کشمیر کا مسئلہ کیوں اور کب تک ؟ 7 161

کشمیر کا مسئلہ کیوں اور کب تک ؟

کشمیر کا مسئلہ کیوں اور کب تک ؟
تجزیہ : سجاد اظہر
3 جون 1947 کو جب ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم برصغیر کا اعلان کیا تو اگلے روز ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا کہ ضلع گورداسپور ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سرحدوں کا تعین مروجہ اصول کے مطابق نہیں ہو گا کیونکہ اس ضلع میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 50 اعشاریہ 4 فیصد ہے جبکہ غیرمسلموں کاتناسب 49 اعشاریہ چھ فیصد ہے اس لئے محض اعشاریہ 8 فیصد کے فرق سے باؤنڈری کمیشن پورے ضلع کو مسلم اکثریت والے علاقے میں شامل نہیں کرسکتا۔
اس کے بعد ماؤنٹ بیٹن 19 جون کو سری نگر گیا جہاں اس نے پانچ روز قیام کیا اور مہاراجہ ہری سنگھ سے کئی ملاقاتیں کیں بظاہر کہا گیا کہ ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ کو دونوں ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا مشورہ دیا مگر گورداسپور کی ہندوستان میں شمولیت ہی وہ اشارہ تھی جس کے مطابق اگر مہاراجہ کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کرلے گا تو اسے پاکستان کی جانب سے کوئی خطرہ نہیں ہو گا ۔
پاکستان کی آزادی کے تین دن بعد 17 اگست کو ریڈ کلف ایوارڈ کے تحت گورداسپور کی تین تحصیلیں ہندوستان کو دے دی گئیں اس سے ایک ہفتہ قبل کشمیر کے وزیراعظم جنرل جناک سنگھ نے پاکستان اور ہندوستان دونوں کو ایک عارضہ معاہدے کی پیشکش کی تھی کہ ریاست کے الحاق کا فیصلہ فی الحال نہ کیا جائے بلکہ اسے جوں جا توں رکھا جائے پاکستان نے اسے قبول کر لیا مگر ہندوستان نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔اس کے بعد20 اکتوبر کو ڈوگرہ فوج کی جانب سے 14 ہزار کشمیری مسلمانوں کو قتل عام اور 12 اکتوبر کو قبائلیوں کی لشکر کشی کے بعد 25 اکتوبر کو ماؤنٹ بیٹن کی صدارت میں دفاعی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ ہوا کہ اگر مہاراجہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کرے تو کشمیر میں ہندوستان فوج بھیجی جائے ۔اسی روز وی پی مینن جو کہ ریاستی امور کا سیکرٹری تھا اسے فوجہ جہاز میں سری نگر بھیجا گیا جہاں اس نے مہاراجہ سے الحاق کی درخواست پر دستخط کروائے۔26 اگست کو ماؤنٹ بیٹن نے الحاق کی درخواست قبول کر لی اور کشمیر میں فوج بھیجنے کا حکم دیا اس کی اطلاع جب قائد اعظم کو ملی تو انہوں نے 27 اکتوبر کی شام کو فوج کے سربراہ جنرل گریسی کو کشمیر میں فوج بھیجنے کا حکم دیا جسے انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا ۔
اس کے بعد آج تک جو کچھ ہوا وہ سب جانتے ہیں کشمیر پر کئی جنگیں ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اب تک حالت جنگ میں ہیں ۔
جس طرح انگریز سرکار نے تقسیم سے قبل فرقہ وارانہ و مذہبی فسادات کو جان بوجھ کر نہ صرف ہونے دیا بلکہ انہیں روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا جس کا بظاہر مقصد یہی نظر اتا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان نفرت کا ایسا بیچ بونا چاہتی تھی تاکہ مستقبل میں یہ ممالک اس آگ میں جلتے رہیں اسی طرح جان بوجھ کر کشمیر کے مسئلے کو گھنجھلک بنا کر رکھ دیا گیا تاکہ اس تنازعے کی آگ بھی بھڑکتی رہے ۔کمال اس میں ماؤنٹ بیٹن یا عالمی سامراج کی ریشہ دوانیوں کا نہیں بلکہ اصل المیہ اس چار ہزار سالہ ہندو تہذیب کا ہے جو اپنے دامن میں اتنی وسعت بھی نہیں رکھتی کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ جس مسئلے کا با آسانی حل کیا جا سکتا تھا اسے متنازعہ بنا کر خطے کے ڈیڑھ ارب انسانوں کا مستقبل داؤپر لگا دیا گیا ہے ۔سولویں صدی کا وہ ہندوستان جو دنیا کے جی ڈی پی کا چوتھائی تھا آج پاکستان و بھارت میں ملا کر 50 کروڑ سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ،یہ ممالک جوکماتے ہیں اس سے ایک دوسرے کو تباہ کرنے کا سامان کرتے ہیں ۔
جب بھی خطے کی آزاد تاریخ لکھی جائے گی تو یہ آزوازیں اور پختہ ہوں گی کہ تقسیم سے لے کر کشمیر تک جو کچھ بھی ہوا وہ عالمی سامراج کی مرضی سے ہوا ،اور اب بھی یہاں امن سے لے کر جنگ تک یا حالت جنگ تک جو کچھ بھی ہونے والا ہے وہ عالمی سامراج کی خواہش کے مطابق ہی ہو گا باقی مودی ہو یا عمران یہ اس وقت کے نہرو اور قائد اعظم سے بڑے لیڈر نہیں ہیں جن کی موجودگی میں ماؤنٹ بیٹن وہی کچھ کر رہا تھا جس کی ہدایات اسے پیچھے سے مل رہی تھیں ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں