آئی ایس آئی اور عمران خان کی سیاست 115

آئی ایس آئی اور عمران خان کی سیاست

63 / 100

آئی ایس آئی اور عمران خان کی سیاست
سید مجاہد علی
وزیر اعظم نے گزشتہ ہفتہ کے دوران ملک کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کمیٹی کی سربراہی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائیریکٹر جنرل کو سونپی گئی ہے۔یہ اقدام ملک کی سول انٹیلی جنس ایجنسیوں کو براہ راست آئی ایس آئی کے تابع کرنے کے مترادف ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق نیشنل انٹیلی جنس کو آرڈی نیشن کمیٹی کاقیام ملک میں انٹیلی جنس معلومات میں رابطہ کاری کے لئے اہم تھا ۔ دلیل کے طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایجنسیوں کے باہمی رابطہ میں کمی کے باعث پیش آنے والی مشکلات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم رابطہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جس وقت ملک میں دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پایا جاچکا ہے اور بظاہر یہ جنگ جیتی جاچکی ہے۔ اس کے باوجود یہ بات تسلیم ہونی چاہئے کہ ملک کی خفیہ ایجنسیوں میں مواصلت کا بہتر نظام قائم ہونا ضروری ہے ۔ تاہم حیرت ہے کہ ملک کی بااختیار سول حکومت کسی وزیر یا دوسرے سول ادارے کو یہ ذمہ داری سونپنے کی بجائے درجن بھر سے زائد سول ایجنسیوں کا کنٹرول آئی ایس آئی کے حوالے کر رہی ہے۔ سب ایجنسیاں اب براہ راست آئی ایس کے سربراہ کی نگرانی میں کام کرنے پر مجبور ہوں گی۔ یہ اقدام ملک میں فوجی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بالادستی پرمنتج ہوگا جس میں سول حکومت کی خود مختاری اور عوامی حاکمیت کا آئینی تقاضہ سب سے پہلے متاثر ہوگا۔
پاکستانی آئی ایس آئی کو دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم کسی بھی خفیہ ایجنسی کی کارکردگی کے حوالے سے عوام کو وہی معلومات حاصل ہوتی ہیں اور وہ انہیں تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جو اس ایجنسی کی طرف سے فراہم ہوتی ہیں۔ صلاحیت کے بارے میں ایسے دعوؤں کی حیثیت بنیادی طور پر قومی فوج یا دیگر اداروں سے عمومی وابستگی کے تناظر میں ہی پرکھنی چاہئے۔ فوجی ایجنسی کے طور پر آئی ایس آئی کی ضرورت اور کارکردگی پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ خاص طور سے پاکستان کو بھارت کی طرف سے جو اندیشے لاحق ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج جس طرح بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے عوامی خواہشات کو کچلتی ہیں، ان کی روشنی میں پاکستان کو بھی ایسی فعال ایجنسی کی ضرورت ہے جو ہر وقت دشمن ملک کی کارروائیوں پر نگاہ رکھ سکے اور جارحانہ عزائم کے بارے میں بروقت آگاہ کرے۔ افغانستان میں مسلسل بدامنی کی کیفیت اور پاک ایران سرحد پر دگرگوں صورت حال پر نظر رکھنے کے لئے بھی آئی ایس آئی جیسے ادارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
تاہم ملک میں خفیہ معلومات اکٹھی کرنے کا کام کرنے والی سب ایجنسیوں کی نگرانی آئی ایس آئی کے سپرد کرتے وقت ملکی سیاست میں آئی ایس آئی کے کردار اور ماضی میں اس کے بعض فیصلوں پر بھی نگاہ رکھنا ہوگی۔ چند ہفتے پہلے وزیر اعظم عمر ان خان خود یہ بیان دے چکے ہیں کہ ’فوج میرے ساتھ تعاون کرتی ہے کیوں کہ آئی ایس آئی کو معلوم ہے کہ میں ایماندار ہوں۔ اور انہیں سابقہ لیڈروں کی چوریوں کا بھی علم تھا‘۔ اگرچہ یہ بیان نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ مستحکم کرنے اور خود کو اعلیٰ صفات کا حامل قرار دینے کے لئے دیا گیا تھا لیکن یہ بیان ملک کے وزیر اعظم نے دیا تھا جسےملکی آئین کا پابند ہونا چاہئے، اور وہ مکمل طور سے آئینی تقاضوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتا ہو۔ اس حوالے سے اگر وزیر اعظم کے بیان کو پڑھا جائے تو یہ سمجھنے میں مشکل نہیں ہوگی کہ وزیراعظم درحقیقت یہ اعلان کررہے تھے کہ ملک میں کسی شخص کو وزیراعظم بننے کے لئے عوام کے ووٹوں سے زیادہ ’آئی ایس آئی ‘ کے کیریکٹر سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک طرف عمران خان بار بار کہتے ہیں کہ فوج میرے تابع فرمان ہے اور اس کی طرف سے مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے تو دوسری طرف آئی ایس آئی سے تصدیق شدہ دیانتداری کو اپنے وزیر اعظم بننے کی وجہ بھی قرار دیتے ہیں۔
یہ حوالہ دینا اس لئے اہم ہے کہ ملک کا آئین کسی فوجی ایجنسی کو شہریوں کے لین دین کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے اور انہیں کسی شخص کا سیاسی کردار متعین کرنے کے لئے استعمال کرنے کا حق نہیں دیتا۔ بطور انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کا یہی کردار دراصل اسے ’سپر ایجنسی‘ بنانے کے حوالے سے شبہات پیدا کرتا ہے۔ یہ معلومات عام ہیں کہ آئی ایس آئی میں ایک پولیٹیکل سیل کام کرتا ہے لیکن دیگر معاملات کی طرح اس شعبہ کی کارکردگی، دائرہ کار، ضرورت یا اختیارات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔ اب آئی ایس آئی کو ملک کی کل انٹیلی جنس کمیونٹی کی قیادت سونپتے ہوئے یہ وضاحت ہونی چاہئے کہ آئی ایس آئی کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں اور ملکی سیاست میں اس کی مداخلت کو ختم کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کا یہ دعویٰ کافی نہیں ہے کہ فوج یااس کے ادارے ان کی حکومت کو کسی قسم کی ہدایات نہیں دیتے اور وہ پالیسی سازی اور فیصلے کرنے میں مکمل طور سے آزاد ہیں۔ کیوں کہ یہی وزیر اعظم یہ بھی بتا چکے ہیں کی آئی ایس آئی ، ان سمیت ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کے مالی معاملات کے بارے میں معلومات اکٹھا کرتی ہے۔ جو ایجنسی سیاست دانوں کے مالی معاملات پر نگاہ رکھ سکتی ہے، وہ ان کی نجی زندگی کی حساس معلومات بھی ضرور جمع کرتی ہوگی جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جاتا ہوگا۔ جیسے بقول عمران خان :’نواز شریف اور آصف زرداری کی چوری کی وجہ سے فوجی ایجنسی ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتی تھی‘۔
آئی ایس آئی اور اس کے موجود سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا کردار نومبر 2017 کے فیض آباد دھرنا میں بھی سامنے آیا تھا۔ فیض حمید نے جو اس وقت میجر جنرل کی حیثیت سے آئی ایس کے ڈائیریکٹر تھے، حکومت کے ساتھ تحریک لبیک کے معاہدہ میں ’ثالث‘ کی حیثیت سے دستخط کئے تھے۔ اس کے علاوہ دھرنا ختم ہونے پر وہاں جمع تحریک لبیک کے کارکنوں میں نقد رقم تقسیم کرنے کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل رہی تھیں۔ پاک فوج یا حکومت نے دھرنے میں فیض حمید یا آئی ایس آئی کے کردار پر کوئی سوال اٹھانا ضروری نہیں سمجھا۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور عمران خان کی تھیوری کے مطابق ایجنسیاں ’چوروں کی حکومت ‘ کے ساتھ تعاون نہیں کرتیں۔ البتہ انہیں یہ وضاحت کرنا پڑے گی کہ کیا منتخب حکومتوں کے خلاف احتجاج منظم کروانا اور انہیں غیر مستحکم کرنا آئی ایس آئی کے فرائض منصبی کا حصہ ہے۔ بعد میں تحریک لبیک کے دھرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ نے گزشتہ سال کے شروع میں جو فیصلہ جاری کیا تھا ، اس میں اس دھرنے میں آئی ایس آئی کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے آرمی چیف کو ہدایت کی گئی تھی کہ ایسے معاملات میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یاوش بخیر عمران خان کی حکومت نے اسی فیصلہ میں آئی ایس آئی اور تحریک انصاف کا ذکر کرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو برطرف کروانے کے لئے ان کے خلاف ’غیر قانونی‘ ریفرنس بھی دائر کیا تھا۔
ملک میں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم اس وقت سیاست میں اداروں کی غیر آئینی مداخلت کے خلاف تحریک چلا رہا ہے۔ جبکہ عمران خان نے آج ہی اپنے ٹوئٹ پیغامات میں اس تحریک کو عوام دشمنی پر محمول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’اپوزیشن کی قیادت ایسے لوگوں کے پاس ہے جو کبھی سیاسی جدوجہد سے نہیں گزری، نہ انہوں نے کبھی عام شہریوں کو درپیش مشکلات کے لیے کام کیا‘۔ جمہوریت اور آزادی رائے کی طرح عام شہریوں کی بہبود یا سیاسی جد و جہد کے بارے میں بھی عمران خان کا ایک مخصوص نقطہ نظر ہے۔ اس میں بھی امریکہ میں انتخاب ہارنے والے صدر ٹرمپ کی طرح ہر اس لیڈر کو مسترد کیا جاتا ہے جو ان کی رائے سے متفق نہ ہو۔ لیکن عمران خان اور حکومت پر یہ واضح ہونا چاہئے کہ ملک کا آئین اس حوالے سے مبہم نہیں ہے۔ سیاسی عمل میں عوامی رائے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوئی بھی کوشش غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ عمران خان اپوزیشن لیڈروں کو چور قرار دے کر ملک میں آئین کا احترام کرنےکے مطالبے کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔
عمران خان نے گزشتہ روز دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’وہ خود تو نامزد نہیں ہیں لیکن نواز شریف اور بھٹو ضرور فوج کے پروردہ تھے‘۔ اس طرح وہ اصولی طور پر یہ تسلیم کررہے ہیں کہ فوج ماضی میں سیاسی عمل میں غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی مداخلت کرتی رہی ہے۔ نیا پاکستان بنانے اور ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کرنے کا علم بلند کرنے والے وزیر اعظم کیا ان عسکری اداروں کے خلاف بھی تحقیقات اور اقدام کا اعلان کریں گے جنہوں نے ماضی میں بھٹو یا نواز شریف جیسے لیڈروں کو قوم پر ’مسلط ‘ کیا تھا؟ یا تطہیر کا کام سیاسی لیڈروں پر الزام تراشی سے ہی پورا ہوجائے گا؟
آج وزیر اعظم نے اعلیٰ فوجی قیادت اور وزیر خارجہ کے ہمراہ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں قومی اور علاقائی سلامتی کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔ قومی سلامتی پر بریفنگ کے دوران کیا انہوں نے یہ سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس کی کہ آئی ایس آئی سمیت سب ایجنسیوں کے سیاسی کردار کو ختم کیا جائے کیوں کہ ایجنسیوں کا یہی کردار اس وقت ملکی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنا ہؤا ہے۔ یہ استفسار کرنا یوں بھی ضروری تھا کہ آئی ایس آئی کو اب تمام ایجنسیوں کا نگران بنانے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں