قاضی عبدالقدیر خاموش 106

اسرائیل کا باج گزار بنتا ہوا خطہ عرب

39 / 100

اسرائیل کا باج گزار بنتا ہوا خطہ عرب

تحریر: قاضی عبدالقدیر خاموش

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کی دو ٹوک تردید کے باوجود اسرائیلی اور امریکی میڈیا کا اسرائیلی حکومت کی جانب سے باقاعدہ سرکاری اہتمام کے ساتھ لیک کی گئی اس خبر پر اصرار جاری ہے کہ سعودی عرب کے شہر طرب ”نوم” میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی موجودگی میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ایک طویل ملاقات کی ہے، جس میں سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کا معاملہ زیر بحث رہا، لیکن امریکی اور اسرائیلی حکام ولی عہد کو منانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں کہ ”شاہ عبداللہ کے دو ریاستی فامولے کے تحت مسئلہ فلسطین کے حل تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی گنجائش نہیں۔”
ممکن تھا کہ سعودی وزیر خارجہ کی تردید کو اہمیت مل جاتی اور معاملہ ختم ہو جاتا، لیکن خود امریکی وزیر خارجہ کے اس موقف نے تردید کو اڑا کر رکھ دیا ہے، جب انہوں نے کہا کہ ”میں ان دونوں میں سے (سعودی ولی عہد اور اسرائیلی وزیراعظم) ہر ایک کے ساتھ تھا، میں یروشلم میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے ساتھ بھی تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری نتیجہ خیز بات چیت ہوئی، میں یہ بات ان پر چھوڑوں گا کہ اس ملاقات پر گفتگو کریں، جو شائد ان کے درمیان شائد ہوئی ہے یا نہیں۔” اس مبینہ ملاقات کے اگلے ہی روز اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کو قرنطینہ ممالک کی فہرست سے نکال دیا جانا اور گوگل کا اسرائیل اور سعودی عرب کو انٹرنیٹ کے ذریعے سے ملانے کا اعلان کرنا بھی سعودی وزیر خارجہ کے موقف کی نفی کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات جانے کے لیے اسرائیلی پروازوں کو سعودی فضائی حدود کے استعمال کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے اس انٹرویو میں ایک جانب یہ اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب سمیت کئی ممالک ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے تو دوسری جانب دھمکی بھی دی ہے کہ ”جن ممالک کے رہنماء اچھے اور خود مختار فیصلے کریں گے، وہ زیادہ محفوظ اور زیادہ خوشحال ہوجائیں گے۔” یعنی جو ممالک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے، وہ غیر محفوظ ہوں گے۔ اس سب سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اسرائیل کے وزیر تعلیم نے اسرائیلی وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات کو ناقابل یقین کامیابی قرار دیا اور اس پر نیتن یاہو کو مبارکباد بھی دی ہے۔
تمام صورتاحال کو دیکھا جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں، اول یہ کہ ملاقات ”ہوئی ہے”، نہیں بلکہ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔” دوسرے یہ کہ ہمارے عرب دوست اس قدر مجبور ہوچکے ہیں کہ امریکی اور اسرائیلی باقاعدہ ان کا تمسخر بھی اڑا رہے ہیں، وہ جس بات کا پردہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، امریکی اور اسرائیلی اس پردے کو بھی قائم نہیں رہنے دیتے۔ باہم مشاورت اور اتفاق رائے سے کئے گئے فیصلوں میں فریقین معاہدوں سے متصل قبل اور متصل بعد ایک دوسرے کا بھرم نہیں توڑتے، ایسا صرف فاتح اور مفتوح کے درمیان معاہدوں میں ہی ہوتا ہے کہ فاتح مفتوح کی اخلاقی حیثیت کو بھی قائم نہیں رہنے دیتا بلکہ رسوا کرکے مزے لیتا ہے۔ ایسا معاملہ پہلی بار سامنے نہیں آیا بلکہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کر لئے جانے کے اگلے ہی روز اسرائیلی حکام کی جانب سے امارات کے حکمرانوں کی جانب سے کئے گئے دعووں کی دو ٹوک تردید کر دی تھی اور ٹھیک تیسرے روز امریکہ سے اسلحہ کی خریداری کے سودے کی بھی مخالفت کی۔ اب یہی کچھ سعودی عرب کے ساتھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
حیرت تو اس پر ہے کہ آخر مجبوری کیا ہے۔؟ جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ذلت کے ساتھ ساتھ اپنی اخلاقی ساکھ کی دھجیاں اڑائے جانے پر بھی محمد بن سلمان اور محمد بن زید جیسے غیرت عرب کے علمبردار بھی خاموش رہنے پر مجبور ہیں۔ کہیں اس کا تعلق موساد کے سابق سربراہ ڈینی تاتوم کے اس انکشاف سے تو نہیں ہے کہ ”اسرائیلی انٹیلی جنس نے خواتین کے ذریعہ سے عرب قیادت سے تعلقات بنائے اور اسرائیلی قائدین بھی خواتین کے بھیس میں ان سے ملتے رہے”، کہیں یہ بیان بھی کوئی دھمکی تو نہیں۔؟ اگر تاتوم کے اس بیان کو موساد کی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر لوینزے کے مشہور زمانہ انٹرویوز کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو صورتحال المناک بلکہ شرمناک دکھائی دیتی ہے اور بہتر ہے کہ اس پر بات نہ کی جائے۔
ایسا لگتا ہے کہ عرب دنیا اسرائیل کو تسلیم کرنے یا تعلقات استوار کرنے کے لئے فلسطین کے مظلوم عوام پر 74 سال سے ہونے والے دردناک مظالم کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اگر اسرائیلی ناجائز قبضے اور منصفانہ حل کے بغیر ہی تسلیم کیا گیا تو یہ جارحیت اور قبضہ جائز تصور ہوگا۔ دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اسرائیل سے تعلقات کے لئے پاکستان کو بھی گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا اعتراف وزیراعظم پاکستان بھی ایک انٹرویو میں کرچکے ہیں کہ ”اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے پاکستان پر دبائو ہے، لیکن پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور فلسطینیوں کے لئے قابل قبول حل تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔” وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دبائو امریکہ کا ہے یا عرب دوستوں کا، لیکن اہم سفارتی ذرائع پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفارتی عملہ میں کمی، وہاں سے پاکستانی لیبر کو بے دخل کئے جانے اور پاکستانیوں کے لئے ورک ویزہ پر پابندی کو بھی اسی دبائو کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بعض بکائو صحافیوں اور کچھ نام نہاد لبرلز کے ذریعے بھی پروپگنڈہ شروع کیا جا چکا ہے، جس میں ایک جانب معاشی فوائد کا لالی پاپ ہے تو دوسری جانب یہ دلیل کہ سعودی عرب کے بعد پاکستان کے تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ ترکی نے پون صدی قبل اسرائیل کو تسلیم کیا، مگر وہ ”ترک بیمار” کی شناخت سے نہ نکل سکا، مصر نے تسلیم کیا، آج تک اس کی معیشت منہ کے بل گری پڑی ہے۔ ابھی حال ہی میں یو اے ای نے تسلیم کیا ہے، اسے کیا ملا۔؟ ذلت و رسوائی پر مشتمل رویہ اور مفتوح قوم کا سٹیٹس۔ رہا یہ اعتراض کہ سعودی عرب کے بعد پاکستان کا کیا جواز تو اول یہ کہ سعودی عرب نے ابھی تسلیم نہیں کیا، لیکن اگر وہ کر بھی لے تو یہ پاکستان کے لئے حجت نہیں، کیونکہ پاکستان نے سعودی عرب کی خاطر یہ موقف نہیں اپنایا تھا۔
بانی پاکستان قائد اعظم نے 1946ء میں دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ”اسرائیل اسلام کا دشمن ہے، ہم کسی قیمت پر اسے تسلیم نہیں کرتے، اس کے خلاف خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، اگر اعراب نے اسے تسلیم کر بھی لیا تو پاکستان نہیں کرے گا۔” حالانکہ پاکستان ابھی قائم بھی نہیں ہوا تھا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کی سوچ سے بھی بالا تر ہے، کیونکہ اس فیصلے سے پاکستان کشمیر پر اپنا دعویٰ یک لخت کھو دے گا، اسرائیل اور بھارت میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں قابض ممالک بھی ہیں اور ایک دوسرے کے اتحادی بھی۔ اسرائیلی گولہ بارود اور اسلحہ ہی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گرد فوج کے ساتھ مل کر کشمیریوں کے خلاف آپریشنز کرتی رہی ہے۔ کشمیریوں کو ان کے گھروں، زمین سے بے دخل کرنے کا سبق اسرائیل نے بھارت کو پڑھایا ہے۔
ہمارے خیال میں سعودیوں کو بھی دبائو میں نہیں آنا چاہیئے، کیونکہ الیکشن ہارنے کے بعد اب ٹرمپ کی اپنی حیثیت ایک لنگڑی بطخ سے زیادہ نہیں، صرف روز مرہ امور چلانے کے سوا اس کے تمام اختیارات منجمد کئے جا چکے ہیں۔ وہ کسی کو نہ کچھ دے سکتا ہے، نہ ہی نقصان کرسکتا ہے، اس کا داماد کیا حیثیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی حکومت اور دیگر عرب ممالک کسی بلیک میلنگ میں آئے بغیر اسرائیل کو مسترد کریں اور فلسطین کے حل پر زور دیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی ان ممالک کو الگ الگ مذاکرات میں الجھا کر بلیک میلنگ کا شکار بنا رہے ہیں۔ مسلم ممالک کو الگ اور ذاتی حیثیت میں بات کرنے کے بجائے متعلقہ فورمز پر اجتماعی طور پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے اور متعلقہ فورمز صرف دو ہیں ایک عرب لیگ اور دوسرا او آئی سی، جو دو ریاستی فارمولے کی توثیق کرچکی ہے اور یہ فارمولا اوسلو معاہدے کے بھی قریب تر ہے۔
اس وقت اسرائیلی جتنی شدت کے ساتھ گریٹر اسرائیل کی مہم چلائے ہوئے ہیں، یہ اتنا ہی بڑا موقع ہے کہ مسئلہ فلسطین حل کروایا جائے۔ اگر مسلم ممالک تنہا پرواز کے بجائے اجتماعی پلیٹ فارم پر فیصلے اور بات چیت کا راستہ اختیار کریں تو فلسطینیوں کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے اور مسلم ممالک بھی کسی بہتر معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یوں خفیہ معاہدے اور بلیک میلنگ میں آکر کئے گئے فیصلوں سے ذلت، شرمندگی اور شکست خوردگی کے سوا کچھ بھی حاصل ہونے کا امکان تک نہیں، بلکہ تمام خطہ عرب کی حیثیت گریٹر اسرائیل کے سامنے نہتی باجگزار ریاستوں کے ریوڑ کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگی۔ پون صدی قبل سعودی عرب اور امارات کے بزرگوں نے اپنے خون سے جو آزادی حاصل کی تھی، افسوس کہ انہیں کی اولاد اپنی سہل پسندی اور عیاشیوں کے سبب اپنے ہاتھوں سے اس آزادی سے دستبردار ہونے جا رہی ہے، افسوس صد افسوس۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں