ایک تاریخی انوکھا_خطبہ  :رشید احمد چغتائی 7 73

ایک تاریخی انوکھا_خطبہ :رشید احمد چغتائی

ایک تاریخی نوکھا_خطبہ “نبی ہمارے دل میں رہتے ہیں اور دل کا درد جسم کی درد سے بہت زیادہ ہوتا ہے”
(دل کے درد کو محسوس کرانے والے ایک طبیب کے نام )

آج میں نے ایک خطبہ سنا – آج نہ تو کوئی اسلامی تہوار تھا – نہ رائونڈ کا اجتماع تھا اور نہ ہی یوم عاشورہ – نہ مسجد تھی اور نہ ہی کسی مسجد کا منبر – نہ خطبہ سنانے والا کوئی باریش مولانا تھا اور نہ ہی اس کے سننے والے سارے مسلمان – نہ خطبے کی زبان عربی تھی اور نہ اس کا انداز وجدانہ – نہ اس کا موضوع کوئی فتویٰ تھا اور نہ اس کا مقصد کوئی ثواب فقیرانہ – پھر بھی میں نے آج اپنی زندگی کا ایک شاندار خطبہ سنا – ایسا خطبہ جس کا موضوع پوری امت’ امت کا وقار’ امت کے رہبر اور فخر کائنات (صلی الله وسلم ) کی ناموس کا تحفظ اور اس امت پر دہشتگردی کے الزام کا دفاع تھا –

عجیب خطبہ تھا جس کا خطیب آکسفورڈ کا پڑھا ہوا ایک ملک کا وزیر اعظم تھا – یہ خطیب نہ زیادہ بلند آواز میں بول رہا تھا اور نہ آنسو بہا رہا تھا پھر بھی اس کے الفاظ سوا ارب مسلمانوں کے جذبات کے عکاس تھے- وہ مسلمان جن میں سے بہت سے ان پڑھ بھی ہونگے ؛ جاہل بھی ہونگے ؛ بے زبان بھی ہونگے توتلے بھی ہونگے؛ بہت مذہبی بھی ہونگے, مجھ جیسے بھی ہونگے ……………لیکن ہر دفعہ اپنے اپنے انداز میں تڑپتے بھی ہونگے اور سراپا احتجاج بھی ہوتے ہونگے جب جب ان کے مذھب کو دہشتگردی کی علامت قرار دیا جاتا ہوگا اور ان کے نبی جن پر ان کی آل اولاد قربان ہو ؛ ان کی شان میں ” آزادی راے” کے نام پر گستاخی کی جاتی ہوگی – آج نیویارک میں “اسلامو فوبیا” کے خلاف ترکی کے طیب اردگان کے ساتھ مل کر یہ خطیب ان سب کا ترجمان بنا ہوا نظر آیا ——— مفت میں – بنا کہے – ایوی ہی -عاجزانہ – رضاکارانہ ———- ایسا خطبہ جس میں نہ صرف عشق رسول تھا بلکہ تدبر اور لوجیک سے بھرپور تاریخ عالم کے دلائل اور حوالے بھی تھے کہ مذھب دہشتگردی نہیں سکھاتا بلکہ اس کا شکار ہوتا ہے – جنونی انتہاپسند صرف مسلمان نہیں ہوتا بلکہ یہودیت ، عیسایت اور ہندومت میں بھی ایسے جنونی پاے جاتے ہیں – خود کش حملے بس نائن الیون والا مسلمان نہیں کرتا بلکہ دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں نے بھی امریکا کے جہازوں پرایسے فدائی حملے کیے؛ ہندو تامل ٹائگرز نے بھی سری لنکا میں یہ حملے کیے لیکن ان معاملوں میں بس انسانوں کا نام آیا ان کے مذہب کا نہیں – نیوزیلینڈ میں جس نے پچاس مسلمان مارے کیا میں اس کو مذھب سے جوڑ دوں؟

عجیب خطیب تھا —- جو اپنے آپ کو الزام دیتا رہا کہ ہم مسلم لیڈروں سے غلطی ہوی کہ ہم نے مغرب کو مسلمانوں کے نبی صلی اللہ وسلم کے بارے میں احساسات سے ٹھیک سے آگاہ نہیں کیا – اس بات سے آشنا نہیں کیا کہ نبی ہمارے دل میں رہتے ہیں اور دل کا درد جسم کی درد سے بہت زیادہ ہوتا ہے –

اس خطبے میں “ہولو کاسٹ” کا بھی ذکر تھا – وہ ہولوکاسٹ جس پر امریکا میں بات بھی نہیں کی جاتی کہ یہودیوں کا دل نہ دکھے اور ان کے زخم ہرے نہ ہوجائیں – لیکن عجیب مبلغ تھا – اس کا بھی ذکر کر بیٹھا کہ دل مسلمان کے سینے میں بھی ہوتا ہے جو بری طرح مجروح ہوتا ہے جب اس کے دل سے بھی قریب محبوب نبی حضرت محمد صلی الله وسلم کی شان میں غلط الفاظ یا تصاویر کا استعمال کیا جاتا ہے – جیسے ہولوکاسٹ پر مغرب بات کرنے سے پرہیز کرتآ ہے ایسے ہی اسے شان محمدی صلی الله وسلم کے بارے میں بھی آزادی راے کے نام پر حد سے تجاوز کرنے سے گریز کرنا ہوگا –

مجھے آج بہت خوشی ہوئی کیوں کہ کچھ ماہ قبل ایک سینئر یہودی ڈاکٹر نے مجھ سے نبی پاک اور اسلام کے بارے میں ایسے ہی سوال کیے تھے جن میں اس نے سورہ توبہ کی آیت کا ریفرنس دے کر یہ پوچھا تھا کہ “اسلام میں تو حکم ہے کہ سب کافروں کو جہاں ملے مار ڈالو —– ” اور دوسرا سوال تھا ” کہ ہم جب اپنے نبی حضرت عیسی کے بارے میں فلموں میں کارٹون بنالیتے ہیں تو اپ لوگ اپنے نبی کیلئے کیوں اتنا برا مناتے ہیں ” —– اور تب میں نے جواب دیا تھا کہ ” یہ آیت غزوہ احد کے دنوں میں نازل ہوئی تھی جب حالت جنگ میں سامنے والے کو مارا ہی جاتا ہے – کیا آپ امریکا ویت نام جنگ میں ویت نامی فوجیوں کو مارتے تھے یا پھول پہناتے تھے ؟ “اور ہم اپنے نبی کے ساتھ ساتھ حضرت عیسی کا بھی اتنا ہی احترم کرتے ہیں جیسا کہ سورہ بقرہ کی آخری آیات میں ذکر ہے – تو ہم آپ سے بھی ایسا کرنے کی امید کرتے ہیں ” – آج عمران خان صاحب نے ایسے ہی خیالات کا ذکر کر کہ مجھے اپنے عقاید پر اور بھی پختہ کردیا –

یقین جانیے…! میں نے اب تک بہت سے خطبے سنے ہیں – عربی میں – اردو میں – جمے میں – عیدوں میں – لیکن یہ اپنی نوعیت کا انوکھا خطبہ تھا جس میں میں نے ایک “یہودی ایجنٹ ” کو ایک نصرانی ملک میں بیٹھ کر ناموس رسالت اور حرمت اسلام کا پرچار کرتا دیکھآ – اور یہ سب اس وقت ہو رہا تھا جب ایک عالم دین ایک مسلم ملک پاکستان میں بیٹھا سیاسی دھرنے کیلئے “ناموس رسالت ” کی پرچی بیچ رہا تھا – اس کے بعد مجھے فرق سمجھ آگیا – بہت اچھی طرح سے سمجھ آگیا فرق —– “پرچی” میں اور “پرچار” میں –

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا……!
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
رشید احمد چغتائی

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں