آصف محمود صاحب 9

اسرائیل سلطنت عثمانیہ کی دو غلطیوں کا نتیجہ ہے

54 / 100

اسرائیل سلطنت عثمانیہ کی دو غلطیوں کا نتیجہ ہے
آصف محمود
فلسطین میں اسرائیل کا قیام محض دشمنوں کی سازش کا نتیجہ نہ تھا ، اس میں مسلمانوں کی چند خوفناک غلطیاں بھی شامل تھیں۔ آگہی اور عبرت کے لیے ہمیں ان غلطیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہو گا ۔کیونکہ ان غلطیوں کو اسرائیل کے قیام کی وجہ نہ بھی قرار دیا جائے تو ان عوامل میں سے چند بنیادی عوامل میں شمار ہوتی ہیں جو اسرائیل کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ پہلی غلطی کو آپ آسان تفہیم کے لیے نجکاری کہہ سکتے ہیں۔ سلطنت عثمانیہ کے پاس فلسطین میں زمینیں تھیں۔اس نے یہ زمینیں لیز پر یہودیوں کو دے رکھی تھیں ۔بد انتظامی کا عالم یہ تھا کہ لیز ختم ہونے پر زمینیں لینے کی بجائے عمال حکومت رشوت لے کر خاموش ہو بیٹھے۔ معاشی بحران بڑھا تو زمینیں انہی یہودیوں کو بیچنا شروع کر دیں۔ جدید مورخین عام کسانوں پر الزام دھرتے ہیں کہ ان کسانوں نے اونے پونے داموں یہودیوں کو زمینیں بیچیں ، یہ درست نہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہ ’’ نیلام گھر‘‘ سلطنت عثمانیہ نے خود سجایا تھا۔ حکومت کے بعد مقامی اشرافیہ نے زمینیں بیچیں جو ’’ غیر مقامی ‘‘ تھے یا مقامی تھے تو خلافت کے کل پرزوں میں شامل ہوتے تھے اور سلطنت عثمانیہ کی قربت سے یہاں کے معزز ین بن بیٹھے۔عام کسان کا اس واردات میں کوئی قصور نہ تھا۔عام کسان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ الگ داستان ہے جس پر شاید کسی اور نشست میں بات کریں گے۔ اس زمانے میں زمین کی پیمائش کا پیمانہ ’’ ڈنم‘‘ ہوتا تھا۔ اور ایک ڈنم کا مطلب ایک ہزار مربع میٹر ہوتا تھا۔کولمبیا یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی کتاب ” The Origin of Palestinian Nationalism” میں محمد مصلح نے لکھا ہے کہ فلسطین میں تمام چھوٹے کسانوں کے پاس جتنی زمین تھی ، اتنی ہی زمین صرف ان با اثر 250 خاندانوں کے پاس تھی‘‘۔گرانٹ نے اپنی کتاب ’’ دی لینڈ سسٹم‘‘ میں پوری تفصیل بیان کر دی کہ کس شہر میں کس خاندان کے پاس کتنی زمین تھی۔یہ قریبا پچاس لاکھ ڈنم زمین بنتی ہے۔ جب سلطنت عثمانیہ کی سرکاری زمینوں پر قبضے ہو رہے تھے اور ان کے اپنے ہی عمال حکومت رشوت دے کر سرکاری زمینیں یہود کو بیچ رہے تھے تو اہل دانش نے سلطان عبد الحمید کو بہت خطوط لکھے کہ یہ آباد کاری کسی حادثے کو جنم دے گی اسے روکا جائے۔یعقوب رائے نے اپنی کتاب ” The Zionist Studies to the Arabs” میں لکھاہے کہ 24 جون 1891 کو یروشلم کے معززین نے سلطان کو ٹیلیگرام بھیجے کہ یہودی آباد کاری روکی جائے۔’’المنار ‘‘ کے مدیر محمد ردا ناصر نے یہاں تک لکھا کہ انہیں مستقبل میں ایک یہودی ریاست نظر آ رہی ہے جو سلطان کو نظر نہیں آ رہی۔ نجیب ازور نے تو ’’ یقضات الامہ العربیہ ‘‘ میں بہت کچھ کہہ دیا۔ وہ لکھتے ہیں:’’ یہ سلطان ایک درندہ ہے۔یہ ظالم اور وحشی ہے۔اسے فلسطینی مسلمانوں کے جذبات سے کوئی دل چسپی نہیں۔یہ تو عربی تک نہیں جانتا۔65 سال کا ہو گیا ہے مگر اس نے ابھی تک حج نہیں کیا‘‘۔ ازوری کے خیالات میں شدت ہو سکتی ہے اور قدرے مبالغہ بھی لیکن زمینی حقائق اس کے خیالات کی ایک حد تک تائید کرتے ہیں۔اوون نے اپنی کتاب ’’ دی مڈل ایسٹ‘‘میں لکھا ہے کہ 1908 تک فلسطین میں یہودیوں کی 26 کالونیاں وجود میں آ چکی تھیں۔حبیب بطروس ، نکولا سراق، فرح اور توانی خاندان کے لوگوں نے مرج ابن عامر میں خلافت عثمانیہ سے 17 گائوں صرف بیس ہزار پائونڈ میں خرید لیے۔نجیب ازوری جیسے لوگ ’’”The Universal threat of Jews جیسے مقالوں کی بات کر رہے تھے لیکن سلطنت عثمانیہ اس سے بے نیاز تھی۔ جب یہ ابتدائی کام ہو چکا تو یہودیوں کی بنیاد گویا مستحکم ہو گئی۔ ان کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ان کا ایک ایلچی سلطان عبد الحمید کے پاس آیا کہ اگر آپ فلسطین میں ایک یہودی ملک قائم کرنے پر رضامند ہو جائیں تو یہودی سلطنت عثمانیہ کا سارا قرض ادا کر دیں۔ سلطان نے یہ تجویز سختی سے رد کر دی۔چنانچہ یہود نے اپنا وزن ’’ ینگ ترک‘‘ کے پلڑے میں ڈالا۔ ینگ ترکوں کی کابینہ میں تین وزیر یہودی تھے۔ چنانچہ ینگ ترکوں نے جب سلطان کو معزول کیا تو معزولی کا پروانہ اسی شخص کو دے کر سلطان کے پاس بھیجا جو یہودیوں کی جانب سے ہیش کش لے کر سلطان کے پاس آیا تھا اور سلطان نے اسے بے عزت کر کے نکالا تھا۔اس کا نام عمانویل قراسو تھا۔ نجکاری کے بعد دوسرا مسئلہ معاشی بد حالی اور قرض تھا۔ قرض کا یہ شکنجہ اتنا تو ہو چکا تھا کہ یہودی اس کی ادائیگی کے بدلے وطن مانگنے تک آ چکے تھے۔ لیکن اس قرض کا ایک اور خوفناک پہلو بھی تھا اور وہ جنگ عظیم کی صف بندی تھی۔ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ عظیم میں برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دینے کا فیصلہ سلطنت عثمانیہ نے کسی اصولی بنیاد پر نہیں کیا تھا بلکہ اس کی وجہ قرض کا شکنجہ اور تباہ حال معیشت تھی۔دل چسپ بات یہ ہے سلطنت عثمانیہ کی پہلی ترجیح برطانیہ تھا۔ اس نے برطانیہ سے اتحاد کی کوشش بھی کی لیکن برطانیہ نے اس کوشش کا مثبت جواب نہیں دیا کیونکہ اس کے نزدیک معاشی ابتری کا شکار یہ سلطنت ایک بوجھ تھی۔ سلطنت عثمانیہ نے ایک مرحلے پر اس جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ بھی کیا لیکن اس کے معاشی مسائل نے اسے غیر جانبدار نہ رہنے دیا۔ سلطنت عثمانیہ اکہتر کروڑ ڈالر کی مقروض تھی ۔60 فیصدقرض فرانس سے لیا گیا تھا اور 15 فیصد برطانیہ سے۔ ان کے خلاف جنگ میں جرمنی کا حلیف بن کر سلطنت عثمانیہ نے گویا یہ سوچا کہ اس قرض کی ادائیگی سے جان چھوٹ جائے گی۔ادھر جرمنی نے سلطنت عثمانیہ کو مزید قرض دینے کی حامی بھری اور اس قرض کی خاطر سلطنت عثمانیہ نے جرمنی سے اتحاد کرتے ہوئے روس کی بندر گاہوں پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے بعد روس فرانس اور برطانیہ نے اعلان جنگ کر دیا۔بعد کی تاریخ المیوں سے بھری ہے اور ہمارے سامنے ہے ۔ اس دور میں فیصلہ سازی سلطان اور اس کی کابینہ کرتی تھی جس میں سلطان کے علاوہ تین پاشا شامل ہوتے تھے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ کا جنگ عظیم میں جرمنی کے ساتھ جو خفیہ معاہدہ ہوا تھا اس پر سلطان کے دستخط بھی موجود نہیں ۔ تجمل پاشا نے بھی اس پر دستخط نہیں کیے۔تجمل پاشا تو فرانس کے ساتھ اتحاد کا حامی تھا اور وہ جرمنی سے اتحاد کا مخالف تھا البتہ سلطان کے دستخط کیوں نہیں اور کیا وہ اس جنگ میں غیر جانبدار رہنا چاہتا تھا یا وہ بے بس ہو چکا اس کے بارے میں کوئی چیز واضح نہیں ہے۔ اب یہاں ذرا رک جائیے اور سوچیے کہ نجکاری اور قرض کے معاملے میں ہماری یعنی پاکستان کی پالیسی کیا ہے؟دنیا ایک عبرت کدے کی صورت ہمارے سامنے رکھی ہے۔ ہماری آنکھیں کب کھلیں گی؟معیشت مذاق نہیں ہے۔ یہ کبھی مذاق نہ تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں