❇ تسلی کے دو بول ❇ 39

❇ تسلی کے دو بول ❇

❇ تسلی کے دو بول ❇
تحریر:
ثقلین عباس اعوان
فتح جنگ
ایک حفظ کے ادارے میں قاری صاحب کے پاس ملاقات کیلیے جانا ہوا.دورانِ گفتگو ایک آدمی اچانک کلاس میں داخل ہوا اور ایسے بےتکلفانہ انداز میں چلتا ہوا قاری صاحب کے پاس آبیٹھا جیسے وہ اس کلاس یا اسی ادارے کا فرد ہو. حیران کن بات یہ تھی کہ آنے والے کی ظاہری حالت اس کے کاشتکار ہونے کی عکاسی کر رہی تھی.بیٹھتے ہی اپنی ٹھوس پنجابی میں قاری صاحب کو بلا تمہید اپنی داستانِ غم سنانا شروع کر دی.میں بڑا حیران و پریشان اس شخص کو دیکھے جا رہا تھا کہ یہ تو ان قاری صاحب کو ایسے دکھڑا سنائے جا رہا ہے جیسے ابھی قاری صاحب یہاں بیٹھے بٹھائے کسی جادوئی چھڑی سے اس کے غم کا مداوا کر دیں گے.وہ سنائے جا رہا تھا اور قاری صاحب کی عظمت کو سلام کہ جو اتنی توجہ سے اس شخص کو سنے جارہے تھے کہ گویا ان دونوں کے سوا وہاں کوئی موجود ہی نہ ہو.اپنے غم کا دکھڑا سناتے سناتے اب تو اس شخص کی آنکھوں سے آنسو بھی ایسے ٹپ ٹپ بہنا شروع ہوگئے تھے جیسے چھوٹا بچہ کسی چیز کے گُم ہونے یا ٹوٹنے پر اس کی جدائی کی وجہ سے بلک بلک کر روتا ہے.داستانِ غم کیا تھی کہ اس آنے والے بیچارے غریب کاشتکار کی ایک لاکھ سے زائد قیمت کی بھینس اچانک مرگئی تھی.جن غریب کاشتکاروں کا گزر بسر ہی کھیتی باڑی اور جانور پال کر ہو.ان کے نزدیک تو چند پیسوں کی بھی بڑی قیمت ہوتی ہے چہ جائے کہ ان کا لاکھوں کا نقصان ہو جائے.جس کی تلافی بھی نہ ہوسکتی ہو تو ایسے وقت میں اس غم کا بوجھ برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے.دورانِ گفتگو اس کاشتکار نے یہ بھی بتایا کہ بھینس کے مرنے کی خبر سن کر لوگ میرے گھر آنا شروع ہوگئے ہیں لیکن ان کے پاس ٹھہرنے کی بجائے میں سیدھا آپ کے پاس چلا آیا. لیکن ابھی تک ایک بات میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ قاری صاحب بےچارے خود معاشی مسائل کا شکار ہیں بھلا ان کو اس غم کا دکھڑا سنانے سے کیا حاصل.
لیکن اُس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب چند لمحے بعد قاری صاحب کی تسلی و صبر پر مبنی گفتگو سننے سے میں نے اس شخص کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرتے دیکھی.تب سمجھ آیا کہ یوں داستانِ غم سنانے کا راز کیا تھا.قاری صاحب نے ایسی کون سی جادو کی چھڑی گھمائی تھی کہ جس سے غم میں ڈوبے اس روتے شخص کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی.وہ جادو کی چھڑی تھی قرآن و حدیث کی رو سے سنت کے مطابق اس شخص کو تسلی دینا ، احسن انداز سے صبر کی ترغیب دینا اور رب سے نعم البدل کی تلقین کرنا.میرے استفسار پر اس شخص نے بتایا کہ میرا مستقل معمول ہے کہ مجھے جب کبھی کوئی غم اور پریشانی لاحق ہوتی ہے تو میں قاری صاحب کے پاس ہی آتا ہوں.اس لیے کہ گھر میں جو بھی آتا ہے ہمارے اوپر آئے غم کو دُہرا کر مزید غمگین کر جاتا ہے.جبکہ قاری صاحب کے پاس آتا ہوں تو ان کے تسلی دینے سے میرا غم ہلکا ہو جاتا ہے اور پُر سکون ہو کر گھر کو لوٹتا ہوں.یہ بتا کر وہ شخص مسکراتے چہرے کیساتھ گھر کو لوٹ چلا.اور جاتے جاتے مجھے اپنی ذات کو ” جائے سکون” بننے کا طریقہ سکھا گیا.کہ کیسے آپ کی ہستی اور آپ کے میٹھے اور تسلی سے بھرپور چند بول کسی کیلیے “باعثِ سکون” بن سکتے ہیں.

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں