عالمی عدالت انصاف 172

کلبھوش کی رہائی کی بھارتی درخواست مسترد

3
عالمی عدالت انصاف( آئی سی جے) نے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی ۔

آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے 21 فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا ،جج نے کہاکہ کلبھوشن جادھو بھارتی شہری ہے۔

جج نے کہاکہ ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا،پاکستان کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دے۔

آئی سی جے نے کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی اور ساتھ ہی کہا کہ بھارتی شہری کی سزا ختم نہیں ہوگی، جادھو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔

عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کی دائر ہ اختیار سماعت کی درخواست مسترد کردی اور کہاکہ پاکستان نے ویانا کنونش میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا ۔

سماعت کےد وران پاکستان کی طرف سے خاور قریشی نے اور بھارت کی جانب سے ہریش سالوے نے دلائل پیش کئے تھے ۔

کلبھوش جادھو 3مارچ 2016ء کوبلوچستان سے گرفتار ہوا تھا ،اس کے پاس مبارک حسین پٹیل کے نام سے پاسپورٹ موجود تھا، جسے عالمی عدالت انصاف نے اصلی قرار دیا ہے۔

دوران سماعت بھارت یہ واضح کرنے میں ناکام رہا کہ کلبھوشن جادھو کے پاس 2 پاسپورٹ کیوں اور کیسے تھے؟

کلبھوشن کیس کا فیصلہ سننےکے لئے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کی قیادت میں وفد گزشتہ روز دی ہیگ پہنچا تھا ،وفد میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی شامل ہیں۔

فیصلہ پبلک سٹنگ کے دوران آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے پڑھ کر سنایا،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے فریق ہیں،دونوں ممالک نے 1977ء میں ویانا کنونشن پر دستخط کیے۔

جج نے مزید کہاکہ بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی مانگی ہے جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ بھارت نے جادھو کو دہشت گردی کےلئے پاکستان بھیجا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف 3 اعتراضات پیش کیے۔

بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن جادھو پہلے ہی تسلیم کرچکا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ ہے، جسے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لئے بھیجا گیا تھا۔

کلبھوشن کیس کی آخری سماعت میں پاک بھارت وفود نے شرکت کی تھی،پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان اور بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکریٹری دیپک متل نے کی تھی۔

کلبھوشن جادھو کو پاکستان ملٹری کورٹ نے سزائے موت دی تھی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے 10اپریل 2017ء کو کلبھوشن جادھو کی سزائے موت کی توثیق کی۔

کلبھوشن نے رحم کی اپیل کی تھی جبکہ مئی 2017ء میں بھارت معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے گیا تھا اور کلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد رکوانے کی درخواست دائر کی تھی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں