کشمیر کی خوفناک صورتحال اور ہماری دلنوازیاں 27

کشمیر کی خوفناک صورتحال اور ہماری دلنوازیاں

کشمیر کی خوفناک صورتحال اور ہماری دلنوازیاں
نوید مسعود ہاشمی
وزیراعظم عمران خان جس طرح سے بار’ بار نریندر مودی کو فون کرکے راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے’ جس طرح سے بھارت اور ایف اے ٹی ایف اے کے مطالبوں پر آزادکشمیر اور پاکستان سے جہاد کشمیر کے آثار مٹانے کی کوششیں کی گئیں جس محبت بھرے جذبات کے ساتھ کرتار پورہ راہداری کو اوپن کیا گیا’ صوبہ پنجاب’ سندھ ‘بلوچستان اور کے پی کے سے جہاد کشمیر سے محبت کرنے والوں کو جن ظالمانہ انداز سے گرفتار کرکے جیلوں اور ٹارچر سیلوں کا رزق بنایا گیا’امریکہ کا دورہ کامیاب ثابت کرنے کے لئے جس طرح سے ٹرمپ کی ثالثی کے اعلان کی دھول اڑائی گئی’ حسن سلوک کے نام پر جس طرح سے جارحیت کا ارتکاب کرنے والی بھارتی پائلٹ کو پورے پروٹوکول کے ساتھ رہا گیا۔ عمران خان حکومت کے ان سب کارناموں کا تقاضا تو یہ ہے کہ میرے سمیت ہر پاکستانی نریندر مودی سے ”محبت” کے جذبات کا اظہار کرے’ اس کی جیت کو پاک وہند کے انسانوں کے لئے مثبت قرار دے’ دہلی کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرکے ”سیفما” یا بھارتی راتب خور کسی دوسری این جی او میں شامل ہو کر پاک انڈیا دوستی کی خود ساختہ خبریں اڑائے’ سابق حکمرانوں کی طرح عمران خان حکومت کا دہلی کے لئے نرم اور کشمیری مجاہدین کے لئے سخت رویہ دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی بھارتی سرکار کے حق میں دو چار کالم لکھ کر چند شامیں بھارت میں گزارلوں۔مولانا محمد مسعود ازہر اور حافظ محمد سعید جیسے اکابرین کو دہشت گرد تسلیم کرکے اپنی ”دانشوری” کا لوہا نریندر سرکار سے تسلیم کروالوں’ لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح پاکستانی حکمرانوں نے امریکہ اور بھارتی پٹاری کے دانش فروشوں نے دہلی سرکار کو منہ دکھانا ہوتا ہے۔
مجھے بھی اپنے پاک پروردگار کو منہ دکھانا ہے’ حشر کے میدان میں محسن انسانیتۖ کا سامنا بھی کرنا ہے۔ اس لئے نہ ہی نریندر مودی جیسے بدنام زمانہ قاتل اور دہشت گرد کی انتخابی کامیابی کو خطے کے انسانوں کے لئے مفید قرار دے سکتا ہوں’ نہ انتہا پسند ہندوئوں کے بھارت کی تعریفیں لکھ سکتا ہوں اور نہ ہی کشمیری مسلمانوں کا لہو پانی سے سستا سمجھ کر بے دریغ بہانے والی بھارتی فوج کے بھارت کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا سکتاہوں۔
مقبوضہ کشمیر میں جاری موت کا رقص’ بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام’ عورتوں اور بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم ہر غیرت مند پاکستانی سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اسلام اور پاکستان کی محبت سے سرشار ہو کر انسانیت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے نہ صرف نریندر مودی جیسے موذی قاتل بلکہ بھارتی فوج کے درندوں کے خلاف بھی جہاد بالسان کے ساتھ ساتھ جہاد بالقلم بھی جاری رکھے۔
ویسے تو قرآن مقدس نے مسلمانوں پر قتال والا جہاد بھی فرض قرار دیا ہے اور حالات و واقعات اس بات کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہیں کہ ایک ”سیفما” بلکہ اس جیسی سینکڑوں تنظیمیں بنا کر پاک بھارت دوستی کے ڈھول پیٹے جائیں’ ایک کرتار پورہ راہداری نہیں بلکہ اس طرح کے درجنوں راستے بھارت کے ساتھ مزید بھی کھول دئیے جائیں’ یہاں کے بھانڈ’ میراثی دہلی اور دہلی کے بھانڈ’ میراثی جتنے مرضی لاہور’ اسلام آباد اور کراچی کے دورے کرلیں بھارت اس وقت تک جارحانہ بدمعاشی سے بازنہیں آئے گا جب تک اسے قتال والے جہاد کا مزہ نہیں چکھایا جاتا’ اگر بھارت کے دل میں اقوام متحدہ کا احترام ہوتا تو کشمیر کی آزادی کے لئے ”حق خودارادیت” کی منظور شدہ قراردادیں کافی تھیں۔اگر نریندر مودی امریکہ سے خوفزدہ ہوتا تو ”ٹرمپ” کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے فائدہ اٹھاتا لیکن ایل او سی پر نوسیری کے علاقے میں سویلین آبادی پر کلسٹر بموں سے حملہ’ مقبوضہ کشمیر میں مزید 70ہزار نفری بھیجنے کی تیاریاں’ کشمیری حریت پسند قائدین کی نظر بندیاں’ عظیم حریت لیڈر یٰسین ملک کی گردش کرتی شہادت کی افواہیں’ کشمیر کے سکول’ کالجز’ یونیورسٹیوں کی غیر معینہ مدت کے لئے بندش’ کشمیر کی خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم’ کشمیر میں بڑھتی ہوئی خوفناک کشیدگی یہ بات ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ بھارت کا علاج صرف جہاد ہے’ جس طرح عمران خان حکومت اور سیکولر میڈیا پاکستان سے کشمیر کے جہاد سے منسلک ہر چیز کو دفنانے پر تلے بیٹھے ہیں’ بالکل اسی طرح نریندر مودی حکومت اور ہندوستانی میڈیا مقبوضہ کشمیر سے ”آزادی” کی تڑپ رکھنے والے ہر بچے’ بوڑھے اوور جوان کو تہہ تیغ کرنے پر تیار نظر آتے ہیں۔حالانکہ آزادی کشمیر میں بسنے والے انسانوں کا پیدائشی حق ہے’آزادی کا مطالبہ کرنا ”انسانیت” کے اصولوں کے مطابق ہے’ مگر بدنام زمانہ نریندر مودی کا اٹھنے والا ہر قدم”انسانیت” کے خلاف ہے’ مودی کے مظالم کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کرنا’ مودی کے خلاف احتجاج کرنا بھی درست ہے۔ لیکن ”کشمیری” سرینگر کی سڑکوں پر خاک و خون میں تڑپتے رہیں اور ”پاکستانی” مظفرآباد سے لے کر کراچی تک کی سڑکوں پر احتجاج کرتے رہیں…بھارتی فوج دہشت گردی کے ذریعے سرینگر’ بانڈی پورہ سے لے کر لولاب تک انسانوں کا قتل عام کرتی رہے اور پاکستانی اخبارات میں ”مذمت” کرتے رہیں۔کیا اس طرح کبھی کشمیر آزاد ہو پائے گا؟
یاد رکھیے”ظلم” کبھی مذمت کرنے سے رکتا نہیں ہے اور ”آزادی” کبھی نعروں سے ملا نہیں کرتی’ جنگ کبھی منتوں اور ترلوں سے جیتی نہیں جاسکتی’ بھارت اگرجنگ چاہتا ہے تو اسے جنگ کا جواب جنگ سے دینا پڑے گا’ بھارت کو مظلوم کشمیریوں کے قتل عام سے روکنے کے لئے جہاد و قتال کی عبادت پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں