ڈاکٹر غلام محی الدین (چیئر مین شعبہ علوم عربیہ گورنمنٹ رضویہ اسلامیہ کالج ہارون آباد 207

پروفیسر ڈاکٹر غلام محی الدین (چیئر مین شعبہ علوم عربیہ گورنمنٹ رضویہ اسلامیہ کالج ہارون آباد)

پروفیسر ڈاکٹر غلام محی الدین
(چیئر مین شعبہ علوم عربیہ گورنمنٹ رضویہ اسلامیہ کالج ہارون آباد)
سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا آپ کی سیرت طیبہ سے ہمیں بہت سارے جو اسباق ملتے ہیں ان میں سے پہلا سبق آج کی خواتین اور آج کی فیملیز کے لیے مساوات کا درسہے میں حضرت فضا پر دو پروگرام کیے جب ان کی سیرت کو دیکھا میرے کریم آقا ؐنے خدمت کے لیے ان کو سیدہ پاک کی خدمت میں بھیجا تو سیدہ نے فرمایا اے فضا میں نے تمہیں آزاد کر دیا فضا نے کہا کہ مجھے آزادی نہیں چاہیے بلکہ غلامی چاہیے یہ وہی بات تھی جو حضرت زید بن حارثہ نے کہی تھی جب ان کے باپ حضور ؐکی بارگاہ میں آئے تھے کہ ہمارے بیٹے کو آزاد کر دیجیے ہم اتنا سونا، چاندی آپ کو دیتے ہیں تو حضور ؐنے فرمایا اپنے بیٹے سے پوچھ لیجیے تو باپ نے کہا چل ہمارے ساتھ ہم اتنا سونا، چاندی انہیں دیتے ہیں اور حضورؐفرما رہے ہیں کہ ویسے ہی لے جاؤ اگر جانا چاہتاہے تو لے جاؤ۔ اس پر بیٹے نے کہا: ابا جی میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گا کہاتیری ماں بلا رہی ہے،تیرا چچا بھی ساتھ آیا ہے پھر بھی حضرت زید بن حارثہ نے انکار کیا جب انکار ہوگیا توباپ نے کہا بیٹا کیا تونے اس غلامی کو آزادی پر ترجیح دے دی ہے، تونے اس غلامی کو اپنے چچا، اپنے باپ، اپنی ماں پر ترجیح دے دی ہے تو حضر ت زید بن حارثہ نے چھوٹی سی عمر میں بہت بڑا جملہ بو لا۔ آپ نے کہا: ابا جی یہ جو در مصطفےٰ کی غلامی ہے یہ آزادی سے بہتر ہے۔یہ جو سعادات کرام کے در کی غلامی ہے یقین مانیے یہ آزادی سے بہتر ہے۔حضورؐنے پوچھا اے فضا تو نے گھرکو کیسا پایا؟میری بیٹی کے ساتھ رہتے ہوئے اس نے فرمایا اپنے عرض کی۔ گھر سے زیادہ مجھے اس گھر میں عزت ملی ہے اور اس سے بڑی قسمت کیا ہوگی کہ سیدہ فاطمہ مجھے اپنی بہن کہتی ہیں امام حسن اورامام حسین مجھے اپنی ماں کہتے ہیں۔
آج کے اس پر فتن دور میں جب برگر فیملیز کے بڑے بڑے امراء جب اپنی گاڑی کی ڈگی میں ایک ملازمہ اور کتے کو بیٹھا کر سفر کر رہے ہوں تو مساوات کا وہ سبق سیدہ کے در سے ملے گا گھر کی خادماؤں کے ساتھ وہ اعلیٰ حسن سلوک مساوات کا اورپیغام حیاء جب میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگ رہا ہو تو اس وقت سیدہ پاک کی سیرت اور یہ کانفرنس یہی سبق دیتی ہے آپ نے فرمایا جسم بھی اللہ کی عطا سے ہے اور مرضی بھی اس پر اسی کی چلے گی اور آپ کا وہ پیغام حیاء تھا کہ جب میں اس دنیا سے جاؤں تو میرا جنازہ بھی دن میں نہیں بلکہ رات کی تاریکی میں اٹھانا یہ پیغام ہے سیدہ پاک کا اور خدمت شوہر کے حوالے سے جب نعرے لگ رہے ہوں کہ اپنا کھانہ خود گرم کریں تو ایسی صورتحال میں سیدہ پاک کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اگر تمہارے در پر پورا مدینہ شریف بھی آ جائے تو سب کو کھانا تم نے گرم کر کے کھلانا ہے یہ سیدہ پاک کا پیغام ہے۔
میرے سرکارصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا اے علی شیر خدا تم نے میری بیٹی کو کیسا پایا؟ عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مجھے جو شریک حیات ملی ہے وہ ہمہ وقت ہی عبادت میں میری مدد کرتی رہتی ہے تمام امت مسلمہ کی خواتین کے لیے سبق کا پیغام ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گھر گئے اور اسماعیل علیہ السلام کی بیوی سے پوچھا کہ زندگی کیسی گزر رہی ہے؟برے حال ہیں، مرگئے بھوک پیاس سے تو آپ نے فرمایا جب حضرت اسماعیل علیہ السلام آئیں تو ان سے کہنا کہ گھر کی چوکھٹ بدل لو جبحضرت اسماعیل علیہ السلام آئے تو پتہ چلا حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے ہوئے تھے پوچھا کیا پیغام دے کر گئے ہیں کہا وہ فرما رتھے ہیں گھر کی چوکھٹ بدل لو آپ علیہ السلام نے اس کو چھوڑ دیا دوبارہ نکاح کیا اب اس بیوی کی موجودگی میں جب ابراہیم علیہ السلام آئے تو اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ کیسی زندگی گزر رہی ہے؟ سوال کے جواب میں کیا خوبصور ت جملہ کہاکہ اس سے بہتر کس کی زندگی ہوگی جس کے نکا ح میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسی ہستی موجود ہو۔ مجھے سب کچھ مل رہا ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ جب وہ آئیں تو کہنا چوکھٹ باقی رہے ایسا کیوں کہا۔ کیونکہ اس سے وہ جناب عبد المطلب جیسی ہستی،حضرت عبد اللہ جیسی ہستی، مصطفےٰ کریم جیسی ہستی اور فاطمۃ الزھراء جیسیہستی جنم لے گی وہ مقام صبر ہے اوپر صبر ہو گا تو نیچے بھی صبر ہو گا۔
سیدہ ایک دن بیٹھی ہوئیں تھیں آپ کے ہاں کچھ خواتین آگئیں انہوں نے آکر جب گفتہ شنید کی تو ایک عورت نے کسی اور عورت کی غیبت شروع کردی جب غیبت شروع کی تو سیدہ پاک اٹھ کر اند ر چلی گئیں ان عورتوں نے آپ کے اند ر جانے پر پوچھا کہ آپ اٹھ کر اندر کیوں چلی گئیں تو آپ نے فرمایامیرے بابا جی نے فرمایا ہے کہ نہ غیبت کرنی ہے نہ غیبت سننی ہے یہ میں اہل علم کو آج پیغام دینا چاہوں گا کہ اگر ہم امن کی بات کرتے ہیں محبت کی بات کرتے ہیں تو ہم وہ کام شروع کردیں بدزبانی اور بد گمانی یہ دونوں چیزیں ختم کردیں جب ہم دوسروں کے بارے میں بدگمانی یابد زبانی کرتے ہیں تو پھر اس سے معاشرے میں تباہی و بربادی جنم لیتی ہے۔
حضر ت پیر پٹھان ایک بیری کے درخت کے نیچے سے گذر رہے تھے تو کسی نے پتھر مارا جو بیری کونہ لگا اور آ پ کو لگ گیا سر پر لگا خون بہنے لگا اب اس آدمی نے دیکھا کہ میرا نشانہ غلط ہو گیا ہے اور پتھر حضرت قبلہ کولگ گیا ہے تو ڈر گیا اور ڈر کہ جب بھاگنے لگا تو آپ نے فرمایا ٹھہرو بھاگنا نہیں اس نے کہا حضور مجھ سے غلطی ہوگئی پتھر بیری کو ماراتھا لیکن لگ آپ کو گیا فرمایا مجھے یہ بتاؤ کہ یہ پتھر تم نے مارا کیوں تھا اس نے کہا پتھر اس لیے ماراتھا کہ بیری مجھے بیر دے تو آپ نے فرمایا اچھا پتھر بیری کو لگے تو بیری بیر دیتی ہے اس نے کہا جی تو فرمایا حضرت سلمان تونسوی تو خالی موڑ دے پھرہم سے تو یہ بیری اچھی ہو گئی ایسے نہیں جانے دونگا آپ نے قریب بلایا سینے سے لگایا اور مقام ولایت عطا کر دیا۔
آج کے اس دور میں میں یہی پیغام د دینا چاہوں گا محبت کیجیے، عدم برداشت کار ویہ ختم کیجیے ہماراد شمن ہمارے خلاف ایک ہو چکا ہمیں بھی ایک ہونے کی ضرورت ہے اور وہ ہستیاں جو ایک کرتی ہیں وہ بڑی عظیم ہوتی ہیں۔آخر میں ایک شعر مفتی گلزار احمد نعیمی کے نام کرتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ
تم جس خواب میں آنکھیں کھولو اس کا روپ امر ہو
تم جس رنگ کا کپڑ ا پہنو وہ موسم کا رنگ ہو
تم جس پھول کو ہنس کر دیکھو کبھی نہ وہ مرجھائے
تم جس لفظ پر انگلی رکھو وہ روشن ہو جائے

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں