mufti gulzar Ahmed naeemi Article 146

خلیج پر جنگ کے بادل: مفتی گلزار احمد نعیمی

خلیج پر جنگ کے بادل
ہفتہ,14 ستمبر 2019 کو سعودی عرب کے شہر بقیق اور خریص کے علاقوں میں آرامکو کمپنی کی پٹرولیم تنصیبات پر ایک بڑا ڈرون اٹیک ہوا جس نےبے پناہ تباہی کی اور بقیق آئل فیلڈ شدید ترین آگ کی لپیٹ میں آگیا۔اس حملہ نے تیل کی عالمی منڈی کی طلب ورسد کو شدید متاثر کیا۔پیر کے روز دن کی بالکل ابتداء ہی میں تیل کی قیمتیں گزشتہ چار ماہ کی بلند ترین سطح پر آگئیں ۔بقیق ریفائنری دنیا میں تیل صاف کرنے کا سب سے بڑا کارخانہ ہے۔اس کے متاثر ہونے سے دنیا میں تیل کی رسد میں تقریبا 5 فیصد تک کمی آئی ہے۔اس تباہ کن حملہ کی ذمہ داری یمن کے حوثیوں نے براہ راست قبول کر لی ہےمگرامریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ان حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔اسی طرح امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ بات یقینی دکھائی دے رہی ہےکہ سنیچر کو سعودی عرب میں تیل کی تنصیابات پر حملوں کے پیچھے ایران کاہی ہاتھ ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکہ کے اس الزام کو یکسر مسترد کردیا ہےاور اسے صریحا دھوکہ قرار دیا۔امریکی صدر نے سعودی ولی عہد ایم بی ایس کو ٹیلیفون کیاکہ تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ہم حاضر ہیں مگر سعودی ولی عہد نے بہت دانشمندی سے اس “پیشکش” کو شکریہ کے ساتھ قبول کرنےسے کردیا ہے اور کہا ہے کہ سعودیہ اس قسم کے مسائل سے نبٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ ہر صورت ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ چاہتا ہے کیونکہ امریکہ کی معیشت کو 15 ٹرلین ڈالرز کے خسارے کا سامنا ہے اور ظاہر ہے کہ اس نےعربوں سے ہی پورا کرنا ہے۔اسکی وجہ یہ ہے کہ فی الوقت امریکہ سعودی عرب پر مکمل پنچے گاڑے ہوئے ہے اور سعودی عرب کے بادشاہ سلامت اللہ سے بڑھ کر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی بادشاہت کا محافظ سمجھتے ہیں۔امریکہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ براہ راست ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ سکےکیونکہ ایران خطہ کی ایک مضبوط معاشی اور عسکری قوت ہے۔
حیرت ہے کہ 41 ممالک کی فوج جمع کرکے بھی سعودی عرب اتنا غیر محفوظ ہے کہ حوثیوں نے میزائل حملے کی سعودیہ کو خبر تک نہ ہونے دی اور ان کے میزائل بغیر کسی مزاحمت کے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔اس حملے نے سعودیہ کی دفاعی قوت کو بہت بری طرح واشگاف کر دیا ہے۔سعودی عرب نے اسلامی دنیا میں اپنا وقار کم کیا ہے۔دولت کی بہتات کے باجود اسلامی دنیا میں اس کی لیڈر شپ کمزور پڑ گئی ہے۔اب سعودیہ کو کوئی اسلامی ملک اپنا لیڈر نہیں مانتا۔ایران، قطر ،عراق،مصر اور ترکی اسلامی دنیا کے اہم ممالک ہیں جنکے سعودیہ سے کوئی اچھے تعلقات نہیں ہیں اس کے برعکس ایران کے اسلامی دنیا کے تقریبا تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
امریکی سی آئی اےسعودی عرب کے تقریبا تمام اداروں میں گھس چکی ہے۔یہ تین بڑے کام کررہی ہی ہے۔ ایک سعودیہ کے وسائل لوٹ رہی ہے،دوئم سعودی عرب سے اسلامی روایات کے مکمل خاتمے کے لیے سر گرم عمل ہے اور سوئم اسلامی دنیا میں سعودیہ کے دوستوں میں کمی اور دشمنوں میں اضافہ کررہی ہے۔امریکہ نے سعودیہ کو دنیا میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کیااور اب وہ کہہ رہا ہے کہ دنیا میں دہشت گردی تمہاری وجہ سے پھیلی ہے اس لیےاس کے خاتمے کے لیےاور اس تائثر کو زائل کرنے کے لیے کچھ ایسے اقدامات کرو جس سے یہ ظاہر ہوکہ سعودی عرب ایک آزاد خیال ملک ہے اور اسلام سے اسکا اب کوئی خاص تعلق نہیں ہےاور یہ دہشت گرد ہے اور نہ دہشتگردوں کا حمایتی۔اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ سعودی حکومت سے 500 ارب ڈالرز کی لاگت سے ایک نیا شہر آبادکروا رہا ہے جو عریانی، فحاشی اور روشن خیالی کے حوالے سے یورپ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔اس شہر کو بسانے میں زیادہ تر امریکی کمپنیاں کام کررہی ہیں۔میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ تقریبا ایک ننگی عورت سورہ فاتحہ کی تلاوت کےساتھ ایک نائیٹ کلب میں کنسرٹ کا افتتاح کرے گی۔میں نے قرآن مجید کی یہ بے حرمتی اپنی آنکھوں سے پہلی بار دیکھی۔یہ سب کچھ امریکہ کروا رہا ہے اور وہ ایک تیر سے بے شمار شکار کررہا ہے۔سعودی عرب کو خطے میں اپنی دشمنیاں کم کر کے دوستوں میں اضافہ کرنا چاہیے،یہی خود سعودی عرب کے لیے اور اسلامی دنیا کے لیے محفوظ راستہ ہے۔
سعودی عرب کے برعکس ہم ایران کی حکمت عملی جب دیکھتے ہیں تو ایک بات بہت واضح نظر آتی ہے کہ وہ اپنے تمام دشمنوں کے ساتھ اپنے تحفظ کی جنگ اپنے ملک سے باہر نکل کر لڑ رہا ہے۔اس نے اپنی پراکسیز کو بہت مضبوط کرلیا ہے۔اس نے خطے میں اپنے دوستوں میں اضافہ کیا ہے۔روس اور چین اس کے بہترین دوست ہیں۔چین تو ایران میں 400 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرچکا ہے جس نے ایران چین دوستی کو اور مضبوط کر دیاہے۔ چین ایران میں اپنے منصوبوں کے تحفظ کے لیے5000 محافظین کوایران میں بھیج رہا ہے۔ایران کی خلیج فارس میں بہت مضبوط پوزیشن ہے اور چین کی دوستی نے اسے اور مضبوط کیا ہے
اس تمام صورت حال میں پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور سعودی عرب کی لڑائی کو امہ کی لڑائی سمجھ کر اس جنگ میں بالکل نہیں کودنا چاہیے۔میں سعودی عرب کا مستقبل بہت ہی مخدوش دیکھ رہا ہوں۔امریکہ اسے تباہ کر کے ہی دم لے گا۔اس تازہ حملہ کے بارے میں بعض تجزیہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ حملہ اسرائیل نے امریکہ کے اشارے پر کیا ہے تاکہ وہ جنگ کی کیفیت پیدا کرکے اپنا اسلحہ سعودی عرب کو بیچ کر اپنے معاشی خسارے پورے کر سکے۔لیکن چونکہ حوثیوں نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اس لیے ہم اسرائیل کے حملہ کے امکان کو درست نہیں سمجھتے۔ سعودیہ کو بڑے ہوش سے کام لینا ہو گااور حملہ آور کے تعین میں حقیقت پسندی کو اپنانا ہوگا۔سعودی عرب کا گوشت نوچنے کے لیے ہر طرف سے گدیں اپنی چونچیں تیز کیے بیٹھی ہیں۔سعودی عرب کے تیل اور معیشت پر پوری غیر اسلامی دنیا نظریں جمائے بیٹھی ہے۔سعودی عرب اگر اپنے اختلاف ایران سے ختم کر لے تو اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں رہتی۔سعودی ایران تعلقات بحالی کوئی مشکل کام نہیں ہے اگر سعودی عرب اسرائیل اور امریکہ سے جان چھڑا لے تو ایران بلامشروط اس کے ساتھ دوستی کرنے پر راضی ہو جائے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں