18

مصر میں لڑکیوں کے ختنے: کیا نئی قانون سازی مسئلے کا حل ہے؟

55 / 100

مصر میں لڑکیوں کے ختنے: کیا نئی قانون سازی مسئلے کا حل ہے؟
جب پانچ سال سے کم عمر لڑکیوں کو بستر پر گھسیٹا گیا تو کمرہ ان کی چیخوں سے اچانک گونج اٹھا۔ انھوں نے خود کو بچانے کی ناکام کوشش کی۔ چند افراد جو ڈاکٹروں جیسے لباس میں ملبوس تھے، انھوں نے انتہائی مضبوطی سے ان لڑکیوں کو باندھ دیا۔

ان میں سے ایک نے پیچھے مڑ کر ماں اور دادی کو پکارا، لیکن وہ خاموش رہیں۔

امنیہ جو اس ظلم کا شکار ہوئی تھیں، انھیں یاد ہے کہ ان کے کپڑے چھین لیے گئے تھے اور بغیر بے ہوشی کا انجکشن لگائے ان کے ختنے کر دیے گئے۔

اس لمحے کے بارے میں امنیہ کا کہنا ہے: ’میری ماں اور دادی نے دیکھا کہ کیا ہوا ہے اور کوئی مداخلت نہیں کی۔‘
اگرچہ ختنے کے اس واقعے کو قریب 20 سال گزر چکے ہیں، امینہ نے بی بی سی عربی کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جب وہ کوئی جسمانی ورزش جیسا عمل سر انجام دیتی ہیں تو انھیں آج بھی تکلیف ہوتی ہے۔

سرکاری اور بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق مصر میں بہت ساری خواتین کو اس طرح کے بھیانک عمل کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ کی موت واقع ہوئی ہے، جبکہ دیگر واقعات نے خواتین کی جانوں اور جسموں پر گہرے نشانات چھوڑے ہیں۔

امنیہ نے ہمیں بتایا کہ مصری پارلیمنٹ نئی قانون سازی کرنے کے عمل میں ہے جس میں ایف جی ایم / سی انجام دینے والوں اور لڑکیوں کے لیے اس عمل کی حمایت کرنے والوں کے لیے جرمانے میں اضافہ ہو گا۔

امنیہ کہتی ہیں ’میں کسی بھی خاتون کو اس خوفناک صورتحال میں نہیں دیکھنا چاہتی ہوں جس کا مجھے سامنا کرنا پڑا۔‘
مصری حکومت نے اس قانون میں ترامیم کی منظوری دی ہے جس سے لڑکیوں کے ختنے کروانے پر جرمانے میں اضافہ ہوتا ہے اور اس بل کو ایوان نمائندگان کے حوالے کیا گیا ہے، جو ان کی حتمی منظوری سے قبل ان پر بحث کرے گا۔

مجوزہ ترامیم میں پانچ سے 20 سال تک قید جیسی سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے اور ایوان نمائندگان کی منظوری کے بعد یہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ختنہ کرنے پر سخت سزاوں کے سلسلے میں دوسری قانونی ترمیم ہوگی۔

اور لڑکیوں کے ختنہ کرنے والے کو، خواہ وہ ڈاکٹر ہو یا نرس، نقصان کے مطابق سزا ہوتی ہے جو اس نے کسی لڑکی کا کیا ہے، جو کبھی کبھی موت کے منھ تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ ترمیم موجودہ قانون میں موجود اس آرٹیکل کو منسوخ کرتی ہے جس کے مطابق کسی طبی ضرورت کے طور پر ختنہ کرنے کا جواز پیش کیا جاتا ہے، کیونکہ ختنہ کرنے کے معاملات میں ملزم ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر اپنا دفاع کیا ہے کہ وہ اہم آپریشن ہیں، چاہے وہ کسی مسئلے کا علاج کے لیے کیے جائیں یا سرجری کے لیے۔ اور ان کا مقصد ختنہ نہیں ہے۔

خواتین کی قومی کونسل (ایک سرکاری ادارہ جو مصر میں خواتین کے امور سے متعلق ہے) کی چیئرپرسن مایا مرسی نے مجوزہ ترامیم کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے جو لڑکیوں کو ایف جی ایم جیسے جرائم سے زیادہ تحفظ کی ضمانت دے گی۔

خواتین کی قومی کونسل کی سربراہ کا مزید کہنا ہے کہ نئی سخت سزاؤں سے خواتین کے ختنے کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے، کیونکہ وہ اس پر عمل کرنے والوں کے لیے عبرت کا کام کریں گے۔

اس سے قبل مصری پبلک پراسیکیوشن نے قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ختنہ کرنے کے جرم کے مرتکب شخص کے لیے مقرر کردہ جرمانے پر دوبارہ غور کرے۔

مصر
خواتین کے حقوق کے لیے مصری سینٹر کے ڈائریکٹر ، نہاد ابو الکسمان اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایف جی ایم کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون میں یہ ترامیم ایک بڑا قدم بن جائیں گی کیونکہ وہ اس کو انجام دینے والوں کے فرار کے لیے کسی بھی ممکنہ خلا کو پُر کریں گے، خاص طور پر اس شق کا خاتمہ جو ’طبی ضرورت‘ کی چھتری کے تحت ختنہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ابو القسمان نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ اس کی حمایت کرنے والے ڈاکٹروں کا سہارا لیتے ہیں کہ وہ ان کی لڑکیوں کے لیے یہ آپریشن کریں تاکہ پیچیدگیوں میں اضافہ نہ ہو، لیکن اب ایسے لوگوں کو بے نقاب کر کے متعلقہ حکام کے حوالے کیا جائے گا اور ایسا کرنے والے ڈاکٹروں کی روک تھام کی جائے گی۔ مسئلے کو کم کرنے میں بہت تعاون کی ضرورت ہے۔

قانون سے زیادہ مضبوط روایات

تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایسے قوانین نافذ کیے گئے ہیں جو ایف جی ایم / سی کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں اور اس سلسلے میں اکثر عدالت کا سامنا کرتے ہیں۔

خواتین کے ختنوں کی مجرمانہ کارروائی کا باضابطہ آغاز سنہ 2008 میں ہوا جب مصری عوامی اسمبلی (اب ایوان نمائندگان) نے ایسی خواتین کو بھی تین ماہ سے دو سال تک کے جرمانے اور قید کی سزا دینے کا قانون منظور کیا جو لڑکیوں کے ختنے کروانے میں شامل ہوں۔

یہ اس معاشرتی بیداری کے نتیجے میں ہوا جب بالائی مصر کے مینیا گورنریٹ کے ایک گاؤں میں ’بدور‘ نامی لڑکی کی ایک خاتون ڈاکٹر سے ختنہ کروانے کے بعد موت ہو گئی۔

سنہ 2016 میں اس قانون میں ترمیم کی گئی اور جرمانے میں دوبارہ اضافہ کیا گیا، ڈاکٹروں کے لیے پانچ سے سات سال قید اور ایک لڑکی کی ختنہ کی درخواست کرنے والوں کے لیے ایک سے تین سال کے درمیان سزا رکھی گئی، لیکن طبی جواز اس قانون کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اور ختنوں کی اجازت دیتا ہے۔

بیشتر افراد کے مطابق مجوزہ ترامیم زیادہ طاقتور ہوں گی لیکن سماجیات کے پروفیسر امل ردوان کا خیال ہے کہ مصر میں رواج اور روایات قانون سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔

رڈوان نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ خواتین کا ختنہ مشرقی معاشروں میں خواتین کے خلاف تشدد کی ایک قسم ہے اور یہ لوگوں کے ذہنوں میں خوبی، عزت اور اچھے اخلاق سے وابستہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’رسم و رواج ایک بڑی چٹان ہے اور ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہے لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔‘

ردوان نے دیہی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ بیداری پھیلانے اور اسلامی مذہب کے ترجمانوں کے ذریعہ ختنے کی درخواست کرنے کے لیے غلط مذہبی معلومات کو پھیلانے والے مجرموں کی نشاندہی کرنے پر زور دیا ہے، عالمی اعدادوشمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ ختنہ ایک معاشرتی معاملہ ہے جس کا زیادہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے ممالک سے کوئی تعلق نہیں۔

اگرچہ مصر کی دارالفتح اور الازہر فاؤنڈیشن نے اسلام میں خواتین کے ختنے سے منع کرنے کے اپنے حکم کو واضح کر دیا ہے، لیکن بہت سے افراد اس کے قائل نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں