ہماری زندگی میں ( کل ) کا لفظ ایک دھوکا ہے 7 178

ہماری زندگی میں ( کل ) کا لفظ ایک دھوکا ہے

ہماری زندگی میں ( کل ) کا لفظ ایک دھوکا ہے جو انسان کو وقت ضائع کرنے کی شرم اور افسوس سے بچاتا رہتا ہے ہمارا ایک عام رویہ یہ ہے کہ جو کام کل ہو سکتا ہے وہ آج کیوں کریں کیوں کہ آنے والا کل خود کام کے لئے ساز گار حالات پیدا کرے گا یہ رویہ بحیثیت فرد اور بحیثیت مومن نقصان دہ ہے ۔
سستی ،کاہلی اور کام چور ی دراصل ( کل ) کی ہی پیداوار ہیں اور ہمارے بڑے دشمن ہیں جب ہم آنے والے کل پر اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں تو نتیجہ میں سست ،کاہل اور کام چور بنتے چلے جاتے ہیں ۔سستی ،کاہلی نشہ آور چیزوں سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں جو شخص نشہ کرتا ہے وہ معاشرے سے خاصی حد تک کٹ جاتا ہے مگر سستی اور کاہلی کا شکار افراد معاشرے میں شامل رہے کر معاشرے کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں ۔

نقصانات
سستی اور کاہلی دراصل آپس میں بہن بھائی ہیں جو اگر انسان پر حاوی ہو جائیں تو بہت سے نقصانات کا باعث بنتے ہیں :
۱۔ فرد احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے اور خود کو کوسنے لگتا ہے ۔
۲۔ با مقصد سرگرمیوں کو چھوڑ کر انسان بے مقصد سر گر میوں میں مشغول ہو جاتا ہے اور یہ عمل اس کی عادت بن جاتی ہے
۳۔ سستی اور کاہلی بعض اوقات کسی بڑے جانی اور مالی نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہیں ۔
۴۔ لوگوں کاآپ پر سے اعتماد اور بھروسہ ختم ہو جاتا ہے اور لوگ آپ کو معتبر نہیں سمجھتے
۵۔ اپنی ذمہ داری وقت پر انجاام نہ دینے پر گھر کے افراد آپ سے ناراض رہنے لگتے ہیں ۔
۶۔ بعض اوقات سرکاری جرمانے اور سزائیں بھی جھیلنی پڑ جاتی ہیں ۔
۷۔ سستی اور کاہلی کوئی بیماری نہیں ،مستقل سستی اور کاہلی سے انسان اضطراب اور بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے ۔

مفید مشورے
۱۔ذرا خود پہ سختی تو برتیں
کام چوری اور کاہلی ے نبرد آزما ہونے کے لئے زرا خود سے سختی برتیں اور ایک فہرست تو بنا کر دیکھیں کہ کہا ں کہاں اور کیوں آپ اپنی ذمہ داریوں سے چوکے ۔ اور اگر یہ کام بھی مشکل لگتا ہے تو بس اتنا سا کام کر یں کہ خود سے زرا یہ پوچھیں کہ ہم نے کتنی نمازیں اب تک چھوڑی ہیں،اور کیوں چھوڑی ہیں محض سستی اور کاہلی کی وجہ سے ہم نے ایسا کیا ؟ یا خوف خدا کی کمی کی وجہ سے ۔
ا ب زرا سی محنت آ پ کو کرنی ہے ،تھوڑا سخت حساب کتاب کر لیں اور اپنے نفس اور ذہن وجسم کی حرکات وسکنات اور اس کے رجحانات پر کڑی نگاہ رکھیں ۔
۲۔ نفس سے بات چیت
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ،
قیامت کا حساب ہونے سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرو اور اعمال کا وزن ہونے سے پہلے ان کو تولو اور بڑی پیشی کے لئے تیار رہو ۔
سستی اور کاہلی سے بچنے کاآسان طریقہ یہ ہے کہ انسان پورے دن کے چوبیس گھنٹوں کو چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں تقسیم کر دے اور کوشش کرے کہ ہر ڈبے ( یعنی ہر ایک گھنٹے میں ییک نیکی ضرور کرے ) اس طرح پورے دن میں چوبیس ڈبے نیکیوں سے بھرےء ہوئے ہونے چاہئیں۔ اگر انسان یہ سوچ لے کہ ہر دن کے چوبیس ڈبے اللہ کے سامنے قیامت کے روز کھلیں گے تو اس طرح انسان کی آخرت کی تیاری بھی ہوتی جائے گی اور وقت کو کسی بامقصد سرگرمی میں صرف کرتا جائے گا
۳۔ہر کام کا وقت مقرر کریں
اگر آپ دوسروں کے کام کرنے میں کاہل ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ مطلبی ہیں اور اگر آپ اپنا کام بھی نہیں کرتے تو آپ کاہلی کے اعلیٰ درجے پر ہیں اس کے لئے آسان ٹوٹکہ یہ ہے کہ آپ اپنا خیال رکھنا شروع کر دیں ۔اپنے بال سنوارنا ،شیو کرنا ، ناخن تراشنا ، وزن کو قابو میں کرنا ، ہر مہینہ ڈاکٹر سے اپنا مکمل چیک اپ کرانا ، خود کو مصروف رکھنے اور نئی ایجادات سے واقف رہنے کے لئے اپنی پسند اور دلچسپی کے مطابق مختلف کورسز میں شرکت کرنا ، زکوۃ، خیرات کے لئے رقم کی مناسب تقسیم کرنا ۔مبارکباد دینے اور تعزیت کرنے میں دیر نہ کرنا ،لوگوں کو اپنے گھر بلانا ان کی خاطر داری کے لئے پہلے سے انتظام کرنا ،رشتہ داروں سے ملاقات کی غرض سے جانا ۔
۴۔ خود کو بے جا مت تھکائیں
عمومی کاموں میں خود کو اتنا مت تھکائیں کہ ضروری کاموں کے لئے آپ کی طاقت اور چستی ختم ہو جائے ۔اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کوضروری کاموں کے لئے بچا کر رکھیں اور کوشش کریں کہ دن میں ایک بار ہی سہی دوسروں کے کسی کام میں مدد ضرور کریں

۶۔ ہمت مت ہاریں
آسان سے مشکل اور پھر مزید مشکل کام کریں تاکہ مشکل کام سے بیزاری نہ ہو ۔ لیکن مشکل کاموں سے جی بھی مت چرائیں اور انھیں ایک طرف مت رکھیں ،چیلنجز کا مقابلہ کرنا سیکھیں ۔کوشش کرتے رہیں ، اور ادھورے کاموں کو دوبارہ سے پورا کرنے کی کوشش کریں ،قدرت سے مثال حاصل کریں ،چیونٹی بار بار گر کر بھی دوبارہ اٹھتی ہے اور پھر سفر شروع کرتی ہے ۔اسی طرح دئیا سورج کی جگہ نہیں لے سکتا لیکن پھر بھی روشنی دینے کی کوشش تو کرتا ہے ۔
۷۔ مزے کریں
دن بھر کے کاموں کی پلاننگ کریں اور ان پر عمل بھی کریں لیکن اپنی تفریح کے اوقات کو پہچانئے اور ان اوقات میں تفریح بھی ضرور کریں تاکہ آپ تازہ دم ہو سکیں ۔
۔ دور اندیش بنیں
صرف آج اور کل کی فکر مت کریں بلکہ دور اندیش بنیں اور مقابلے کی اس دنیا میں ذہنی تیاری کریں ۔لیکن صرف اور صرف ذہنی تیاری ہی مت کریں بلکہ پریکٹکل رہیں ۔اپنے بڑوں کو کام کرتا ہوا دیکھیں ،مشاہدہ کریں ،ان کا ہاتھ بٹائیں اور مستقبل کے لئے خود کو مشورے دیں کہ میں یہ کام اور بہتر طریقے سے کر سکتا ہوں ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں