imran khan 19

اسرائیل سے تعلقات پر قائد اعظم کا اصولی موٴقف!

47 / 100

جنید نوازچوہدری:
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ایک چیلنج کے طور پر لیا جانے لگا مگر پاکستان کی طرف سے ہمیشہ اس مسئلے پر خاموشی اختیار کی گئی اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں لائی گئی آہستہ آہستہ اسرائیل کو یہ بات سمجھ آگئی کے پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ممکن نہیں اس بات کی مزید تصدیق اْس وقت ہوئی کہ جب پاک فضائیہ نے اپنے محدود لڑاکا پائلٹوں کو 1967 کی عرب اسرائیل چھ روزہ جنگ اور 1973 کے یوم کیپور جنگ میں شمولیت کے لئے بھیجا جس کا مقصد ان فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جن کے پاس جدید اسلحہ سے لیس اور وسائل کی حامل اسرائیلی فوج سے لڑنے کے لئے عملی طور پر کوئی بنیاد نہیں تھی اور اس کے نتیجے میں بار بار شکست کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس جنگ میں ایک پاکستانی لڑاکا پائلٹ سیف الاعظم نے چھ روزہ جنگ کے دوران کم از کم چار اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا جس کے بعد اسرائیل کو یقین ہو گیا کہ پاکستان اس کا کْھلا دشمن بن چکا ہے یوم کیپور جنگ کے بعد پاکستان اور پی ایل او ( فلسطین لبریشن آرگنائزیشن ) نے پاکستانی فوجی اداروں سے پی ایل او کے افسران کی تربیت کے معاہدے پر دستخط کیے 1982 میں اسرائیل اور لبنان جنگ کے دوران رضاکارانہ طور پر باقاعدہ پاکستانی رضاکاروں نے پی ایل او میں خدمات انجام دیں اور بیروت کے محاصرے کے دوران اْن رضاکاروں میں سے 50 کو قیدی بنا لیا گیا تھا ان جنگوں میں کچھ دوسرے مسلم ممالک نے بھی مختلف انداز میں حصہ لیا، کچھ نے مالی وسائل فراہم کیئے تو کسی نے افرادی قوت فراہم کیان سب واقعات کے بعد اسرائیل نے مسلم دْنیا میں اپنی بڑھتی ہوئی مخالفت اور سفارتکاری کے ذریعے تعلقات بنانے میں ناکامی کے بعد اپنی حکمتِ عملی کو تبدیل کیا اور اپنے اردگرد موجود اسلامی ممالک کو پہلے اندرونی خلفشار پھیلا کر کھوکھلا کرنے کے منصوبوں پر عمل درآمد شروع کر دیا اور طاقتور امریکا کو اپنا اتحادی بنا کر وہاں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی بنیادوں کو مظبوط کیا دوسری طرف پاکستان کی اسرائیل کے خلاف جنگوں میں شمولیت کے بعد پاکستان اور اسرائیل کے مابین دشمنیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، اور جب اسرائیل کی بدنامِ زمانہ خفیہ ایجنسی موساد پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو بڑی پیشرفت سے روکنے میں ناکام رہی تو آپریشن اوپیرا کی طرز پر اسرائیلی حکومت کی طرف سے پاکستانی جوہری تنصیبات پر بمباری کرنے کے منصوبے کی منظوری دی گئی جس کے بعد اسرائیل کے لڑاکا طیارے کے لئے لانچنگ پوائنٹ حاصل کرنے کی غرض سے ہندوستان سے رابطہ کیا گیاتاہم ہندوستان نے اسرائیلی طیاروں کو اپنی سرزمین استعمال کرکے پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ، جب کہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹلیجنس ایجنسی (آئی ایس آئی) نے اس منصوبے کا پتہ لگا لیا تھا اور کسی حملے کی صورت میں جواباً اسرائیل میں اسٹریٹجک مقامات پر بمباری کے لیئے پاکستانی ائیرفورس کو “نو وے بیک” کے طور پر اسرائیل میں داخل ہو کر حملہ کرنے کے منصوبے کو تیار کر لیا جس کے بعد اسرائیلی حکومت کی راتوں کی نیندیں اْڑ گئیں اور اْن کو اپنے منصوبے کو ختم کرنا پڑا اس کے بعد اسرائیل نے اپنی تمام تر توجہ اپنے اردگرد موجود مسلم ممالک کو کمزور کرنے اور اسرائیل مخالف حکومتوں کو ختم کرکے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے والی حکومتوں کے قیام پر لگادی اور خطہ میں سازشوں کا بازار گرم کیا ایک ایک کر کے پہلے ایران اور عراق جنگ کے ذریعے ان ممالک کو کھوکھلا کیا گیا اور بعد میں عراق کو مکمل طور پر تباہ کروایا، اْس کے بعد لبنان کی باری آئی پھر اْردن کی باری آئی اس کے بعد سوڈان،صومالیہ، لیبیا اور مصر کی باری آئی پھر مْلک شام کی باری آئی اور پھر یمن میں بغاوت کا بیج بو کر سعودی عرب کے لیئے چاروں طرف سے خطرے کو سر پہ لا کے کھڑا کر دیا غرض یہ کہ آہستہ آہستہ اسرائیل نے اپنے اردگرد موجود تمام مسلمان ممالک کو اتنا کمزور کر دیا کہ کوئی بھی اس قابل نہیں رہا کہ اسرائیل کی مخالفت کر سکے۔
اس مرحلے کو سر کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوا جس کا مقصد اسرائیل کو ایک غیر متنازعہ ریاست کے طور دْنیا اور خصوصاً مسلمان ممالک سے تسلیم کروایا جائے 6 دسمبر2017 کو امریکا کے صدر ٹرمپ کا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور امریکا کے سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کے بعد عالمی سیاست میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہوگئی اور امریکا کے اتحادی ممالک میں صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو مختلف زاویوں سے دیکھا جانے لگا گو کہ 8 دسمبر کو امریکا کے سکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے واضح کیا کہ صدر کے بیان سے “یروشلم کے لئے کسی حتمی حیثیت کی نشاندہی نہیں ہوئی ہے” اور “یہ بات بالکل واضح ہے کہ سرحدوں سمیت حتمی حیثیت ، دونوں فریقوں کو بات چیت اور فیصلہ کرنے کے لئے چھوڑ دی جائے گی مگر یہ بیان بھی مبہم سا تھا اور حالات کچھ اور ہی طرف اشارہ کر رہے تھے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کو عالمی رہنماوٴں کی اکثریت نے مسترد کردیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 7 دسمبر کو ہنگامی اجلاس کیا تھا جہاں 15 میں سے 14 ارکان نے ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی تھی جن میں برطانیہ، سوئیڈن ، فرانس ، اٹلی اور جاپان سرِفہرست تھے، لیکن اس تحریک کو امریکہ نے ویٹو کردیا تھا آخر کار 23 فروری 2018 کو امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ نیا امریکی سفارت خانہ اسی سال مئی میں کھل جائے گا اسرائیلی اعلامیہ آزادی کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر 14 مئی 2018 کو یروشلم میں سرکاری طور پر امریکی سفارتخانہ کھولا گیا جس پر فلسطینیوں کی جانب سے غزہ کی سرحد پر شدید احتجاج کیا گیا اور اسرائیل کی دفاعی فورسز کی جانب سے غزہ کی سرحد پر احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس اور سنائپرز کے ذریعے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 58 فلسطینی ہلاک ہوگئے ، یہ 2014 کے اسرائیل غزہ تنازعہ کے بعد ایک دن میں ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہےاس سب کے بعد اب آہستہ آہستہ بہت سے مسلمان ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اْس کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی شروع کردی ہے جس میں پہلے متحدہ عرب امارات پھر بحرین کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کیا گیا پھر سوڈان اور مراکش کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا گیا اور اْن کے بعد 12 دسمبر 2020 کو بھوٹان نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا اب اسرائیل اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان سے تعلقات کا خواہاں ہے۔
وجہ پاکستان کا واحد اسلامی نیو کلئیر پاور ہونا ہے اسرائیل اگر روئے زمین پر کسی مْلک کو اپنے لیئے اگر خطرہ سمجھتا ہے تو وہ پاکستان ہے اب پاکستانی حکام کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے کیونکہ پاکستان کو مختلف ہتھکنڈوں سے تعلقات کی بحالی کے لیئے مجبور کیا جا رہا ہے اور عالمی دباوٴ کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں موجود افراد کی خدمات بھی لی جا رہی ہیں ایسا ہی ایک کردار سابق پاکستانی شہری بھی ہے جو برطانیہ میں مقیم ہے اور خود کو صہیونیت کا دلدادہ بھی گردانتا ہے اور 2017 میں اسرائیل کا دورہ بھی کر چکا ہے، اس کے علاوہ کچھ کردار ذرائع ابلاغ سے بھی وابسطہ ہیں ایسی صورت میں اب پاکستان کا مسئلہ فلسطین پر قائدِاعظم محمد علی جناح کے اْصولی موٴقف کو اپنانا بہت ضروری ہے جو کہ فلسطین کی ریاست کی بحالی سے مشروط ہے پاکستان کا عالمی سطح پر اسرائیل سے بات چیت کے حوالے سے ہونے والے دباوٴ میں اس موٴقف کو پیش کرنا کہ پہلے فلسطین کی ریاست کو بحال کیا جائے پھر ہی کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے اس معاملے میں پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی ثابت ہو سکتی ہے اور اگر کسی حکومت نے بھی اس موٴقف کو اپنائے بنا کسی مذاکراتی عمل میں حصہ لیا تو یاد رہے کہ ذلّت ہی اْس حکومت کا مقدّر ہوگی کیونکہ بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح کے اسرائیل فلسطین کے معاملے میں اْن کے اْصولی موٴقف کو ہی اس مسئلے کا بہترین حل سمجھتے ہیں اور اس معاملے پر ہم بحیثیتِ قوم یکجا ہیں اور مرتے دم تک رہیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں