مولوی فضل الرحمان کا متوقع دھرنا 88

فضل الرحمٰن کا متوقع دھرنا اور ایرانی اسلامی انقلاب . تحریرمحمد شیر سیالوی

فضل الرحمٰن کا متوقع دھرنا اور ایرانی اسلامی انقلاب

اگرچہ 1996 سے قبل بھی ایک آدھ چھوٹے دھرنے دیۓ گۓ مگر اسلام آباد سطح پہ باقاعدہ دھرنا سیاست کا موجد مرحوم قاضی حسین احمد کو مانا جاتا ہے ، انہوں نے PP حکومت کے خلاف دھرنا دیا تھا،
ازاں بعد علامہ طاہر القادری اصلاحات اور کرپٹ سسٹم کی مکمل تطہیر کے لئے دو بار دھرنا لے آۓ آخری بار انکے ساتھ عمران خان بھی تھے جنہوں نے 126 دن کا طویل دھرنا دیا،
ایک بار پھر اسلام آباد مذہب و سیاست کے ملے جلے دھرنے کی میزبانی کے لئے تیار دکھائی دیتا ہے، آنے والے دھرنے کے مقاصد یا فوائد و مضمرات تو آنے والا وقت ہی بہتر بتا پاۓ گا ، البتہ بات کرتے ہیں فضل الرحمٰن کے ایک رکن سینٹ کی ، گزشتہ دنوں موصوف ایک ٹی وی انٹرویو میں فرما رہے تھے کہ ہم ایسا دھرنا لا رہے ہیں کہ دنیا ایرانی انقلاب کو بھول جائے گی ،
حیرت اس بات کی ہے کہ محترم سینٹر زمینی حقائق کیساتھ ساتھ پڑوسی اسلامی ملک ایران کی تاریخ سے بھی نابلد نظر آتے ہیں، پاکستان میں دینی جماعتیں گزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار کے ایوانوں میں اسلامی نظام کے قیام کے مختلف دلکش اور پرفریب نعروں کیساتھ موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے دیگر مفاد پرست سیاسی جماعتوں کے ساتھ نام نہاد دینی جماعتوں نے بھی اس فرسودہ استحصالی اور ظالمانہ نظام کو پروان چڑھا کر اپنا حصہ بقدرِ جُسہ ضرور حاصل کیا ہے ، اب چلے ہیں نۓ شکار کے لئے اور مثال پیش کرتے ہیں ایرانی اسلامی انقلاب کی بلکہ اس کو بھی پیچھے چھوڑنے کی،
امام خمینی دنیا کے ایک ایسے مضبوط انقلاب کے منفرد رہنما مانے جاتے ہیں جنہوں نے نہ صرف ایران میں قائم صدیوں پرانی شہنشاہی حکومت کا خاتمہ کیا بلکہ ایران پر مغربی طاقتوں کی بالادستی کو بھی ختم کر ڈالا.
خمینی نوجوانی کے ایام سے ہی ایران میں بادشاہی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے پُرعزم تھے. سیاسی بصیرت اور انقلابی جذبے کی وجہ سے وہ شروع دن سے ہی رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کے لئے خطرہ سمجھے گئے.
ایران کے بادشاہ محمد رضا پہلوی کی جانب سے امام خمینی اور عوام کے درمیان فاصلہ رکھنے کے لئے 1964 میں اپنے گھر میں گرفتار ہوۓ اور اس کے بعد ایران سے جلاوطن کئے گۓ اور ترکی میں چلے گئے.
خمینی نے ترکی میں بھی ایرانی بادشاہ کے خلاف اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا،
ترکی کی جلاوطنی کے 11 مہینوں کے بعد 1965 کو عراق چلے گئے اور پھر 1978 کو فرانس کے شہر پیرس گئے۔
جلاوطنی کے تمام سالوں کے دوران امام خمینی کے پیغامات ان کے دوستوں کے ذریعہ ایران میں مظلوم اور ظالمانہ نظام کی پسی ہوئی عوام کو پیش ہوتے رہے، لہذا ایرانی عوام نے شاہی حکومت سے مقابلہ کرنے اور اسلامی حکومت کے قیام کے لئے اپنے لیڈر کے شانہ بشانہ بہت کوششیں کی.
امام خمینی کی قیادت میں شاہی حکومت کے خلاف عوامی جد و جہد اتنی بڑھ گئی تھی کہ اسلامی انقلاب کی تشکیل اور شاہی حکومت کے خاتمے کا وقت آگیا تھا.
امام خمینى جب1 فرورى 1979ء كو سولہ سالہ جلا وطنى كے بعد وطن واپس آئے اور دس دنوں کے بعد 11 فروری 1979 کو 2500 سالہ سلطنتی حکومت کو شکست ہوئی اسلامی انقلاب کامیاب ہوگیا۔
دوسری طرف پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے آپ اس فرسودہ استحصالی اور ظالمانہ نظام کے محافظ رہے ہیں، 1990 کے بعد آپ کسی نہ کسی شکل میں اقتدار میں رہ ہر کر ہر چنگی ماڑی حکومت کے دسترخوان سے اپنی پسند کا “ماحضر” حاصل کرتے رہے ہیں ، اب دعوے کرتے ہیں ایرانی انقلاب سے بھی بڑا معرکہ بپا کرنے کا،
پھر دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ ناموس رسالت جیسا عظیم ٹائٹل دیکر اپنا الو سیدھا کرنے کے چکر میں ہیں،
اسلامی جمہوریہ ایران سے بےشمار نظریاتی اختلافات ہو سکتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے ایرانی انقلابی قیادت اپنے عوام کے ساتھ مخلص تھی، انکے اندر ملک و قوم کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ اور لگن تھی بہت جلد انہیں منزل مل گئی،
مگر یہاں۔۔۔۔۔۔۔ الاماشاءاللہ
یہی دھرنا اگر ڈاکٹر طاہر القادری دیں تو آپ اسے مسلمانوں کا جے سالک کہیں، عمران خان دھرنا دیں تو یہودیوں کا ایجنٹ کہلائے ، لیکن آپ کے مفادات پہ زد پڑے تو سب کچھ کرنا نہ صرف حلال ٹھہرے بلکہ واجب قرار پاۓ،
وکی لیکس نے بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑا کہ اگر امریکہ ہمیں وزیراعظم بنوانے میں راہ ہموار کرے تو ہم اسکے مفادات کا تحفظ کریں گے۔
اگر آپ واقعی ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہیں اور اپنی زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس گندے سسٹم سے نکلیں، آپ کو بلآخر اس نظریے پہ آنا پڑے گا کہ بوسیدہ عمارت کو گرا کر نۓ سِرے سے تعمیر کرنے کے لئے اس سے باہر نکل کر ضربیں لگانے پڑتی ہیں،
اس کرپٹ سسٹم میں رہتے ہوئے آپ سو سال تک اسے درست نہیں کر سکتے۔
محمد شیر سیالوی

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں