Asif Mahmood 90

آج ایک کام کیجیے

59 / 100

آج ایک کام کیجیے
آصف محمود
ایک کام کیجیے۔ آپ اپنی سوچ اور صلاحیت کے مطابق ایک فہرست بنائیے کہ پاکستان کو درپیش دس بڑے مسائل یہ ہیں۔ اس کے بعد آپ گھر کے کسی پرسکون گوشے میں بیٹھ جائیے اور سوچیے کہ کیا کبھی یہ مسائل پارلیمان میں زیر بحث آئے؟ کیا کبھی کابینہ نے ان پر سنجیدگی سے غور فرمایا؟ کیا کبھی پاکستان کی فکری اشرافیہ نے ان پر بات کی؟ کیا کبھی کسی ٹاک شو میں ان پر سنجیدہ مکالمہ ہو سکا؟ حتی کہ کیا ہم نے اپنی نجی محفلوں میں کبھی ان پر بات کرنے کی زحمت کی؟
نمونے کے طور پر ایک مختصر سی فہرست یہاں بنا لیتے ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ اس وقت کورونا کا ہے۔ سب کی نظریں ویکیسن پر ہیں لیکن کیا ہمارے ہاں کبھی یہ نکتہ زیر بحث آیا کہ ویکسین بن بھی گئی تو ہم تک کب پہنچے گی؟ ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس سال ویکسین تیار بھی ہو گئی تو پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک تک پہنچتے اسے مزید دو سے تین سال لگ سکتے ہیں کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کی مانگ بہت زیادہ ہونی ہے۔کیا کبھی پارلیمان میں کسی فاضل رکن نے حکومت سے پوچھا کہ پہلے مرحلے میں پاکستان میں ویکیسن کی دستیابی کے لیے اس کا پلان کیا ہے اور کیا کسی حکومتی رکن نے اس پر از خود کوئی بات کی یا یہ نکتہ کبھی کسی ٹاک شو میں اٹھایا گیاہو اور آپ نے سنا ہو؟
کورونا نے جن بحرانوں کو جنم دیا ہے ان میں ایک بحران تعلیم کا ہے۔ اس سارے عرصے میں وزارت تعلیم کی جملہ کارکردگی اس کے سوا کیا ہے کہ چھٹیاں کب کرنی ہیں اور کتنی کرنی ہیں۔ اپنی جگہ یہ بھی اہم اور ضروری سہی لیکن کیا اس سے آگے کچھ نہیں کرنا؟ آن لائن تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کیا حکومت کے پاس کوئی پلان ہے؟ سستے انٹر نیت اور اس کی ملک بھر میں فراہمی یقینی بنانے کا کوئی منصوبہ کہیں ہے؟ آن لائن تعلیم کے مسائل اور امکانا ت کے حوالے سے کبھی پارلیمان یا ٹاک شوز میں کوئی ڈھنگ کی گفتگو سنی ہے آپ نے؟
معیشت ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کیا کبھی آپ نے معیشت پر سنجیدگی اور درد دل کے ساتھ پارلیمان میں کوئی مکالمہ ہوتے دیکھا ہے۔کوئی ایسا مکالمہ جس میں ویژن، خیر خواہی اور صلاحیت بروئے کار آئی ہو؟کیا کبھی کسی ٹاک شو میں ایسا ہوا ہو کہ معیشت اپنے معاشی تناظر میں کسی گفتگو کا محور بنی ہو؟ یہاں عالم یہ ہے کہ معیشت پر کبھی بات ہو بھی جائے تو اس کا محور سیاست ہوتی ہے اور سارا زور خطابت یہ ثابت کرنے پر صرف ہو جاتا ہے کہ معاشی بربادی کا ذمہ دار عمران ہے یا نواز اور زرداری۔ گویایہ ہماری صلاحیتوں اور سنجیدگی کا نکتہ عروج ہے۔
کیا کبھی پارلیمان میں آپ نے اس نکتے پر غور ہوتے دیکھا ہے کہ پاکستان کے معاشی مسائل کی وجہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟ کیا کبھی کسی ایک سیشن کا ایک گھنٹہ بھی اس کے لیے مختص کیا گیا ہو کہ آئیے آج بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ پاکستان میں صنعت کا امکان کتنا ہے اور کس کس شعبے میں ہے اور ہر شعبے کے لیے کیا کیا فیصلے ناگزیر ہیں؟ کیا کبھی ایک دن بھی اس نکتے پر بات ہوئی ہے کہ ہمارا ویژن کیا ہے اور ہم نے اگلے دس پندرہ سالوں میں پاکستان کو کہاں لے جانا ہے؟ کیا کسی بھی شعبے میں ہمارے پاس کوئی سمت ہے اور ہم کسی بھی معاملے میں یکسو ہیں؟
بے روزگاری کا ایک سیلاب ہے اور ہر سال نوجوان ڈگریاں لیے میدان میں آ رہے ہیں۔ ملازمتیں تو ہیں نہیں۔ اب ان نوجوانوں اور ان کی ڈگریوں کا کیا کرنا ہے؟ کیا کبھی آپ نے پارلیمان میں یا پارلیمان سے باہر اس نکتے پر کوئی سنجیدہ گفتگو سنی ہے؟پارلیمان میں، یا ٹاک شوز میں یا کسی سیاسی جماعت کے ہاں کسی فکری نشست میں، کیا کبھی اس پر کوئی بات ہوئی ہے کہ ایف اے اور بی اے اور ایم اے کی ڈگریوں کی افادیت کیا ہے؟ جوانی کے قیمتی سال برباد کر کے یہ ڈگریاں حاصل کرنے والے نوجوان ملک و قوم کے لیے فائدہ مند ہیں یا جعلی معززین کی شکل میں بے روزگاروں کے لشکر تیار ہو رہے ہیں؟ کیا ہم نصاب پر غور کرنے کو تیار ہیں؟ کیا کسی کو احساس ہے ہماری قومی ضروریات کیا ہیں اور کیا ہماری ایف اے بی اے ایم اے کی ڈگریاں ان ضروریات کو پورا کر سکتی ہیں؟ ہمیں آگے بھی یہی فضول ڈگریاں بانٹنی ہیں یا ہمیں ایسے نظام تعلیم کی طرف بڑھنا ہے جہاں کار آمد ڈگریاں اور کار آمد تعلیم دی جا سکے؟آپ ہی بتائیے کیا کبھی آپ نے اس پہلو پر کسی کو سوچتے اور بات کرتے دیکھا ہے؟
اسی طرح امور خارجہ ہیں اور بہت سے مسائل وہاں بھی ہم سے لپٹ چکے ہیں۔ ایسے ایسے چیلنجز اٹھ کر سامنے آ رہے کہ سر چکرا جاتا ہے۔ظاہر ہے یہ فہرست مختصر نہیں ہے۔ یہ بہت طویل بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ مقصود نہیں۔ اپنی اپنی فہرست آپ خود بنائیے اور غور کیجیے کہ ہمارے مسائل کیا ہیں اور ہمارا قومی بیانیہ کیا ہے؟

ہماری پارلیمان میں اور ہماری سیاسی اشرافیہ کی گفتگو میں کتنی خوفناک سطحیت ہے؟ دن اسی چاند ماری میں بیت جاتا ہے اور پھر رات ہو تی ہے تو ٹاک شوز میں اسی چاند ماری پر رواں تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ نان ایشوز کو ایشو بنا دیا جاتا ہے اورغیر سنجیدگی کی میراتھان ریس شروع کر دی جاتی ہے۔شرکاء کا انتخاب ان کے علم و فضل کی بنیاد پر نہیں ان کی زبانوں کے طول و عرض کی بنیاد پر ہوتا ہے۔جو اس باب میں جتنا خود کفیل ہو وہ اس معرکہ میں اتنا ہی ناگزیر سمجھا جاتا ہے اور رستم قرار پاتا ہے۔

کسی سیاسی جماعت کے ہاں کسی قسم کی فکری مشق کے لیے کوئی فورم موجود نہیں ہے جہاں سنجیدہ مسائل پر غور کیا جائے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہر صف نے دس بارہ غیر سنجیدہ لوگ رکھے ہوئے ہیں جن کا بنیادی کام ہی روز کی بنیاد پر ایک تماشا لگانا ہے اور پھر ساری قوم اس تماشے پر رواں تبصرہ کرتی رہتی ہے۔

روز ایک نیا نان ایشو کھڑا ہو جاتا ہے روز ان نان ایشو پر ماہرین ماہرانہ تبصرے فرما تے فرماتے سو جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں