0

اعلیٰ کتب اور غمناک باتیں

59 / 100

اعلیٰ کتب اور غمناک باتیں
ڈاکٹر عبد القدیر خاں
آج آپ کی خدمت میں پہلے تین اعلیٰ کتب پر تبصرہ پیش کروں گا اور پھر دو غمناک واقعات بیان کروں گا۔

(1)پہلی کتاب نہایت عمدہ اور سادہ انگریزی ترجمے کے ساتھ کلام مجید ہے۔ اِس کے مترجم ڈاکٹر مشرف حسین ہیں۔ تقریباً 30سال پہلے میری اُن سے کہوٹہ کے قریب ایک اسکول کی تقریب میں ملاقات ہوئی تھی۔ اُن کی پیدائش انگلینڈ میں ہوئی۔ وہیں سے بائیو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی، چند سال ریسرچ پر کام کیا پھر پاکستان آکر اسلامی تعلیمات حاصل کیں اور جامع الازہر سے فارغ التحصیل ہوئے۔ 1994سے دینی تعلیمات اور فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔ آپ نے کئی اعلیٰ کتب تصنیف کی ہیں جو دینِ اسلام پر ہیں۔ 2009میں حکومتِ برطانیہ نے اُنہیں اُن کی دینی اور فلاحی خدمات کے اعتراف میں OBEکا خطاب عطا کیا۔ اُنکے اِس کو انویٹیشن پبلشنگ نے ناٹنگم سے شائع کیا ہے۔ دنیائے اسلام کے نامور دس علماء، ماہرین نے اِس کتاب پر نہایت ہی اعلیٰ تبصرہ کیا ہے۔ اللہ پاک حافظ ڈاکٹر مشرف حسین کو حفظ و امان میں رکھے، تندرست رکھے، ہر شر و سازش سے محفوظ رکھے اور طویل زندگی عطا کرے کہ وہ دین کی خدمت جاری رکھ سکیں اور فلاحی کاموں کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔

(2)دوسری نہایت ہی اہم کتاب Human Conflict With Nativeہے جس کے مصنف قابل سابق سول سرونٹ مسعود ایچ قزلباش ہیں۔ اُنہوںنے متعددبین الاقوامی اداروں، کانفرنسوں میں پاکستان نمائندگی کی ہے۔ مثلاً کمیشن فار سوشل ڈویلپمنٹ آف دی یو این او نیویارک، ورلڈ بینک، یو این ہیبی ٹیٹ کانفرنس کینیڈاوغیرہ۔ علاوہ ازیں آپ نے بطور مشیر یو این ڈویلپمنٹ پروگرام، سوئس انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی، یو این ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ وغیرہ میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔ آپ وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر پرنسٹن یونیورسٹی اور سارک ہیومین ڈویلپمنٹ سینٹر اسلام آباد سے منسلک رہے اور اِس کے علاوہ آپ نے اچھے معیاری کالم لکھے اور چار کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ اِس کتاب کو پاکستان سائنٹفک اینڈ ٹیکنالوجیکل انفارمیشن سینٹر اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ اِس کتاب کے مضامین کی فہرست یہ ہے: (1)کرہ ارض کے راز (2)معجزاتِ کرہ ارض (3)انسانی فطرت، جدوجہد برائے تحقیق کرہ ارض (4)تہذیبات کی ترقی اور زوال (5)پچھلے چار ابواب کا خلاصہ (6)کرہ ارض اور تمام مخلوقات کے درمیان اعلیٰ توازن (7)علامات اور اُن کی تفصیل برائے ہماری کرہ ارض (8)پرانی اور موجودہ تہذیبوں کا مقابلہ اور اُن کا تجزیہ (9)ہماری تہذیب کا انجام یا منزل (10)دنیا کی تخلیق بائبل میں (11)دنیا کی تخلیق قرآنی نقطہ نظر سے (12)اعلان برائے ماحولیات اور اُس کی بہتری (13)خاص پیغامات برائے گلوبل تخمینہ رپورٹ برائے بائیو ڈائیورسٹی اینڈ ایکو سسٹم سروسز (14)انسدادِ رشوت ستانی کے بارے میں علانیہ۔

آپ کو اِن ابواب، مضامین سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ قزلباش صاحب ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، نہایت تجربہ کار ہیں، بین الاقوامی سطح پر کارکردگی نے اُن کو ایک وسیع النظر اور نہایت تجربہ کار شخصیت بنا دیا ہے۔ اللہ پاک اُن کو تندرست اور خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور ملک کے لئے مفید خدمات کی سعادت عطا کرے۔ آمین!

(3)تیسری نہایت دلچسپ کتاب، صحرا نورد کی حکایت نہیں بلکہ بحرِنورد کی کہانی ہے۔ یہ میرے کینیڈا میں رہائش پذیر عزیز دوست ظہیر قریشی کی کتاب سمندر بیتی یعنی آپ بیتی ہے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ملاح یا جہاز راںکی زندگی کس قدر دلچسپ اور پُرمزاح واقعات سے پُر ہوتی ہے۔ ظہیر بھائی کی سمندری کہانی منفرد طرز تحریر اور دلچسپ واقعات پر مبنی ہے۔ بہت سے مقامات سے پاکستانی قطعی ناواقف ہوں گے اور اُن کیلئے یہ کتاب بےحد مفید ہے۔ خوش قسمتی سے میں نے یورپ، افریقہ اور مشرق بعید کے لا تعداد ممالک کی سیاحت کی ہے، بہت سی دلچسپ جگہوں سے میں واقف ہوں مثلاً ترکی، فرانس، اٹلی، مصر، مڈل ایسٹ اور چین کے لاتعداد مقامات۔ ترکی اور چین کے بارے میں ظہیر کے بیانات بالکل درست ہیں۔ اللہ پاک اُن کو اور اُن کی بیگم اور بچوں کو ہر شر و بیماری سے محفوظ رکھے، خوش رکھے اور عمر دراز کرے۔ آمین۔ ظہیر بھائی سمجھدار ہیں، بندرگاہوں کی ’’تفریحات ‘‘کے بارے میں کچھ نہیں لکھا کہ بیگم صاحبہ گھر سے باہر کردیتیں۔ یہ کتاب فیروز سنز نے شائع کی ہے۔

(نوٹس) آپ کی خدمت میں دو واقعات پیش کررہا ہوں جو غمناک ہیں۔

(1)سب سے پہلے توہمارے نہایت معزز، بہادر، عدلیہ کا وقار جناب وقار احمد سیٹھ ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی رحلت ہے۔ ایسے بہادر، نڈر، صحیح فیصلہ کرنے والوں کا فقدان ہے۔ پوری دنیا کے تحقیقی ادارے، ہماری پولیس اور بیوروکریسی کو تمام برائیوں کی جڑ بتلاتے ہیں، اگرچہ لاتعداد کالی بھیڑوں نے اُن کا نام بدنام کردیا ہے اور لوگ آج تک جسٹس منیر، جسٹس انوارالحق کا نام نہیں بھولے مگر تاریخ میں جسٹس ایم آر کیانی، جسٹس سعیدالزمان صدیقی، جسٹس افتخار احمدچوہدری کے نام ہمیشہ سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ عدلیہ کو ہمیشہ ہدایتِ الٰہی کو مدّنظر رکھنا چاہئے کہ جن کو عدل اور انصاف اور خدمت خلق کا اختیار دیا گیا ہے، ان کی بڑی سخت پکڑ ہوگی اور پھر ان کے خلاف دردناک انصاف ہوگا۔

(2)پچھلے دنوں ہمارے عزیز دوست میاں عبدالرشید مرحوم کے صاحبزادے نہایت قابل ڈاکٹر عظمت رشید کی اہلیہ محترمہ کا انتقال ہوگیا، اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں