Pervez Musharraf Conference For Israel 69

پرویز مشرف کی قومی سلامتی پریس کانفرنس کا صہیونی ایجنڈا

سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کا شمار ایسے چند پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ چور دروازوں سے پاکستان کی نظریاتی دشمن صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے ساتھ کسی نہ کسی بہانے سے تعلقات بنانے یا دوستی قائم کرنے کے خواہاں رہے ہیں۔ حالانکہ پاکستان ایک ایسی نظریاتی ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا جس نے روز اول سے ہی فلسطین کی زمین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو قیام سے قبل ہی مسترد کر دیا تھا اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قیام پاکستان کی تحریک کے بنیادی عناصر میں ہی اس بات کو شامل کرتے ہوئے عالمی استعماری قوتوں کو خبردار کردیا تھا کہ برصغیر کے مسلمان اور بالخصوص جو پاکستان کے قیام کےلیے سرگرم مسلمانان برصغیر فلسطین میں قائم ہونے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے اور فلسطین کی آزادی کےلیے برصغیر کے مسلمان جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں تھی بلکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مفتی اعظم فلسطین کو خطوط لکھے اور انہیں برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ قیام پاکستان کے بعد جب خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول وضع کیے گئے تو بابائے قوم کی سرپرستی میں واضح طور پر اسرائیل کی غاصب ریاست کو جعلی قرار دیا گیا اور تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک پاکستان کے پاسپورٹ پر لکھا ہو اہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام مالک میں قابل قبول ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے جب ملک میں مارشل لاء لگایا تو پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی قوتوں کو اپنی حکومت کے ساتھ ملا لیا اور بعد ازاں موقع ملتے ہی کوشش کی کہ اسرائیل کو پاکستان تسلیم کرلے۔ لیکن پاکستان کے عوام اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مشرف صاحب کے صہیونی عزائم کے اس ایجنڈے کو ناکام کردیا، جس کے بعد سابق صدر کی یہ کوششیں دم توڑ گئیں۔
جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنے ایجنڈے کی ناکامی کے بعد خفیہ طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی متعدد کوششیں کیں جن کے نتیجے میں کبھی وہ خود امارات میں اسرائیلی عہدیداروں سے ملتے رہے اور کبھی اس وقت کے وزیر خارجہ خورشید قصوری کو ترکی میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں سمیت عہدیداروں سے ملاقاتیں کروانے کا کردار ادا کیا۔ حالیہ دنوں انہوں نے امارات میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران بھی ان باتوں کا اظہار کیا اور انہیں اپنی سفارتی کامیابیوں میں سے ایک کامیابی قرار دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو یہ مملکت پاکستان کے اصولی مؤقف اور بابائے قوم کے نظریات سے مکمل طور پر انحراف اور سنگین غداری کے مترادف ہے۔

ماضی میں لکھے گئے گزشتہ چند مقالوں میں بندۂ حقیر نے کوشش کی ہے کہ پاکستانی سفارتی محاذ پر سرگرم کن کن شخصیات نے متعدد ممالک میں متعدد مرتبہ اسرائیلی ہم منصبوں سے ملاقاتیں کی تھیں اور اس طرح کی کوششیں زیادہ تر سابق صدر پرویز مشرف کے گیارہ سالہ دور میں زیادہ نظر آئی ہیں۔ حالانکہ ایسی کوششیں شہید بینظیر بھٹو اور نواز شریف صاحب کے ادوار میں بھی ہوتی رہیں لیکن جمہوری حکومتوں کے ہونے کے باعث ہمیشہ ان وزرائے اعظم کو عوامی دباؤ کا خطرہ درپیش رہا جس کے باعث یہ کوششیں زیادہ کارگر ثابت نہ ہوئیں۔

پاکستان میں صہیونیوں کے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے سابق صدر پرویز مشرف تنہا ہی امیدوار نہیں بلکہ ان کے ساتھ کئی ایک اور نام بھی ہیں جو اب ’’بلی تھیلے سے باہر‘‘ والی مثال کی طرح سامنے آ رہے ہیں؛ جن میں سابق جنرل (ر) امجد شعیب، پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی، جبکہ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب کا میونخ کانفرنس میں مبہم انداز میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے حق میں بیان دینا وغیرہ شامل ہیں۔ نہ جانے اب مزید کتنے اور ایسے عناصر سامنے آئیں گے کہ جو بے سر و پا باتیں کرتے ہوئے پاکستان کو اسرائیل کی گود میں جھونکنے کی باتیں کرتے نظر آئیں گے۔

حالیہ دنوں سابق صدر پرویز مشرف نے دبئی میں قومی سلامتی کے عنوان سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا لیکن اس قومی سلامتی کی کانفرنس میں جو انوکھی بات سامنے آئی وہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے پر زور دینا تھا۔ اور پھر اس کانفرنس کے اگلے ہی ایک دو روز میں اسرائیل کے دوست بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا اور پھر مسلسل یہ تناؤ باقی رہا۔ کیا سابق صدر پرویز مشرف کی اس پریس کانفرنس میں اسرائیل اور پاکستان سے متعلق گفتگو اور پھر بھارتی جارحیت کا آغاز کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کا حصہ تو نہیں ہے کہ جس کے بارے میں سابق صدر پرویز مشرف پہلے سے ہی مطلع تھے؟ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے قومی سلامتی کے عنوان پر اپنی پریس کانفرنس میں قومی سلامتی سے زیادہ پاکستان کو اسرائیل کے قریب ہونے کے مشورے اور دلائل دینے پر زور دیا تھا۔ بہرحال، ماہرین سیاسیات کی نظر میں سابق صدر کی پریس کانفرنس اور اس میں اسرائیل پاکستان تعلقات پر زور دینا اور پھر بھارتی جارحیت کا آغاز کہ جس میں بھارت نے اسرائیلی اسلحہ استعمال کیا تھا، سب باتوں کا آپس میں کچھ نہ کچھ تعلق ضرور محسوس ہوتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں سابق صدر پرویز مشرف کی طرح صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کےلیے ہمدردیاں رکھنے والے عناصر موجود ہیں اور وہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو پاکستان کےلیے خظرناک قرار دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر پاکستان اسرائیل کے ساتھ دوستی قائم کر لے تو مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جا سکتا ہے؛ جبکہ یہ عناصر یہ بات بتانے سے گریزاں ہیں کہ یہی اسرائیل ہے کہ جو خود فلسطین پر ستر سال سے غاصبانہ تسلط قائم کیے ہوئے ہے اور کشمیر میں بھارت کی طرح اسرائیل بھی فلسطین میں ظلم و بربریت کی داستانیں رقم کر رہا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم بھی کرلے تو کیا اسرائیل کے پاکستان جیسی ایٹمی طاقت کے خلاف ناپاک عزائم ختم ہوجائیں گے؟ یقیناً ایسا نہیں ہوگا۔ یہاں مجھے جنرل (ر) غلام مصطفی صاحب کی نجی محفل میں ایک تاریخی جملہ یاد آرہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اسرائیل کےلیے تل ابیب میں بیٹھ کر بھی چوکیداری کرے تب بھی اسرائیل پاکستان کے خلاف دشمنانہ عزائم سے باز نہیں آئے گا۔

یہاں ایک اور مثال بھی ہمارے سامنے ہے کہ جن عرب ممالک کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی بات کی جاتی ہے، ان میں مصر اور اردن دو ایسی مثالیں ہیں کہ جنہوں نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کیا ہے۔ تو کیا آج ان کی حالت پاکستان سے بہتر ہے یا بدتر؟

حالیہ دنوں بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کی جانب سے پاکستان پر کی جانے والی جارحیت خود منہ بولتا ثبوت ہے کہ بھارت اور اسرائیل کسی طور پر بھی پاکستان کے خیر خواہ نہیں۔ لہذا پاکستان میں موجود صہیونی عزائم رکھنے والے عناصر کو چاہیے کہ صہیونیوں کی خدمت پر توجہ دینے سے زیادہ پاکستان کی ترقی اور وطن کی بقاء و دفاع کےلیے اپنی توانائیاں صرف کریں کیونکہ اسرائیل سے دوستی، وطن سے خیانت اور غداری ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف صاحب کو بھی پاکستانی عوام کی طرف سے یہی مشورہ ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی کو امارات میں پر سکون انداز میں گزاریں اور پاکستان کو اسرائیل سے تعلقات بنانے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کی تعلیمات کے مطابق ہوچکا ہے؛ اور پاکستان کے عوام اس فیصلے پر کاربند ہیں اور کسی بھی حکومت یا سابق عہدیداروں کو ہر گز یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ کوئی پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی سازش کرے، اس کا راستہ روکا جائے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں