چلیے جی! آپکو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے گورنر رضا باقر صاحب سے ملواتے ہیں 81

ہم کہاں جا رہے ہیں، لے کے یہ جہاں۔۔۔؟؟؟

ہم کہاں جا رہے ہیں، لے کے یہ جہاں۔۔۔؟؟؟

تحریر: زاہد عمران

وطن عزیز پاکستان ?? کو اگر ہم ایک “انسان” تصور کر لیں تو پھر ہمارے وطن میں موجود مقننہ (پارلیمنٹ) کی مثال ایسی ہے جیسے کہ انسان کا دماغ ، انتظامیہ و بیوروکریسی اور دیگر تمام اداروں اور ڈیپارٹمنٹس کی مثال ایسی ہے جیسے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں، کان وغیرہ وغیرہ، عدلیہ کی مثال ایسی ہے جیسے (انسان کا) ضمیر (جو خُدا کی آواز ہے اور ہمیشہ انصاف پہ اُکساتاہے اور انصاف کی بات کرتا ہے)، ملک میں موجود معاشی وسائل کی مثال ایسے ہے جیسے انسانی جسم میں خون، اور مُلک میں موجود بادشاہ (صدر و وزیر اعظم) کی مثال ایسی ہے جیسے انسان کا دل (جس کا کام پورے جسم کو بقدر ضرورت خون کی سپلائی کرنا ہے)،اور عوام کی مثال ایسی ہے جیسے کے انسانی جسم کے خلیے (Cells، کہ ہر سیل جسم کی ایک اینٹ یا ایک اکائی ہے، جسم کا ہر ہر خلیہ (cell) کام کرتا ہے تو جسم میں خون بنتا ہے، جسم کا نظام چلتا ہے، انھیں خلیوں (cells) سے مل کر جسم کا ہر ہر عضو (حصہ) بنتا ہے۔
دیکھیے! ایک انسان بنیادی طور بنیادی طور تین چیزوں کا مجموعہ ہے
۱-عقل
۲- قلب
۳۔نفس
نفس کا بنیادی کام ہوتا ہے (ضرورت اور ماحول کے مطابق )خیالات پیدا کرنا اور اُن خیالات کو عقل کو منتقل کرنا، عقل کا بنیادی کام ہوتا ہے ان پیدا شدہ خیالات کا تحلیل و تجزیہ (analysis ) کر کے اس پہ فیصلہ سازی کرنا اور جو فیصلہ کیا اُسے بطور سفارش (proposal) کے طور پر قلب کو منتقل کرنا، قلب (جسے صوفیاء جسم کا بادشاہ کہتے ہیں )کا بنیادی کام ہوتا ہے عقل سے آئی ہوئی سفارش یا proposal پہ حتمی فیصلہ (final decision)کرنا اور اب یہ فیصلہ جسم کے حوالے ہو جاتا ہے اور جسم اُس پہ عمل درآمد شروع کر دیتا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیں –
آپ کو بھُوک لگی (نفس نے یہ پیغام عقل کو دے دیا) اور ساتھ ہی آپ کے دماغ میں برگر کھانے کا خیال آیا، ساتھ ہی دماغ میں خیال آیا کہ میں فلاں برینڈ کا برگر کھاؤں یا فلاں برینڈ کا، ساتھ ہی خیال آیا کہ نئیں یار کھانا گھر کا کھانا چاہیے، فاسٹ فوڈ نئیں کھانا چاہیے، لیکن ساتھ ہی پھر خیال آگیا کہ نئیں یار کبھی کبھی فاسٹ فوڈ بھی کھا لینا چاہیے، اب فائنلی آپ نے فیصلہ کیا کے چلو یار برگر کھاتا ہوں ، اب یہ فیصلہ قلب کے حوالے ہو گیا اور قلب نے اس فیصلے کو قبول کر لیا اور یہ فیصلہ اب جسم کے حوالے ہو گیا اور آپ برگر کے لیے آرڈر کر دیا۔ یہ سارا عمل ایک نظام کے تحت بہت تیزی سے (nano seconds) میں ہوتاہے۔
اب زرا سوچیے! اوپر دی گئی مثال میں انسانی جسم کا کوئی بھی حصہ (خاص طور vital organs )اگر اپنا اپنا طے شدہ کام وقت پہ نہ کریں تو کیا انسانی جسم زندہ رہ سکتا ہے؟ مثلاً دل (بادشاہ) اگر پورے جسم کو خون (معاشی وسائل ) کی سپلائی کرنا بند کردے تو موت، کسی ایک حصے (طبقے) کو خون (معاشی وسائل) کی سپلائی زیادہ کرنا شروع کر دے تو بیماری (غرور، تکبر، عیش پرستی)، کسی حصے کو خون (معاشی وسائل) کی سپلائی نہ دے یا کم دے تو بیماری (معاشی بد حالی )۔۔۔
یا پھر دل (بادشاہ) تو اپنا کام پورا کرے لیکن دماغ (پارلیمنٹ) اپنا کام نہ کرے مطلب پورے جسم کے لیے خون (معاشی وسائل ) کی سپلائی کا پروگرام اور پالیسیاں ترتیب نہ دے تو موت۔۔۔
یا پھر دماغ (پارلیمنٹ ) تو اپنا پورا کام کرے لیکن جسم کے اعضاء ہاتھ، پاؤں (انتظامیہ، بیوروکریسی، دیگر ادارے اور ڈیپارٹمنٹس) اپنا کام نہ کریں تو جسم معذور اور اپاہج۔۔۔
تو مطلب پورا انسانی جسم ایک طے شدہ نظام، تعاونِ باہمی ،coordination اور harmonyکے اُصول پہ کام کرتا ہے تو جسم زندہ رہتا ہے ورنہ مرجاتا ہے۔

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

اب آجائیں پاکستان ??نامی انسانی جسم پہ:
۱- کیا اس جسم میں موجود دماغ (پارلیمنٹ), جسم کے 22کروڑ Cells(عوام) کے لیے خون (معاشی وسائل ) کی سپلائی (انڈسٹری، ملازمتیں وغیرہ وغیرہ) کی قانون سازی کر رہا ہے، پالیسیاں بنا رہا ہے؟
۲۔ کیا دل (صدر و وزیر اعظم)، دماغ (پارلیمنٹ) کی سفارش کردہ قوانین اور پالیسیوں پہ فیصلہ سازی کر رہا ہے؟
۳۔ کیا جسم کے دیگر اعضاء ہاتھ، پاؤں (انتظامیہ، بیوروکریسی اور دیگر ادارے)، دل و دماغ (صدرو وزیر اعظم اور پارلیمنٹ) کے کیے گئے فیصلوں پہ عمل درآمد کررہے ہیں؟
۳۔ اگر دل، دماغ اور جسم کے اعضاء کام نہیں کر رہے تو کیا ضمیر (عدالت ) انہیں ملامت کرتا ہے؟ ان کو کسی قسم کی وارننگ دیتا ہے کہ اگر فیصلوں پہ عمل نہ کیا تو اس کی فلاں سزا ملے گی؟اور پھر کیا سزا دیتا ہے؟ یا ضمیر (عدالت)،مرچکا ہے؟

لیکن اگر اس جسم (اسلامی جمہوریہ پاکستان) کے تمام بنیادی اعضاء(ادارے اور شعبے) اپنا اپنا کام نہیں کر رہےتو کیا ضروری نہیں کہ اس کا مکمل علاج (نظام کی تبدیلی) کیا جائے؟ تاکہ جسم میں موجود 22کروڑ cells(عوام) کو بچایا جائے؟ اور پھر کیا ضروری نہیں کہ ایک صالح نظام میں دل(بادشاہ)، عقل (پارلیمنٹ ) کے تابع ہو؟ (نہ کہ وہ آمر بن جائے اور خود ہی تمام فیصلے جاری کرے)، اور عقل (پارلیمنٹ) وحیِ الہیٰ(قرآن کے سیاسی، سماجی اور معاشی اصولوں) کے تابع ہو؟ (تا کہ وہ 22کروڑ cellsمیں خون کی سپلائی نظام منصفانہ بنیادوں پہ بنائے نہ یہ کہ اپنے مفادات کے تناظر میں قوانین اور پالیسیاں ترتیب دے) اور اس پورے جسم (تمام اداروں )میں ضمیر (عدالت) ہمیشہ یہ احساس پیدا کرتی رہے کہ ایک دن آنیوالا ہے جب قیامت کہ روز (عالمی عدالت میں )کائنات کا بادشاہ ہمارے تمام اعمال کا پورا پورا حساب (audit)کرے گا کہ میری زمین پہ تم لوگوں نے انساینت کے ساتھ کیا سلوک کیا۔۔۔[اے انسان ایک دن آنیوالا ہے جب میں تیرے لیے (تیرا حساب کرنے کے لیے) فارغ ہو جاؤں گا، القرآن)]
اللہ تعالی ہمیں اسلام کے صالح سیاسی، سماجی اور معاشی نظریے کو سمجھ کر اس پرعمل کرنے اور قومی بنیادوں پر وطن عزیز پاکستان کے اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں