اخلاق کیوں ضروری ہے؟ 39

اخلاق کیوں ضروری ہے ؟

58 / 100

اخلاق کیوں ضروری ہے ؟
حافظ محمد جمیل
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ.
’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)‘‘۔
قرآن پاک میں حضور ﷺ کی شان مبارک کو بڑی تفصیل اور وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کی ہر ہر خوبی کو اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے۔ جیسا کہ حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول کریم ﷺ نے اخلا ق کیسے تھے تو آپ نے جواب دیا کہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا۔ یعنی پورا قرآن آپ ﷺ کی مدح کرتا ہے۔ لیکن جس طرح آپ ﷺ کے اخلاق کو بیان کیا ہے اس طرح اور کسی بھی صفت کو بیان نہیں کیا ۔ اس لیے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان کی حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ یہ شخص کس ظرف و حیثیت کا مالک ہے۔ یہ اخلاق ہی کا کمال تھا کہ آپ ﷺ کو بعثت سے پہلے صادق و امین کہا جانا لگے۔ یہ اخلاق ہی کا کمال تھا جب آپ نے اعلان نبوت فرمایا تو دلیل کےطور پر لوگوں کے سامنے آپ نے اپنی سیرت کو پیش کیا۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین عملی نمومہ ہے جیسا کہ فرمان باری ہے ۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا
ترجمہ: فی الحقیقت تم مسلمانوں کے لئے رسول اللہ کا قول و عمل ایک بہترین نمونہ ہے ان کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہتے ہیں
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو زندگی کو ہر وقت سامنے رکھیں اور اپنے ہر قول و فعل کو رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل کے تابع کریں
جیسا کہ فرمان ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت کا دعوٰ ی کرتے ہو تو نبی کریم ﷺ کی پیروی کرو
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
( اے پیغمبر، لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم واقعی اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی ( اختیار) کرو۔ ( اگر تم نے ایسا کیا تو) اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔
معلوم ہوا کہ دنیا و آخر ت میں فلاح اسی میں ہے کہ ہم اپنے قول و فعل کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے تابع کر دیں ۔معاملات زندگی میں اخلاق کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم مجھے تین چیزوں کی حفاظت کی ضمانت دے دوں میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ان میں سے ایک زبان ہے۔ یعنی اگر ہم اپنے اخلاق کو اعلی رکھتے ہیں تو ہمارے لیے جنت کی خوشخبری ہے ۔
اخلاق کی اتنی اہمیت ہے معاملات زندگی میں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے بھیجا ہی اس لیا گیا ہے کہ میں اخلاق کی تکمیل کروں۔
انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق.
’’میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں‘‘۔
رسول اللہ ﷺ نے تمام بد اخلاقی جڑوں کا کاٹ ڈالا۔ وعدہ خلافی کا آپ نے سدباب کیا یہ فرماتے ہوئے کہ لا دین لہ لمن عہد لہ ۔ خیانت کو منافق کی نشانی قرار دیتے ہوئے اس پر کاری ضرب لگائی۔ کبرو غرور کے بت کو اپنے اس فرمان کے ساتھ جس شخص کے دل میں رتی برابر بھی غرور اور گھمنڈ ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا زمین بوس کیا، حسد کی لعنت سے خبردار کیا کہ کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوسکتے، غیبت کا قلمع قمع کیا، تمسخرا و استہزاء کا خاتمہ کیا، بدظنی و بدگمانی پر پہرے بٹھائے اللہ پاک سے اس فرمان کے ساتھ’’اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اُخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے غیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی  کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو۔ اور (اِن تمام معاملات میں) اﷲ  سے سے ڈرو  ، حرص و طمع کو انسانیت کی تذلیل اور توہین جانا، المختصر رسول اللہ ﷺ نے اعلی کامیاب زندگی کے تمام پہلوؤں سے آگاہ کیا اور بہیودہ امور سےمنع فرمایا تاکہ ان پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخر ت میں کامیاب پا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں