mazhar-barlas 17

ارے صاحب کہاں چلے گئے؟مظہر برلاس

18 / 100

ارے صاحب کہاں چلے گئے؟مظہر برلاس
مٹی کا مادھو ہے، پیر ہو یا سادھو، کتنے برس جئے گا؟ آخر رزق خاک ہو جائے گا ۔یاد کرنے والے ہوں تو یادیں رہ جائیں گی ورنہ کون کسی کو یاد کرتا ہے، یاد رہنے والے ہوں تو یاد رہ جاتے ہیں ورنہ حقائق سمجھنے کے لئے تو حسن عباس رضا کا یہ شعر کافی ہے کہ

پوچھا کرو گی کیا جو کبھی میں نہیں رہا؟

بولی یہاں تو تم سے بھی اچھے نہیں رہے

ڈیڑھ دو برسوں سے کورونائی موسم اترا ہوا ہے، بہت سوں کو یہ موسم کھا گیا، کئی دل کے ہاتھوں مجبور چلے گئے کسی کی زندگی کینسر چاٹ گیا، کسی کو بخار لے ڈوبا، کسی کی پیرانہ سالی کے باعث ہمت نہ رہی کہ زندگی کی مجبوریوں سے لڑ سکے، کوئی بے جگری سے جگر کے ساتھ لڑا، کسی کو دریا نگل گئے، کوئی فضا میں گیا اور زمین پر آتے آتے ہست سے نیست ہو گیا۔کسی کا چراغ ریلوے لائن پر بجھ گیا، کوئی سڑک پر حادثے سے زندگی ہار گیا۔مٹی کےسب مادھو مختلف راستوں سے موت کی جھولی میں جا گرے۔

چند ماہ پیشتر مظہر طفیل کا پیغام ملا کہ ایم طفیل چلے گئے۔وہی جن کی تحریریں آپ جنگ میں پڑھا کرتے تھے، وہی جنگ کے ادارتی صفحے والے، اس صفحے سے وابستہ دو اور شخصیات چند برس پہلے یکے بعد دیگرے ہمیں چھوڑ گئی تھیں۔رعب دار آواز والے انور قدوائی اور لائق فائق مرزا شفیق ۔

مشرق رشتوں کو پروئے رکھتا ہے دوریاں پیدا نہیں ہونے دیتا، ماں باپ رشتوں کے محور ہیں، انگریزی تہذیب نے رشتوں سے نام چھین لئے ورنہ مامے، چاچے، تائے، پھوپھے، خالو اور نانے، دادے تھے، خالہ، پھوپھی، ممانی، تائی اور چاچی تھی ۔میاں محمد بخش ؒ نے سیف الملوک میں رشتوں کو ہی نہیں بلکہ رشتوں کے فضائل بھی بیان کئے ہیں ،رشتوں کے حقائق بیان کئے ہیں۔ابھی کچھ دن پہلے صحافی دوست یاور بخاری کی والدہ جہان فانی سے کوچ کر گئیں ،کہنے لگے ’’بھائی! اماں چلی گئیں ، ملتان اداس لگتا ہے ‘‘، یاور بخاری میرے گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانے کے دوست ہیں، میں انہیں ہمیشہ ان کے گھریلو نام سے پکارتا ہوں۔اس کی بات سنی، اشکوں کا پیغام سنا تو فقط یہی کہہ پایا چاندی شاہ! بس ہر ایک کو چلے جانا ہے، صبر کیا کرو۔

کیا پتہ تھا ہوائوں پہ غم کے کچھ اور پیغامات سوار ہیں، سارے برقی پیغامات فضائوں کے راستے ہم تک پہنچتے ہیں اب تو دورانِ پرواز بھی آرام سے فون استعمال ہوتا ہے ،تین ماہ پہلے استنبول سے اسلام آباد آتے ہوئے کئی دوستوں کو دوران پرواز ضروری پیغامات بھیجے۔پیغام خوش بھی کر دیتے ہیں، افسردہ بھی ، چندہفتے پہلے ہمارا ایک ایسا دوست ہم سے بچھڑ گیا جو دلوں میں گھر بناتا تھا، اس نے پاکستان اور پاکستان سے باہر کئی دلوں میں گھروندے بنائے، وہ بظاہر شعیب بن عزیز کا چھوٹا بھائی مگر شعیب بن عزیز کے لئے بھی نعمان صاحب : نعمان بن عزیز کی زیادہ یادیں لاہور اور کراچی میں ہیں یا پھر ان کی یادوں کا بسیرا پنڈی ہے مگر میری ان سے پہلی ملاقات اسلام آباد میں ہوئی ۔میرے تیس برس پرانے دوست منصور آفاق کے ساتھ ایک خوشگوار آدمی آیا ۔ مجھ سے یوں تعارف کروایا گیا ’’یہ ہیں نعمان بن عزیز، شعیب صاحب کے بھائی ‘‘میں نے عرض کیا کہ اگر یہ شعیب صاحب کے بھائی ہیں تو ہمارے بھی بھائی ہیں پھر کاروبار بھول گئے اور دل کے قریب آ گئے، وہ ہمیشہ بھائیوں کے طور پر رہے مگر ہم سب انہیں نعمان صاحب ہی کہا کرتے تھے ، ان کے گھر والے بھی ہمیشہ انہیں نعمان صاحب ہی کہتے تھے ۔کیا صاحبِ دل آدمی تھا، دلوں میں رہتا تھا، اس نے دلوں کا ایک جہان آباد کیا، اک ہجوم عاشقاں، کیا ملنسار آدمی تھا، ملنے والے اسے بھول ہی نہیں پا رہے ۔شاید اسے جلد بھلایا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ اس نے تو دلوں میں گھر بنا رکھے ہیں جس نے دنیا بھر میں گھروندے بنائے ہوں ایسے کیسے آسانی سے بھول جائے ۔

زندگی احساسات کے زندہ رہنے کا نام ہے مگر احساس عجیب چیز ہے کسی کے ہوتے ہوئے کم ہوتا ہے، کوئی بچھڑ جائے تو یہی احساس پہاڑ بن جاتا ہے۔ ایسا ہی نعمان صاحب سے متعلق ہے یقیناً شعیب بن عزیز کا احساس ہم سے کہیں زیادہ ہے، وہ تو سردیوں کی شاموں میں اداس پھرتا تھا، اب اسے گرمیوں کے دن اداسی میں گزارنا پڑ رہے ہیں تپتی ہوا جسموں کو بھون کے رکھ دیتی ہے ، غموں کی شدت کو بڑھا دیتی ہے۔ جب گرم ہوائیں ہوں، شجر سایہ دار نہ ہو، غم دل میں بس چکا ہو، آنکھوں میں اشک، سوچوں کےسمندر اور یادوں کے ہجوم ہوںتو پھر شام نہیں لمحے اداس ہوتے ہیں ، وقت نڈھال ہوتا ہے ۔

مٹی کے مادھو زندگی گزارتے ہیں اورپھر مٹی کے ہو کے رہ جاتے ہیں، پتہ نہیں لوگ کیوں دولت کے انبار لگاتے ہیں، کیوں ہوس کے مارے ہوئے لوگ اپنے جیسے انسانوں کا حق کھاتے ہیں، پتہ نہیں کیوں ؟ حالانکہ انسان کی اوقات تو اتنی سی ہے کہ اسے پہلا لباس بھی کوئی اور پہناتا ہے اور آخری لباس بھی کوئی اور۔ ستائیس برس پہلے ڈاکٹر خورشید رضوی کی موجودگی میں انور مسعود نے زندگی کے حقائق کا کیا خوب نقشہ کھینچا تھا جو خالق اور مخلوق کی وضاحت کے لئے کافی ہے ۔

کون پانی کو اڑاتا ہے ہوا کے دوش پر

کس نے بخشی پیڑ کو آتش پذیری سوچئے

کون دیتا ہے جوانی میں لہو کو حدتیں

کون کر دیتا ہے عاجز وقت پیری سوچئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں