اسرائیل کی پراکسی وار 270

اسرائیل کی پراکسی وار

بسا اوقات پراکسی وار کا شوشا چھوڑا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں پراکسی وار لڑ رہے ہیں۔ فلاں، فلاں کے پراکسیز ہیں۔ ایسا کہنے والوں کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ جو پراکسیز ہیں، وہ کسی دوسرے کے مفاد میں یا کسی دوسرے کے نمائندے کی حیثیت سے کوئی کام کرتے ہیں۔ اردو، فارسی عربی میں پراکسی کو نیابت کہا جاسکتا ہے۔ عالمی و علاقائی حالات پر یا منظر نامے پر کہتے لکھتے وقت پراکسی وار اور پراکسی گروپ کی اصطلاح استعمال کرنا اب معمول بن چکا ہے۔ اس لئے اس پس منظر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں کون کس کی پراکسی وار لڑ رہا ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فلسطین، لبنان، شام، عراق، یمن، بحرین کی مثالیں موجود ہیں۔ فلسطین پر جعلی ریاست اسرائیل کا مکمل قبضہ ہے۔ البتہ بعض فلسطینی علاقوں پر یونین کاؤنسل یا ضلع کاؤنسل سطح کے ہلکے پھلکے انتظامات محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی انتظامیہ کے حوالے ہیں۔ لبنان کے بعض علاقوں بشمول شبعا فارمز پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ شام کے پہاڑی علاقے جولان پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ فلسطینیوں اور تین عرب ملکوں نے مختلف وقتوں میں اسرائیل سے جنگیں لڑیں ہیں۔ یعنی شام، لبنان و فلسطین اور اسرائیل کے مابین براہ راست تنازعہ ہے۔ اسرائیل ناجائز قابض ہے جبکہ یہ تینوں اپنے مقبوضہ علاقوں کی آزادی چاہتے ہیں۔

نہ صرف یہ تین ممالک بلکہ عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی بھی اسرائیل کو ایک قانونی یہودی ریاست کی حیثیت سے قبول نہیں کرتے۔ کم و بیش پورا عالم عرب اس موقف پر 1948ء سے ڈٹا ہوا تھا۔ 1969ء میں مقبوضہ فلسطین میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے کے ردعمل میں سعودی عرب نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تنظیم کا عارضی صدر دفتر جدہ میں بنایا اور مستقل صدر دفتر بیت المقدس میں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بیت المقدس یعنی مقبوضہ یروشلم، اسی کو فلسطینی عرب ریاست کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔ یہ وہ منظر نامہ تھا کہ جب ایران میں محمد رضا پہلوی شاہ ایران کی حیثیت سے حکمران تھے۔ یاد رہے کہ جب 1978ء میں اسرائیل لبنان میں گھسا، یلغار کی، جنگ مسلط کی، قبضہ کیا، قتل عام کیا، تب لبنان میں حزب اللہ نام کی کوئی تنظیم یا تحریک موجود نہیں تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ 1978ء میں نہ تو ایران میں امام خمینیؒ موجود تھے اور نہ ہی ولایت فقیہ کی حکومت۔ نہ تو کوئی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی موجود تھی اور نہ ہی کوئی قدس فورس۔ عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین جنگیں ہوتیں رہتیں تھیں۔ اسرائیل قبضوں پر قبضے کرتا رہتا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ ایران میں انقلاب آیا، عربوں اور عالم اسلام کی اسی فلسطین دوست خارجہ پالیسی کو ایران نے بھی ریاستی و حکومتی سطح پر اپنا لیا۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیئے۔ یاسر عرفات کی تنظیم آزادی فلسطین کو ایران میں فلسطینی نمائندہ تسلیم کر لیا۔ یعنی شیعہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے سنی عربوں کی پالیسی برائے آزادی فلسطین کو قبول کر لیا اور سنی غیر عرب ممالک میں اس کی پالیسی پاکستان کی فلسطین دوست پالیسی کی طرح ہوگئی۔

اب اگر کوئی یہ کہے کہ لبنان کی حزب اللہ یا فلسطین کی حزب جہاد اسلامی یا شام کی ریاست و حکومت ایران کی پراکسی وار لڑ رہے ہیں تو یہ کھلا جھوٹ ہے۔ یہ جہالت ہے بلکہ خیانت ہے، ظلم ہے۔ ایسا کہنا عدل کے خلاف ہے، کیونکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کی قیادت میں بہت سے ملک اسرائیل کی پراکسی وار لڑتے آئے ہیں۔ آج بھی اس خطے میں امریکی و برطانوی یا نیٹو افواج کی موجودگی اسرائیل کے تحفظ کے لئے ہے۔ اصل میں سوال یہ بنتا ہے کہ جب لبنان میں نہ حزب اللہ تھی اور نہ ایران میں پاسداران تھے، تب امریکا اور فرانس کے فوجی لبنان میں کیا جھک مار رہے تھے!؟ سوال یہ بنتا ہے کہ جب ایران میں ”ملاؤں“ کی حکومت نہیں تھی، تب سعودی عرب میں امریکی کس خوشی میں اڈے بنا کر بیٹھ گئے تھے!؟ سوال یہ بنتا ہے کہ جب ایران میں مغربی بلاک کے پٹھوؤں کا قبضہ تھا، تب اس خطے میں یہ برطانیہ، امریکا اور فرانس کس کو کس سے بچانے کے لئے آئے ہوئے تھے۔

نہر سوئز کے بحران کے وقت بھی ایران میں ایسی کوئی حکومت نہیں تھی، جو آج ہے۔ برطانیہ، فرانس اور اسرائیل مصر سے کیوں لڑ رہے تھے!؟ جمال عبدالناصر تو شیعہ نہیں تھا، اس سے کیوں جنگ کی!؟ اور بہرحال ایران میں تب بھی شیعہ مسلمانوں کی اکثریت تھی تو اس وقت کیوں آل سعود کا تکفیری نظریہ تقیہ کی چادر ڈال کر سوگیا تھا۔ شاہ ایران کے دور حکومت میں بھی تو ایران کا حکمران شیعہ ہی تھا، تو اس وقت کیوں کوئی سپاہ صحابہ نہ بنائی گئی، اس وقت کیوں کافر کافر کے نعرے کی سرپرستی نہیں کی گئی!؟ کیونکہ اس وقت ایران کا حکمران یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کا خاص آدمی تھا، اس لئے سب کچھ اوکے تھا!؟

لبنان، شام، فلسطین سمیت کہیں بھی کوئی بھی ایران کی پراکسی وار نہیں لڑ رہا، بلکہ امریکی قیادت میں جمع بہت سے حکمران اسرائیل کی پراکسی وار لڑ رہے ہیں۔ حزب اللہ ایران کے کسی صوبے کی آزادی کی جنگ نہیں لڑ رہی۔ حماس اور حزب جہاد اسلامی فلسطین خلیج فارس کے لئے جنگ نہیں لڑ رہی۔ شام کی ریاست امریکی بلاک کے پیدا کردہ دہشت گردوں اور نیٹو رکن ممالک کی مشترکہ سازشوں کے خلاف شام کی آزادی و خود مختاری کی جنگ لڑ رہی ہے اور دنیا میں رائج قانون کے تحت غیر ملکی قبضوں کے خلاف قومی مزاحمتی تحریکیں جائز اور قانونی ہیں۔ ریاست پاکستان، سعودی عرب، او آئی سی اور عرب لیگ کو تو خوش ہونا چاہیئے کہ ایران فلسطین کی آزادی کی جنگ میں امت اسلامی کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

ریاست پاکستان کے حکام کو تو اس طرح سوچنا چاہیئے کہ ایران بانی پاکستان محمد علی جناح اور قومی شاعر علامہ اقبال کے نظریات پر عمل کر رہا ہے۔ بانیان پاکستان نے تو عرب فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کو ناجائز قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ حالانکہ علامہ اقبالؒ کی زندگی میں تو نسل پرست یہودی دہشت گرد اسرائیل بنانے میں کامیاب بھی نہیں ہوئے تھے۔ اگر ایک اور زاویہ سے دیکھیں تو ایران نظریہ پاکستان کی پراکسی وار لڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران تو جناح اور اقبال کے پاکستان کی فلسطینی ریاست پر مبنی پالیسی کا مقلد نظر آتا ہے۔ بریگیڈیئر جنرل قاسم سلیمانی کی قبر مطہر پر جاکر کوئی پاکستان کے غیرت مند بیٹوں کی طرف سے سلام کہے کہ حاج قاسم یہ تم تھے، جس نے علامہ اقبال کے اس پیغام کو سمجھا اور ذمے داری ادا کی:
ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق​
ہسپانیہ پہ حق نہیں کیوں اہل عرب کا​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں