اسلامو فوبیا کا شکار فرانس اور۔۔۔ 16

اسلامو فوبیا کا شکار فرانس اور۔۔۔

56 / 100

دنیا میں گذرے پچھلے پندرہ بیس سالوں سے اسلام کو دنیا کے اندر خطرناک اور خونخوار بنیاد پرست دین کے طور پر دنیا کے چند ممالک نے اپنے مطالب کی بجا آوری کے لئے بنا کر پیش کیا جس میں مسلم ممالک میں موجود اُن مفاد پرست ممالک کے لے پالکوں نے بھی اہم کردار ادا کیا،جی ہاں ،اب تو ایسا لگنے لگا ہے کہ پتھر اُٹھاؤ نیچے سے دو چار سیکیولر ،لبرل قسم کے ملک سے اپنی محبت کا دم بھرتے غداران مملکت اور ڈالروں کے عیوض دشمنان دین کے ہاتھوں اپنے اسلامی تشخص کی دھجیاں اُڑانے والے بے ضمیر سوداگر ضرور نکل آئیں گے جن کو صرف ڈالروں سے محبت ہوتی ہے جن کا دین صرف ڈالر ہے ، جن کا سُکھ چین صرف کاغذ کے اُن ٹکڑوں سے وابستہ ہوتا ہے ۔
جن کی خاطراُن کو اپنی ماں بہن یا بیٹی بھی بیچنی پڑ جائے تو یقین جانیں وہ اُس سے بھی دریغ نہیں کریں گے ،اور پھر اس ملک کی مٹی ،سوہنے پاکستان کی دھرتی بھی تو ہماری ماں ہے ، تو سوچیں جس نے اس دھرتی کا سودا دشمنان دین سے کیا تو کیا اُس نے اپنی ماں کو دشمنوں کے ہاتھوں نہیں بیچ دیا ؟وہ بھی اپنی انا کی خاطر یا کے پھر چند ٹکوں کی خاطر ،ایسے ہی لوگ ہمارے معاشرے بلکہ آج کے جدید معاشرے کے وہ ناسور ہیں جو کھاتے پیتے اس ملک کا رہے ہیں اب ڈالروںکے عیوض اس ملک کو بدنام کردینے میں دنیا کے اُ ن ممالک کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں جو نجانے کیوں ہر مرتبہ پاکستان اور پاکستان کی غیور عوام ہی کو نشانہ باننے کے در پہ نظر آتے ہیں ۔انہی میں کچھ ایسے بھی ہیں جو پاکستان کو شدت پسندی کے ساتھ جُڑا دیکھنا چاہتے ہیں ،جن کا دن رات بس ایک ہی کام ہے کہ دنیا کے اندر اسلامی معاشرہ کو بدنام کردیا جائے کہ مسلمان جو بھی ہے دہشت گرد ہے ،اس دنیا کا ہر مسلمان بنیادی طور پر بنیاد پرست ہے ،لیکن اصل میں کہانی کچھ اور ہی ہے بنیاد پرست ہرگز مسلمان نہیں ہیں کیوںکہ اسلام کا بنیادی ڈھانچہ ہی امن اورصبر وبرداشت پر رکھا گیا ہے،رواداری پر رکھا گیا ہے ،محبت اور خلوص پر رکھا گیا ہے ،اسلام نے آج تک کبھی بھی دیگر مذاہب پر اپنے کسی بھی دور میں کسی بھی قسم کی زبردستی نہیں کی جس کی بہترین مثالیں آپ لوگوں کے سامنے موجود ہیں۔
انگریز لکھاریوں اور تاریخ دانوںنے اپنی بہتریں کوششیں کیں اور اس کھوج میں اپنا دن رات ایک کیا کہ شائد پچھلے گذرے چودہ سو سالوں پر محیط اسلامی فتوحات اور لشکر کشیوں کے ادوار میں کبھی مسلمانوں نے کسی دیگر مذہب کے علاقے کو فتح کرنے کے بعد وہاں کی عوام پر زور زبردستی کی ہو ،جبری مذہب کی تبدیلی پر لوگوں کو راغب کیا ہو ،قتل عام کیا ہو ،بچوں کو نیزوں پر اُچھالاہو ،کسی بھی مذہب کے لوگوں کو اُن کی عبادات سے روکا ہو ،اُن کی عبادت گاہیں مسمار کی گئی ہوں ،اُ ن پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے ہوں ، نہیں ناکام ہو گئے تمام دنیا کے تاریخ دان حیرت ذدہ رہ گئے حضرت عمر ؓ کی فتوحات اور اُن کی رواداری کو دیکھ کر ، محمد بن قاسم کی سندھ کی فتح کے بعد ہندو معاشرہ سہم گیا تھا کہ اب کیا ہوگا راجہ داہر جس نے سندھ کی غریب عوام کا جینا محال کیا ہوا تھا،اس استحصال شدہ غریب عوام کو جب محمد بن قاسم جیسا انسان میسر آیا تو اُن معاشرہ کے پسے ہوئے لوگوں نے محمد بن قاسم کو انسان ماننے سے ہی انکار کر دیا اور برملہ کہا کے یہ دیوتا کا اوتار ہے اور جس کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد دو سو سال تک سندھ کی عوام بُت بنا کر محمد بن قاسم ؒکی پوجا کرتے دکھائی دیئے ، فرانسیسی مسٹر میکرون اور مودی سمیت پوری دنیا سوچے کیوں ۔
فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح ؒاستنبول کی فتح کے بعد جب قسطنطنیہ کی عوام ڈر کر ایک بڑے حال میں جا چھپی کہ یقینا اب ہم سب کا قتل عام ہوگا ،کیوں کہ اُن کے معاشرہ میں ایسے ہی ہوتا چلا آیا تھا جب کوئی قوم سرنڈر نہیں کرتی تھی اور جنگ پر آمادہ رہتے ہوئے ہار جاتی تھی تو فاتح ہمیشہ ہی سے عورتوں بچوں کو یرغمال بنا لیا کرتے تھے ،غلام بنا لیا کرتے تھے ،جوانوں کا قتل عام کیا جاتا تھا اور ہر طرف تباہی وبربادی مچا دی جاتی تھی لیکن یہ کیا ہوا ؟جب سلطان محمد فاتح ؒاُس حال میں داخل ہوتے ہیں اور ایک بچہ بھاگتا ہوا سلطان کے پاس آتا ہے اور اُس کی ماں سہم کر اپنی آنکھیں موند لیتی ہے کہ میرا بچہ اپنی زندگی کی بازی ہار گیا لیکن یہ کیا بچہ سلطان کی گود میں ہے اور سلطان اُس بچہ کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہیں ،حیرت کے عالم میں ڈوبے ہوئے قسطنطنیہ کی عوام کو اپنی سماعتوں پر اُس وقت یقین نہیں آتا جب سلطان محمد فاتح ؒ کے الفاظ اُن کی سماعتوں سے ٹکراتے ہیں،، اے قسطنطنیہ کے لوگو میں سلطان محمد فاتح ؒ آج تم سب کی جان ومال کی حفاظت کی قسم کھاتا ہوں ،،اور یہ وہ الفاظ تھے جو تاریخ میں امر ہوگئے، آفرین اس مجاہد اسلام پر ۔ان کے علاوہ دیگر بہت سی مثالیں ہیں جو اگر میں آج آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنے بیٹھ جاؤں تو یہ کالم ضرور ایک کتاب کی صورت میں پیش کرنا پڑ جائے گا ۔
دوسری طرف جب آپ کے تاریخ دان اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہیں تو اُنہیں قتل وغارت گری اور بربریت کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ،آپ لوگوں کی تاریخ شروع سے ہمیشہ سے اخلاقی زوال کا شکار نظر آتی ہے ،اسی لئے آپ کے تاریخ دانوں نے بھرپور کوششیں کیں کہ کسی طرح اسلامی تاریخ کو مسخ کیا جائے لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے اور انشاء اللہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے،اسلام تو اپنے وجود سے لے کر آج تک دنیا کے دیگر مذاہب کے علمبرداروں کو ہضم نہیں ہوا اور لگتا ہے کہ کبھی ہوگا بھی نہیں۔ اہل کتاب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے ، پر امن دین ہے ،لیکن اگر یہ سب تسلیم کر لیا جائے تو پھر زندگی کی اُن تلخ حقیقتوں سے جوجتے دیگر مذاہب کے عوام کے سامنے سوال نہ کھڑا ہو جائے گا کہ آخر وہ کیا وجوہات تھیں جن کے طفیل آپ اور آپ کے مختلف مذاہب کے پیروکار اُنہیں بے وقوف بناتے چلے آئے ہیں جن کے دماغوں میں ہمیشہ ہی سے اسلام دشمنی کا بیج بویا گیا ،جن کا اسلام کے خلاف بچپن ہی سے برین واش کیا گیا جن کو سکھایا گیا کہ مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں جن کو کبھی اپنی کالی تہذیب نہیں دکھائی گئی ،جن کو کبھی یہ دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا کہ اسلام کی سچائی ہے کیا اور ماضی میں دیگر مذاہب کے رویے اسلام کے ساتھ کیا رہے ہیں۔
جن کو اسپین میں تاریخی اسلامی حکومت کے سات سو سالہ افسوس ناک خاتمہ اور ملکہ اذابیلہ اور فرڈیننڈ کے ہاتھوں مسلمانوں کا وہ قتل عام کبھی نظر نہیں آیا جن کو سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں سمندر کی طوفانی موجوں کے سپرد کر دیا گیا تھا ،جن کی حکومت کے خاتمے کے فورا بعد وہاں کی مسجدوں کو گھوڑوں کے اصطبل میں تبدیل کر دیا گیا تھا ،جنہیں اپنی عبادات سے روک دیا گیا تھا ،حد تو یہ ہو گئی تھی کہ جہاں مسلمان اپنے دین اسلام سے جُڑا نظر آٹا تھا فوراً قتل کردیا جاتا تھا ،بچے قتل کر دئے گئے عورتیں باندیاں بنا کر بازاروں میں بیچ دیں گئیں جہاں آج بھی مسجد قرطبہ پر تالے پڑے ہیں ،میں پوچھنا چاہتا ہوں دیگر مذاہب کی اُن عوام سے جو آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے اور کان ہوتے ہوئے بہرے پن کا مظاہرہ کئے چلے آرہے ہیں ،سابقہ یوگوسلاویہ میں جس طرح انسانیت کا قتل عام مذہب کے نام پر کیا گیا تھا ،یورپی تاریخ دانوں کی تاریخ پر ایک بدنما دھبہ کی مانند موجود ہے ،اسی اسلام دشمنی میں ہندو بھی اپنے آقاؤں سے بازی لے جانے میں مشغول نظر آتے ہیں وہاں کی کیا ہی بات کریں ، بات ہم جب اخلاقیات کی کرتے ہیں تو ان ہندوؤں نے تو آخیر ہی کردی ہے ۔
مسلمان تو چھوڑیں اپنی ہی قوموں کا استحصال جس طرح یہ ہندو بنئے کرتے ہیں خدا کی پناہ دلت آج صدیاں گذرنے کے باوجود ہندوستان میں زندگی سے جوجتے نظر آتے ہیں جن پر ہندوستان کی زمیں تنگ کردی گئی ہے ،جو اصل میں ہیں تو ہندو ہی لیکن ذات پات اور برادری کو لے کر جس انداز میں ان غریب دلتوں کی بستیاں تباہ کردی جاتی ہیں بیان سے باہر ہیں ،مسلمان تو ویسے ہی مودی سرکار کی نظر میں دشمن نمبر ون ،کیا دنیا اندھی ہو چکی ہے جن کو آج کی دنیا کا ہر مسلمان دہشت گرد تو نظر آتا ہے لیکن صرف ایک گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کا بے دریغ قتل نظر نہیں آتا ،ابھی کچھ دنوں پہلے دو عورتوں کو جس انداز میں ہندوستانی معاشرے میں درندگی کے ساتھ اپنے ساتھ گوشت لے جانے کی پاداش میںسر عام سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا انتہائی قابل افسوس عمل ہے کیا یہ ہندو بنیاد پرستی نہیں ،کیا دنیا میں سب سے بڑا بنیاد پرست ہندو نہیں جو کبھی شیوسینا کا روپ دھار کر اپنے مخالف دین کے نہتے معصوم بے گناہ لوگوں کا قتل عام کرواتا ہے تو کبھی اونچی ذات کا پنڈت بن کر نچلی ذات کے لوگوں کا جینا محال کئے ہوئے ہے ،کیا لوگ مودی کی سربراہی میں کئے گئے گجرات کا قتل عام بھول گئی، لیکن افسوس اس سب کے باوجود بھی دنیا کو صرف اسلام کے اندر ہی دہشت گردی کیوں نظر آتی ہے ۔
کشمیر کا ہر شہید ہونے والے کا کفن بھی چیخ چیخ کر دنیا کو صدائیں دے رہا ہے آؤ اور دیکھ لو ہندوؤں کی دہشت گردی ، آئیں اور دیکھیں مودی آج کی اس دنیا کا کتنا بڑا دہشت گرد ہے اسلام کا نام بدنام کرنے والے ذرا کچھ دیر کے لئے اپنی آنکھیں کھولیں اور آج کی اس دنیا کی کھلی اور کڑوی سچائی کا مطالعہ ضرور کریں اور دیکھیں کہ اصل میں اخلاقیات کا فقدان کہاں کہاں نظر آتا ہے اور اصل میں اس دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کون ہیں اور وہ کون ہیں جن کو اپنے عبادت خانے کی ننوں کا پردہ تو بھا جاتا ہے لیکن جس معاشرہ کو ایک مسلم خاتون کا پردہ ہرگز نہیں بھاتا، کیوں اہل فرانس اور یورپ کے دیگر ممالک میں اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی عبادت گاہیں بند کی جارہی ہیں ،اُن پر یورپ کی زمین تنگ کی جارہی ہے کیا یہ اہل یورپ کی بنیاد پرستی نہیں ؟ کیا فرانس اپنے ملک میں اسلام دشمنی کا بیج بوتے ہوئے عیسائی بنیاد پرستی کا بیج نہیں بو رہا ،پاکستان تو کیا دنیا کے کسی بھی اسلامی ملک میں کبھی کسی نے کسی کلیسا پر پابندی نہیں لگائی اور اگر غلطی سے کبھی ایسا کوئی قدم اُٹھا بھی لیا جاتا تو پوری دنیا بشمول یورپ اور خاص کر فرانس حکومت پوری دنیا کو اپنے سر پر اُٹھا لیتے اور ہا ہا کار مچا دیتے کہ دیکھو دیکھو پاکستان کی مذہبی اور اسلامی بنیاد پرستی کو دیکھو ۔
لیکن مسلمانوں کی درجنوں مسجدیں بند کر دینے اور اُن پر تالا لگا دینے سے کسی بھی یورپی بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے کان پرجوں تک نہیں رینگی ،کیا یہ یورپی دہشت گردی نہیں ، کیا یہاں بنیاد پرستی کے مفہوم تبدیل ہو گئے ہیں ؟ اسرائیل جو روزانہ مسلمانوں کو اُن کی عبادت گاہوںمیں جانے سے روک دیتا ہے کیا یہ یہودی بنیاد پرستی نہیں ،اور اگر یہ جوسب کچھ آپ لوگ کر رہے ہیں بنیاد پرستی اور دہشت گردی نہیں تو یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ آپ کا آج کادنیا کو نظر آنے والا کامیاب معاشرہ دراصل اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے ،آپ اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں اسلام کی سچائی آپ لوگوں کو اندر سے کھائے چلی جا رہی ہے آپ لوگوں کے آج کے معاشرے کی بے راہ روی آپ لوگوں کو پریشان کئے ہوئے ہے آپ کی روحیں بے چین ہیں کیوں کہ قرار صرف اور صرف اسلام جیسے سچے دین ہی سے وابستہ ہے ، جس کی حقیقی اور کھلی سچائی کو تسلیم کرنے کے بجائے آپ ہمیشہ سے اخلاقی زوال کا شکار بنتے رہے تھے اور آج بھی آپ کا جدید ترین یورپی معاشرہ مجھے اخلاقی زوال کا شکار نظر آتا ۔ اللہ نگہبان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں