واعتصموا بحبل اللہ جمیعا 13

اسلام اورامن عالم

5 / 100

اسلام اورامن عالم

از: ڈاکٹر خورشید احمد شفقت اعظمی

تعارف:
امن کے لفظی معنی ہیں چین، اطمینان، سکون وآرام نیز صلح، آشتی وفلاح کے۔ اسی طرح امن بجائے خود لفظ اسلام میں داخل ہے، جس کے معنی ہیں دائمی امن وسکون اورلازوال سلامتی کا مذہب۔
اسلام میں امن کا اتنا واضح تصور موجود ہے کہ دیگر ادیانِ عالم ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں، مثال کے طور پر آیت ذیل پیش کی جاسکتی ہے:
”مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فسَادِ فِی الْاَرْضِ فَکَأنَّمَا قَتل النَّاس جَمِیعًا“ (پ۶، آیت۳، ع۴)
(جو شخص قتل کرے ایک جان کو بلا عوض جان کے یا ملک میں فساد کرنے لگے تو گویا قتل کرڈالا اس نے سب لوگوں کو اورجس نے زندہ رکھا ایک جان کو توگویا زندہ کردیا سب لوگوں کو)

اسلام کے بنیادی عناصر:
رحم، خیرخواہی اور امن پسندی اسلام کے بنیادی عناصر ہیں، اسلام میں پہلے سلام پھر کلام کی ترغیب آئی ہے۔ السلام علیکم کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ تم پر سلامتی ہو، بلکہ یہ اس مفہوم پر بھی محیط ہے کہ تم میری طرف سے محفوظ و مامون ہو۔ اسلام میں ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے، جس میں اللہ کے دو صفاتی نام یعنی رحمن ورحیم بھی شامل ہیں، یعنی بڑامہربان نہایت رحم والا ہے۔ اس طرح بندوں کے کیرکٹر پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں:
”عملی طور پر ایک مسلمان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں امن وسلامتی کا پیغامبر بنے نہ کہ تشدد، نا انصافی اور ظلم و زیادتی کاسفیر۔ چنانچہ اسے حکم دیاگیا کہ ہر روز تشہد کے اندر بار بار ان الفاظ کی تکرارکرے۔ ”السّلام علیک أیُّہا النبي ورحمة اللّٰہ وبرکاتہ، السّلام علینا وعلیٰ عباد اللّٰہ الصالحین“۔ یہی نہیں بلکہ نماز کا اختتام ہی ان الفاظ پر ہوتا ہے ”السّلام علیکم ورحمة اللّٰہ“(۱)

اسلام میں رحم کی ترغیب وترہیب:
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”الرَّاحِمُوْنَ یَرحَمُہُمُ الرَّحمٰن“
(مہربانوں پر خدائے مہربان رحم کرتا ہے۔)
کسی شاعر نے کیاخوب کہا ہے۔
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر
روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا“۔ (مشکوٰة شریف ۲/۴۲۵)

اسلام میں امن وسکون کی فضیلت اور ظلم کی بیخ کنی کی ہدایت:
اسلام میں امن وسکون کی اتنی فضیلت بیان کی گئی ہے اور ظلم وستم سے اس روئے زمین کو پاک کرنے کی اتنی واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ دیگر مذاہب عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں:
”اسلام نے پہلی بار دنیا کو امن ومحبت کا باقاعدہ درس دیا اور اس کے سامنے ایک پائیدار ضابطہٴ اخلاق پیش کیا، جس کا نام ہی ”اسلام“ رکھا گیا یعنی دائمی امن وسکون اور لازوال سلامتی کا مذہب۔ یہ امتیاز دنیا کے کسی مذہب کو حاصل نہیں۔ اسلام نے مضبوط بنیادوں پر امن وسکون کے ایک نئے باب کاآغاز کیا اور پوری علمی واخلاقی قوت اور فکری بلندی کے ساتھ اس کو وسعت دینے کی کوشش کی۔ آج دنیا میں امن وامان کا جو رجحان پایا جاتاہے اورہر طبقہ اپنے اپنے طور پر کسی گہورائہ سکون کی تلاش میں ہے، یہ بڑی حد تک اسلامی تعلیمات کی دین ہے۔“
”اسلام ظلم کوکسی حالت میں اور کسی بھی نام اور عنوان سے برداشت نہیں کرتا۔ وہ اپنے فرزندوں کو جان، مال ومذہب، عقیدہ، وطن، مذہبی مقدسات، شعائر دین، مساجد ومعابد وغیرہ کی حفاظت، ان کے دفاع اور کسی بھی طرح کی تعدی سے ان کے بچاؤ کی تدبیر کرنے کا ناگزیر حکم دیتا ہے اور ان ساری سازشوں کو ناکام بنادینے کا انہیں پابند بناتا ہے جو خود ان کے خلاف کی جائیں یا انسانیت کے خلاف روبہ عمل لائی جائیں۔“
اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، بلکہ اس کے برعکس یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ اسلام دنیا میںآ یا ہی ہے ظلم کے استیصال کے لیے، اس کی بیخ کنی کے لیے، خواہ وہ کسی بھی سطح پر موجود ہو۔ حدیث میں ہے:
”مَن آذی الناس آذی اللّٰہ“ (جس نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، اللہ کو تکلیف پہنچائی)
ظاہر ہے اللہ کی ناراضگی کوئی مردمومن گوارہ نہیں کرسکتا۔ حدیث بالا میں کسی مذہب وملت کی قید نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دائرہ ساری انسانیت پر محیط ہے:
”یہ واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات میں امن وسلامتی کا عنصر زیادہ ہے، وہ تمام معاملات میں ان پہلوؤں کو اختیار کرنے پر زور زیادہ دیتا ہے جن میں نہ خود کوئی زحمت اٹھانی پڑے اور نہ دوسروں کو کوئی تکلیف ہو، اللہ تعالیٰ نے مومنین کا یہ وصف بیان کیا ہے وہ تسامح اور صلح جوئی کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جبکہ فریق ثانی سے زیادتی اور جھگڑے کا اندیشہ ہو۔“
”لاضرر ولاضرار“ اسلام کا وہ لائحہ عمل ہے، جس کی روشنی میں ممکنہ حد تک قوت اور اثرات کے ذریعہ مظلوم کی دستگیری کی جائے اور ظالم کو ظلم سے روک دیا جائے۔ مظلوم کی حمایت میں حسب ذیل حدیث میں کسی قدر واضح ہدایت موجود ہے:
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے، اللہ تعالیٰ تہتر مغفرت کا انتظام فرماتا ہے، جن میں سے صرف ایک مغفرت اس کے تمام معاملات سدھارنے کے لیے کافی ہے۔ مابقیہ ۷۲ مغفرتیں اس کے لیے آخرت میں رفع درجات کا ذریعہ بنیں گی۔
دوسروں پر رحم نہ کرنے والا اللہ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔ چنانچہ:
”عن جریر بن عبد اللّٰہ قال: قال رسول اللّٰہ، لا یرحمُ اللّٰہ من لا یرحم النّاس“ (بخاری:۲/۸۸۹)
(حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ لوگ اللہ کی رحمت سے خصوصی طور سے محروم رہیں گے، جن کے دلوں میں دوسروں کے لیے رحم نہیں اور جو دوسروں پر ترس نہیں کھاتے)
”اس حدیث میں الناس کا لفظ عام ہے جو مومن و کافر اور متقی وفاجر سب کو شامل ہے اور بلاشبہ رحم سب کا حق ہے۔“
اسلام نے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر احسان کو ترجیح دیا ہے:
”خلق خدا اللہ کی عیال کے مانند ہیں، لہٰذا اللہ کی نظر میں سب سے پسندیدہ وہ شخص ہے،جو اللہ کی مخلوق پر احسان کرنے والا ہو۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”عن عبد اللّٰہ بن عمر بن العاص ان النبی قال: من قتل عصفوراً فما فوقہا بغیر حقہا الاّسألہ اللّٰہ عن قتلہ “
(جس نے کسی گوریا یا اس سے بھی چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کیاتو اس سے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ بازپرس کریں گے)

اسلام کی رحمت عمومی:
”رحمت دراصل اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے اور رحمن ورحیم اس کے خاص نام ہیں اور جن بندوں میں اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا جتنا عکس ہے، وہ اتنے ہی مبارک اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اتنے ہی مستحق ہیں اورجو جس قدر بے رحم ہیں، وہ اللہ کی رحمت سے اسی قدر محروم رہنے والے ہیں۔“
جس طرح سورہ فاتحہ کی شروعات ہی رحمتِ عالم کے اعلان کے ساتھ ہوتی ہے، یعنی ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلمین الرّحمٰنِ الرّحیم“ (سب تعریفیں اس پروردگار کے لیے ہیں جو سارے جہان کا پالنہار ہے، مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے)۔ اس آیت میں خداکو رب العالمین کہاگیا ہے، صرف رب المسلمین نہیں۔ جس سے اسلام کے فیض عمومی کا اندازہ بلاتکلف لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن نے نہ صرف رب کائنات کو بلکہ پیغمبرآخرالزماں کی تخصیص وتحدید بھی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں کی، بلکہ اس کا دائرہ سارے عالم کے لیے وسیع کرتے ہوئے فرمایا:
”وَمَا اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِیْن“
(ہم نے آپ کو سارے عالم کے لیے رحمت ہی بناکر بھیجا ہے)
چونکہ اللہ رب العزت کی ذات رحمن ورحیم ہے اور پیغمبر آخرالزماں رحمة للعالمین لہٰذا دونوں کی انتہائے رحمت کے نتیجے میں اسلامی تعلیمات محبت وشفقت، رحمت ورافت کا سرچشمہ بن گئیں۔ اسلامی تعلیمات پوری کائنات کے لیے امن وسلامتی، اتحاد واتفاق، احترام آدمیت، ہمدردی وغم خواری، وحدت ومساوات، رحم وکرم، عفو ودرگزر، صلح وآشتی، عدل وانصاف، سکون واطمینان اور پرامن بقائے باہم لامنتاہی ثابت ہوئیں۔ مذکورہ خوبیاں جن سے اسلام متصف ہے، دراصل امن کے لیے خمیر کی حیثیت رکھتی ہیں، جن سے صرف نظر کرکے امن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام کی انہیں گوناگوں خوبیوں نے اسے مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب بلااکراہ پھیلادیا، جس میں جورو تعدی یا شمشیروسنان کا قطعاً کوئی دخل نہیں۔ جن لوگوں نے تاریخ اسلام کا معروضی مطالعہ کیا ہے اور معاندانہ کے بجائے منصفانہ ذہن ودماغ کے حامل ہیں، انہیں اس کا دل سے اعتراف ہے کہ اسلام اپنی مذکورہ بالا خوبیوں کے سبب ہی دنیا میں پھیلا اور آج بھی تمام تر مخالفتوں کے باوجود اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ جس کا برملا اظہار مستشرقین نے بھی بار بار کیاہے، مثال کے طور پر مشہور مورخ مسٹرولز رقم طراز ہیں:
”اسلامی تعلیمات نے دنیا میں منصفانہ، شریفانہ طرز عمل کے لیے عظیم روایات چھوڑی ہیں اور وہ لوگوں میں شرافت اور رواداری کی روح پھونکتی ہیں۔ یہ تعلیمات اونچی انسانی تعلیمات ہیں اور قابل عمل ہیں۔ ان تعلیمات نے ایسی سوسائٹی کو جنم دیا، جس میں اس کے پیشتر کی سوسائٹی کے مقابلے میں سنگدلی اور اجتماعی ظلم کم سے کم رہا۔ اسلام نرمی، رواداری، خوش اخلاقی اور بھائی چارہ سے پھیلا ہے۔“

عفودرگزر:
عفوودرگزر قیام امن کے لیے کس قدر ناگزیر ہے، یہ کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ سرزمین عرب پر خاص طور سے قتال وجدال کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس وقت رکا جب آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم طلوع ہوا ورنہ پشتہا پشت بدلے لینے کی روش برقرار رہتی تھی، لیکن سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آئندہ کے لیے ختم کردیا اور اولیں قربانی خود پیش کی اور اپنے خاندان پر ہونے والے مظالم کو فراموش کردیا اور ان کے اوپر بیک جنبش قلم خطِّ عفو کھینچ دیا۔ جہاں تک عفوودرگزر کا سوال ہے:
”ارباب سیر نے تصریح کی اور تمام واقعات شاہد ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا․․․․ قریش نے آپ کو گالیاں دیں، مارنے کی دھمکی دی، راستوں میں کانٹے بچھائے، جسم اطہر پر نجاستیں ڈالیں، گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا، آپ کی شان میں گستاخیاں کیں، نعوذ باللہ کبھی جادوگر، کبھی پاگل، کبھی شاعر کہا، لیکن آپ نے کبھی ان کی باتوں پر برہمی ظاہر نہیں فرمائی۔“
انسان کے ذخیرئہ اخلاق میں سب سے کم یاب، نادرالوجود چیز دشمنوں پررحم اور ان سے عفوودرگزر ہے، لیکن حاملِ وحی ونبوت کی ذات اقدس میں یہ جنس فراواں تھی۔ دشمن سے انتقام لینا انسان کا قانونی فرض ہے، لیکن اخلاق کے دائرئہ شریعت میں آکر یہ فرضیت مکروہ تحریمی بن جاتی ہے۔ تمام روایتیں اس بات پر متفق ہیں کہ آپ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ دشمنوں سے انتقام کا سب سے بڑا موقع فتح حرم کا دن تھا جب کہ وہ کینہ خو سامنے آئے جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے تھے اور جن کے دستِ ستم سے آپ نے طرح طرح کے اذیتیں اٹھائی تھیں، لیکن ان سب کو یہ کہہ کر چھوڑدیا:
”لا تثْریب علیکم الیوم فانتم الطَّلَقَاءَ“ (تم پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو)
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عربوں جیسی وحشی اور جنگجوقوم کو اس فضا سے نکال کرامن اور بھائی چارہ کا درس دیا۔ اگر انھوں نے کبھی جنگ بھی لڑی تو اس وقت، جب انھیں مجبور کیاگیا یا جب قیام امن کے لیے ناگزیر ہوگئی۔“

اسلام میں رواداری اور حقوق وسلوک:
قیام امن میں رواداری، حسن سلوک اور حقوق کی پاسبانی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس امر کے وضاحت کی ضرورت نہیں کہ ان تینوں بنیادی امور کے محاذ پر بھی اسلام سب سے اعلیٰ وارفع منہاج فراہم کرتا ہے۔ اسلام بلاشبہ نہ صرف اپنوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی رحیم وشفیق بننے کی ہدایت کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ“
(تم دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرو جیساکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھلائی کرتاہے)
لیکن اس سلسلے میں بھی وہ جادئہ اعتدال سے ہٹنے کی اجازت نہیں دیتا:
”اسلام راواداری، محبت، شائستگی، شرافت اورمعقولیت کی تعلیم ضرور دیتا ہے، لیکن ایسی عاجزی اور مسکینی کی بھی تعلیم نہیں دیتا کہ اس کے پیروہرظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہ جائیں۔“
نہ حلوا بن کہ چٹ کرجائیں بھوکے نہ کڑوا بن کہ جو چکھے سو تھوکے
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو اللہ کی بندگی کے لیے شرط اولیں قرار دیا ہے:
”اگر تمہیں خدا کی بندگی کرنی ہے تو پہلے اس کے بندوں سے محبت کرو۔“
”اسلام دین رحمت ہے،اس کا دامن محبت ساری انسانیت کو محیط ہے، اسلام نے اپنے پیروکاروں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ دیگر اقوام اور اہل مذاہب کے ساتھ مساوات، ہمدردی، غمخواری ورواداری کا معاملہ کریں اوراسلامی نظام حکومت میں ان کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی، بھیدبھاؤ اور امتیاز کا معاملہ نہ کیا جائے۔ ان کی جان ومال عزت وآبرو، اموال اور جائیداد اورانسانی حقوق کی حفاظت کی جائے۔ ارشاد ربانی ہے:
”لا ینہٰکم عن الذین لم یُقاتلوکم فی الدین ولم یُخرجوکم من دیارکم ان تبرّ و ہُم وتُقسطوا اِلیہِم، ان اللّٰہ یُحبُّ المقسطین“
(اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوں سے جو لڑے نہیں دین کے سلسلے میں اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ ان کے ساتھ کرو بھلائی اور انصاف کا سلوک، بیشک اللہ چاہتا ہے انصاف والوں کو)
اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ بے ضرر کافروں سے بغض وعداوت رکھی جائے، یہ فعل اسلام کی نظر میں غیرمطلوب اور انتہائی ناپسندیدہ ہے۔
اسلام نے کفارِ مکہ، یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ منافقوں کے ساتھ بھی کھل کر حسن سلوک کی ہدایت دی ہے۔ اس نے جہاں رشتہ داروں، قرابت داروں کے حقوق متعین کیے ہیں، وہیں قیدیوں، عام انسانوں اور غیرمسلم رعایا(ذمیوں) کے حقوق کی بھی وضاحت کی ہے۔

جہاد اور اسلام:
جہاد کا حکم شریعت مطہرہ میں خالق ارض وسما نے بڑی مصلحتوں کے پیش نظر بڑے قیدوبند اور اصول وضوابط کے ساتھ دیا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی یہ خوبصورت دنیا فتنہ وفساد سے پاک ہوکر امن وامان کا گہوارہ بن جائے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ساری انسانیت کو اس نے اپنی خاندان قرار دیا ہے اور من آذی النَّاس آذی اللّٰہ فرماکر شریعت نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت عمومی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ جہاد کے درج ذیل چند بنیادی مصالح سے اس کی حکمت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں:
”(۱) جہاد لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کی عزت اور ناموس کی حفاظت کے لیے ہے․․․․ تلوار، تیر اور خنجر سے کوئی عقیدہ قلب میں نہیں اترسکتا․․․․ بلکہ اگر اسلام کو تلوار اور تیر سے پھیلایا جاتا تو اسلام پھیلنے کے بجائے کمزور ہوتا اور لوگ اپنے اس قاتل مذہب کے دشمن بن جاتے۔
(۲) بعثت کے بعد مکہ مکرمہ میں۱۳ سال آپ کا قیام رہا۔ اسی زمانے اور اسی حالت میں صدہا قبائل اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے․․․․ نجاشی بادشاہ حبشہ حضرت جعفر کی تقریر سن کر مشرف باسلام ہوا، ہجرت سے قبل مدینہ کے ۷۰ آدمیوں نے مقام منیٰ میں آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ مصعب بن عمیر کے وعظ سے ایک ہی دن میں تمام قبیلہ بنی عبدالاشہل مدینہ منورہ میں مشرف باسلام ہوا، بعد ازاں باقی ماندہ انصار بھی مشرف باسلام ہوئے۔
یہ سب قبائل جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہی مسلمان ہوئے اورابوبکر صدیق،فاروق اعظم، عثمان غنی، علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین، جنھوں نے چہاردانگ عالم میں اسلام کا ڈنکا بجایا، یہ بہادرانِ اسلام بھی آیت جہاد وقتال کے نازل ہونے سے پہلے ہی اسلام کے حلقہ بگوش بن چکے تھے۔
(۳) نجران اور شام کے نصاریٰ کو کسی نے مجبور نہیں کیاتھا․․․․ ہر طرف سے وفود کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اسلام قبول کرتے۔ جبر تو درکنار آپ نے تو ان کو بلانے کے لیے بھی کوئی قاصد نہیں بھیجا تھا۔
(۴) مسئلہ جہاد اسلام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ انبیاء سابقین کی شریعت میں بھی یہ مسئلہ موجود تھا۔
(۵) سلاطین اسلام اگر لوگوں کو جبراً مسلمان بناتے یا اس قسم کی تدبیریں کرتے جو عیسائیت کے لیے کی گئیں اور کی جارہی ہیں تو کم از کم اسلامی قلم رو میں عیسائیوں کا نام ونشان بھی نہ ہوتا۔“
ہفت روزہ ٹائمز مجریہ یکم اکتوبر ۲۰۰۲/ میںآ رم اسٹرانگ کا ایک مضمون ”اسلام کاحقیقی پر امن چہرہ“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے، جس میں اس نقطئہ نظر کی تردید کی گئی ہے کہ اسلام تشدد پسند دین ہے۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ:
”اسلام میں اگر ان واقعات کے لیے کوئی دلیل ہوتی جو ۱۱/دسمبر کو پیش آئے تو اسلام کبھی دنیا کا تیزی سے پھیلنے والا مذہب نہ ہوتا۔“

حاصل کلام:
یاد رکھئے حکومت کفر کے ساتھ چل سکتی ہے، ظلم کے ساتھ نہیں، کیونکہ
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں
دنیا میں اتنی طویل المدتی اسلامی حکومتیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ انھوں نے ظلم وستم کے بجائے انصاف اور عدل کو اپنا شعار بنایا اور ملک کے باشندوں کو بلاتخصیص مذہب وملت ہمیشہ ایک آنکھ سے دیکھا، ان کے ساتھ کسی طرح کا امتیاز روا نہیں رکھا۔ انھوں نے اسپین میں اپنے آٹھ سو سالہ دور حکومت میں شمشیر کا استعمال نہیں کیا۔ پورا خطّہٴ عرب گزشتہ چودہ صدیوں سے عربوں کے زیرنگیں ہے اور وہاں کم وبیش ڈیڑھ کروڑ قبطیوں (Christian Captic) کی موجودگی اس حقیقت کی غماز ہے کہ اگر مسلمانوں نے اسلام کی اشاعت میں تلوار کا سہارا لیا ہوتا یا بزور قوت مسلمان بناتے تو آج قبطیوں کا وہاں نام ونشان بھی نہ ہوتا۔ دور کیوں جائیے خود ہندوستان کو دیکھئے، جہاں آج غیرمسلموں کا تناسب ٪۸۰ ہے، اس ملک پر مسلمانوں نے ہزار سال (محتاط اندازے کے مطابق مستحکم حکومت ۸۰۰ سال) حکومت کی۔ اگر حکمرانوں نے جبر واستبداد، شمشیر وسنان کو روا رکھا ہوتا تو ایک بھی غیرمسلم نظر نہ آتا۔
بلاشبہ:
”مسلمانوں ہی کے ذریعہ آج پھر اس دنیا میں امن وامان پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام اپنے حسن اخلاق اوراپنے ہمہ گیر نظام امن سے دنیا کو پھر امن سے بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اورامیر، غریب، کمزور اور قوی کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت رکھتا ہے۔“(۱۴)

خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں امن کا تصور اظہر من الشمس ہے، کیا بلحاظ نظریہ (Theory) اور کیا بلحاظ عمل (Practice) ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں