کشمیر کیلئے ہرحد تک جائیں گے، کچھ ہوا تو ہم ذمے دار نہیں، پاکستان 7 99

کشمیر کیلئے ہرحد تک جائیں گے، کچھ ہوا تو ہم ذمے دار نہیں، پاکستان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر آواز بلند کریں گے ‘ ہم عالمی عدالت انصاف میں جانے کا بھی سوچ رہے ہیں‘بھارت نے حملہ کیا تو جواب دینگے ،خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے ‘پاکستان بہادرشاہ ظفر کا نہیں ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کرے گا‘انڈیاکشمیریوں کو کچلے گاتوپلوامہ جیسا رد عمل آئیگا اور الزام پاکستان پرلگے گا‘ نیو کلیئر بلیک میلنگ نہیں کررہا‘ یہ ایکشن لینے کا وقت ہے‘ دنیا سے اپیل ہے وہ اپنے بنائے قوانین پر عملدرآمد کرائے‘ کچھ ہواتوہم ذمہ دارنہیں ہوں گے‘ماضی میں ایکشن نہ لینے پر بھارت کو شہ ملی ‘ اگر اب دنیا نے کچھ نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گےاورپوری عالمی برادری متاثر ہوگی ‘‘اگر جنگ ہوئی تو کسی کی فتح نہیں ہوگی سب ہارجائیں گے‘ہم نے خلوص نیت کے ساتھ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں کیں تاہم بشکیک سربراہ اجلاس

کے موقع پر ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت بات چیت میں سنجیدہ نہیں اور وہ اس پیشکش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے‘ بھارتی سوچ ساری دنیا کو نقصان پہنچا سکتی ہے‘ عالمی برادری سے اس لئے خاموش ہے کہ بھارت میں زیادہ نقصا ن مسلمانوں کا ہو رہا ہے مگر اس کا ساری دنیا کو نقصان پہنچے گا ۔ منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارت کی جانب سے بھارتی دستور کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 الف کی تنسیخ کے ذریعے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی غیر قانونی اور جابرانہ کوشش‘ لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ‘ کلسٹر بموں کا استعمال اور مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ سیشن صرف کشمیر یا پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے‘ آج یہاں سے یہ پیغام جانا چاہیے کہ پوری قوم اس معاملے پر اکٹھی ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی سے جب بات ہوئی تو انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ٹریننگ کیمپ ہیں۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ جب پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تو اس وقت پوری قیادت نے متفق ہوکر قومی ایکشن پلان شروع کیا اور یہ بات طے کی کہ کوئی بھی دہشتگرد پاکستان کی سرزمین استعمال نہیں کر سکے گا‘ ہم نے دیکھا کہ بھارت بات چیت میں سنجیدہ نہیں ہے پھر دورہ امریکہ پر یہ بات مزید واضح ہوگئی‘ وہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا تھا۔بھارت نے کشمیر میں جو کچھ کیا ہے وہ اپنے نظریات کے تحت کیا ہے۔ ان کا یہ کام اقوام متحدہ کی 17 قراردادوں‘ شملہ معاہدے ‘ اپنے آئین اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے خلاف کام کیا ہے۔ وہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت مکمل طور پر اپنی آڈیالوجی پر چل رہا ہے۔ انہوں نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کی۔ اس قانون میں تبدیلی کے بعد کیا کشمیری اپنی جدوجہد ختم کردیں گے۔ یہ بڑا اہم مسئلہ بن گیا ہے اس کے انتہائی سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ بھارت کشمیر کی آزادی کو اور دبائے گا ‘وہ طاقت کے ذریعے کشمیریوں کو کچلنا چاہتے ہیں۔ اگر انہوں نے ایسا ہی کیا تو پلوامہ جیسا رد عمل سامنے آئے گا‘بھارت نے کشمیر میں زبان اور نسل کی بنیاد پر صفائی کرنی ہے۔ بھارتی مائنڈ سیٹ میں تکبر نظر آتا ہے۔ یہی تکبر ہر متعصب میں نظر آتا ہے۔ اس متکبرانہ سوچ کے تحت بھارت کشمیر میں مزید کارروائی کر سکتا ہے‘ اس کا ہم نے جواب دینا ہے۔ اگر صورتحال یہی رہی تو روایتی جنگ شروع ہو جائے گی اس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے۔ پھر دو ہی راستے اور دو طرح کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ایک راستہ بہادر شاہ ظفر اور دوسرا ٹیپو سلطان والا راستہ ہوگا۔ بہادر شاہ ظفر نے ہاتھ کھڑے کردیئے تھے جبکہ ٹیپو سلطان نے بہادری والا راستہ اختیار کیا تھا۔ ہم ٹیپو سلطان والا راستہ اختیار کریں گے ۔اگر جنگ ہوئی تو کسی کی فتح نہیں ہوگی‘ سب وہ جنگ ہار جائیں گے‘ دنیا کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا دنیا اس بدترین صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔ اسی لئے ہم عالمی برادری سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بھارت کی ان کارروائیوں کو رکوائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر اب دنیا نے کچھ نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر مسئلہ اٹھائیں گے۔ بھارت جو کچھ کر رہا ہے وہ صرف برصغیر تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ ساری دنیا اثر انداز ہوگی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں