سفارت کارطالبان سے رابطے استوار کیے ہوئے ہیں۔ اگر پاکستان اور چین ملکر افغان جنگجو سرداروں کو قابو کرسکیں اور وہاںایک وسیع البنیاد قومی حکومت قائم ہوجائے تو امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ طالبان ایسی قومی حکومت کا حصہ بنیں تووہاں انڈیا کااثر و رسوخ کم ہو۔انڈیا کی مدد نہیں ملے گی تو ہمارے ہاں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں جو فساد ی سرگرم ہیں ان کا بھی خاتمہ ہوگا۔دوسرے‘ افغانستان میں حالات نارمل ہوں توپاکستان اسکے مختصر راستے سے وسط ایشیا تک اپنی تجارت بڑھا سکتا ہے۔ ترکمانستان سے پائپ لائن بچھا کر قدرتی گیس حاصل کرسکتا ہے جسکی ہمیں اشد ضرورت ہے۔افغانستا ن میں خانہ جنگی نے پاکستان کی امن و امان کی صورتحال کو چار دہائیوں سے بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔ اب ہم مزید اس بدامنی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں