بیرسٹر حمید باشانی 24

آزادیٔ اظہارِ رائے اور زوال کا سفر؟

59 / 100

آزادیٔ اظہارِ رائے اور زوال کا سفر؟
بیرسٹر حمید باشانی
”یہ حکومت آپ کی اپنی ہے، اور سابقہ حکومت سے بالکل مختلف ہے‘ لہٰذا جب کوئی اچھی بات ہو تو اس کی تعریف کیجیے اور جب کوئی غلط کام ہو تو بلا کھٹکے اس پر نکتہ چینی کیجیے۔ میں نکتہ چینی کو پسند کرتا ہوں، لیکن ایسی نکتہ چینی جو ایمان داری اور تعمیری جذبے سے کی گئی ہو۔ اچھی طرح سن لیجیے‘ اگر آپ یہ طریقہ کار اختیار کریں گے تو ملک کے معاملات و حالات بہت جلد بہتر بنا لیں گے‘‘۔ آزادیٔ اظہارِ رائے کے باب میں یہ باتیں قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے اپریل انیس سو اڑتالیس میں ایڈورڈز کالج پشاور کے طلبہ کے سپاسنامے کے جواب میں کہی تھیں۔ قائد اعظمؒ کی طرف سے یہ اپنی حکومت پر تنقید کی کھلی دعوت تھی۔ انہوں نے نکتہ چینی کو حکومتی معاملات کی بہتری کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں قائد اعظمؒ کے بعد آنے والے حکمرانوں نے ”نکتہ چینی‘‘ کو ہی سب سے بڑا جرم قرار دیا‘ اور نکتہ چینی کرنے والوں کو نیست و نابود کرنے یا قید و بند کا شکار بنانے کی پالیسی اپنائی۔ اس پالیسی کی بہت ساری تفصیلات ”پریس ان چین‘‘ جیسی شاہکار کتابوں میں درج ہیں۔ بد قسمتی سے یہ پالیسی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے سخت ہوتی گئی۔ ہمارے زمانے تک پہنچنے تک یہ پالیسی ایک انتہائی خطرناک ہتھیار بن گیا، جو جدید دور میں آزادیٔ اظہارِ رائے اور سیاسی مخالفین کی نکتہ چینی سے نمٹنے کے لیے کامیابی سے استعمال ہوتا ہے۔ قائد اعظمؒ نے اپنی حکومت کو اپنی پیش رو حکومتوں یعنی انگریزوں کی حکومت سے مختلف قرار دیا۔ ظاہر ہے انگریزوں کی حکومت میں آزادیٔ اظہارِ رائے اور نکتہ چینی کی حدود و قیود مقرر تھیں۔ یہ حدود و قیود نوآبادیاتی نظام اور سمندر پار سے آ کر ایک اجنبی دیس پر حکمرانی کی ضروریات کی عکاس تھی۔ ان حدود و قیود کے برعکس قائد اعظمؒ نے ایک آزاد پاکستان میں نکتہ چینی کو لازمی قرار دیا۔ ظاہر ہے قائد اعظمؒ کے تصور میں اس وقت یہ بات نہیں تھی کہ ان کے بعد یہاں ایسے ایسے حکمران مسلط ہوں گے، جو آزادیٔ اظہارِ رائے اور نکتہ چینی کو ذاتی دشمنی قرار دے کر اس کے خلاف پوری ریاستی طاقت اور وسائل استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔
آزادیٔ اظہارِ رائے اور نکتہ چینی کے خلاف اس طرح کا مخاصمانہ ماحول صرف پاکستان میں ہی پیدا نہیں ہوا‘ دنیا کی دیگر کئی ریاستوں میں بھی آمریت پسند قوتیں، آزادیوں، جمہوریت اور کثرتیت پسندی پر پوری شدت سے حملہ آور ہوئیں۔ کئی دوسرے ممالک میں آمریت پسند حکمران اشرافیہ نے اپنے خلاف مزاحمت کے آخری نشان تک کو مٹانے اور سماج پر اپنی گرفت کو مضبوط تر کرنے کے لیے ریاستی طاقت کو بے دریغ طریقے سے استعمال کیا۔
آمریتیں تو ایک طرف، ہمارے دور میں آزادانہ اور جمہوری طریقوں سے منتخب دنیا کے بہت سے رہنما بڑے ڈرامائی انداز میں اپنی سوچ اور اندازِ حکمرانی میں تبدیلی لائے۔ انہوں نے قومی مفاد اور اپنے ذاتی مفادات کو کچھ اس طرح گڈ مڈ کیا کہ دونوں کے درمیان سے وہ لکیر مٹ گئی، جو ذاتی مفاد کو قومی مفاد سے الگ کر کے دکھانے میں مدد دیتی ہے۔ اس طرح ان کو ان کے ذاتی و سیاسی مفادات کے خلاف سرگرم مزاحمت کاروں کی سرگرمیوں کو قومی مفادات کے خلاف قرار دے کر ریاستی وسائل کے ذریعے کچلنے کا جواز مل گیا۔
حکمران طبقات کے ان رجحانات کے نتیجے میں ”فریڈم ہاؤس‘‘نے دو ہزار انیس کو عالمی سطح پر آزادیوں کے زوال کا متواتر چودھواں سال قرار دیا۔ جمہوریت اور آزادیوں کے باب میں کئی ممالک میں زوال سال دو ہزار اٹھارہ کے مقابلہ میں اور بڑھ گیا۔ دنیا کے تقریبا 64 ممالک میں شہریوں کو اپنے سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں میں زوال اور گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس کے مقابلے میں صرف 37 ممالک میں جمہوریت اور شہری آزادیوں کے حوالے سے صورت حال میں قدرے بہتری ہوئی ہے۔ آزادیوں پر منفی طرز کے اثرات نے ہر قسم کی حکومتوں کو متاثر کیا ہے۔ گزشتہ دس سالوں کے دوران صورت حال میں ڈرامائی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ پچھلی دہائی کے دوران آزادیوں کے حوالے سے بہتر قرار دیے جانے والے ممالک میں منفی اور جمہوریت کش اثرات نظر آئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں جمہوری اور آمریت پسند‘ دونوں قسم کے ریاستوں میں نسلی، مذہبی اور دیگر اقلیتی گروہوں کے ساتھ امتیازی سلوک، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سرکاری زیادتیوں کی شکایات آئی ہیں۔ یہ ماحول پیدا کرنے میں جہاں آمریت پسندوں کا کردار ہے، وہاں جمہوری طاقتوں کا اخلاقی انحطاط بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ بد قسمتی سے آمرانہ حکومتوں کی بے لگام بربریت اور جمہوری طاقتوں کا اخلاقی انحطاط‘ دونوں مل کر دنیا میں بہتر طرز حکمرانی کے لئے نا موافق ماحول پیدا کر رہے ہیں‘ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اس کے خلاف رد عمل اور مزاحمت بھی ہو رہی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا بھر میں جمہوریت، شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے لیے شہریوں کی نئی احتجاجی تحریکوں کی ایک حیرت انگیز تعداد ابھر کر سامنے آئی ہے، جو بنیادی حقوق کے تحفظ کی عالمگیر خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔
ان تحریکوں نے انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے خلاف مضبوطی سے مورچہ بند طاقت ور قوتوں کا مقابلہ کیا ہے‘ حالانکہ وہ قوتیں اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے جان لیوا طاقت استعمال کرنے پر تیار دکھائی دیتی رہی ہیں۔
بد قسمتی سے ان چند برسوں میں آزادیوں اور شہری حقوق کے حق میں ہونے والے مظاہرے اب تک شہری آزادیوں اور انسانی حقوق میں مجموعی طور پر در آنے والے زوال کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کی وجہ جمہوری قوتوں کی لا تعلقی ہے۔ جمہوری قوتوں کی جانب سے کھلی حمایت اور یکجہتی کے بغیر ان مزاحمت کاروں کا آمرانہ انتقامی کارروائیوں کا شکار ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر ”آمریت زدہ جمہوریتوں‘‘ میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کی ایک مشترکہ مثال میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانا ہے۔ یہ عمل دنیا کے بہت سارے ممالک میں ملتی جلتی شکلوں میں دہرایا گیا ہے۔ تیسری دنیا کے کچھ ترقی پذیر ممالک میں تو میڈیا پر پابندیاں ایک عام سی روزمرہ کی سرگرمی بن کر رہ گئی ہے۔ اس تلخ حقیقت کا اظہار کئی عالمی رپورٹوں میں ہوتا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق اس وقت ہمارے خطے کی صورت حال تشویش ناک ہے۔
آزادیٔ اظہارِ رائے اور پریس کی آزادی کے باب میں اس وقت دنیا کے ممالک کی فہرست میں ہندوستان ایک سو بیالیسویں اور پاکستان ایک سو پینتالیسویں نمبر پر ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس باب میں ان ممالک کی صورت حال نا گفتہ بہ ہے۔
یہ افسوس ناک بات ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، پاکستان میں ایک نسبتاً متحرک میڈیا سامنے آیا تھا، جو مکمل طور پر آزاد نہ سہی، مگر بہت سی خبروں اور آرا کو پیش کرتا تھا۔ حالیہ برسوں میں حکمران اشرافیہ نے میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے کے لئے بڑے اقدامات کیے ہیں۔ حالیہ چند برسوں کے دوران متعدد واقعات دیکھنے میں آئے، جس میں اشرافیہ نے انفرادی طور پر میڈیا پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تاکہ ان مسائل کو نہ اٹھایا جا سکے، جنہیں ارباب اختیار نا پسند کرتے ہیں۔ اس باب میں متعدد ہتھیار استعمال کیے گئے، جن میں تنقید کرنے والے میڈیا کو حکومتی اشتہارات نہ دینے کے روایتی انداز کے ساتھ ساتھ عارضی پابندیوں کے مختلف طریقے بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے‘ اس طرح کے اقدامات حکمران اشرافیہ کے تنقید اور نکتہ چینی کے بارے میں عدم برداشت کے رویے کے عکاس ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں