پاکستان اور ایران کا اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے پر اتفاق 2 88

تہران: پاکستان اور ایران کے درمیان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس کے بعد صحت کے شعبے میں پاکستان اور ایران تعاون کے اعلامیے پر دستخط کی تقریب ہوئی۔
اعلامیے کی تقریب کے بعد وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

وزیراعظم اور ایرانی صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس

پریس کانفرنس میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے اہم معاملات سمیت خطے کو درپیش مسائل پر بات چیت ہوئی، پاکستان ایران کے تعلقات میں مزید وسعت پر بھی تبادلہ خیال ہوا، دونوں ممالک میں سرحد پر سیکیورٹی اقدامات بہتر کرنے پر بات چیت ہوئی، عمران خان نے دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے، مستقبل قریب میں پاکستان کا دورہ کروں گا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں سرحدوں پر سیکیورٹی کے لیے مشترکہ ریپڈ فورس کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا ہے، پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تجارت بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے، ایران 10 گنا زیادہ بجلی پاکستان ایکسپورٹ کرنے پر تیار ہے۔

حسن روحانی کا کہنا تھا کہ کوئی تیسرا ملک پاکستان اور ایران کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے پرتپاک استقبال پر ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے بلوچستان میں ہمارے 14 سیکیورٹی اہلکار شہید کیے گئے، ایران آنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خطے کو دہشتگردی کا مسئلے کا سامنا ہے، ایران آنے کا مقصد سیکیورٹی معاملات پر بات کرنا تھا تاکہ دہشتگردی کے اس مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو دہشتگردی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا، پاکستان نے کسی بھی ملک کے مقابلے میں دہشتگردی کا سب سے زیادہ سامنا کیا ہے، ہمیں علم ہے کہ ایران بھی دہشتگردی سے متاثر ہے، دونوں ملکوں میں اتفاق ہے کہ اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے معاملات دونوں ملکوں میں خلیج پیدا کرسکتے تھے ، دونوں ملکوں کے سیکیورٹی چیف ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ افغانستان میں جنگ سے پاکستان اور ایران دونوں متاثر ہوئے، افغانستان میں امن ایران اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اچھے تعلقات اور تجارت بڑھنے سے دونوں ممالک میں خوشحالی اور روزگار بڑھے گا، خطے میں امن اور استحکام کی ضرورت ہے اس سے ہی تجارت بڑھے گی، یقین ہے کہ باہمی تجارت کے بڑھنے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا، باہمی تجارت کے لیے بارٹر کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کا مشترکہ اعلامیہ جاری
وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ مشترکہ سرحدوں کو امن و دوستی کی سرحدیں ہونا چاہیے۔

اعلامیے میں دہشت گردی سے نمٹنےکے لیے سیاسی، فوجی اور سیکیورٹی حکام میں تبادلہ خیال پر زور دیا گیا جب کہ منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ، یرغمال بنانے، منی لانڈرنگ اور اغواء سے نمٹنے کے لیے بھی تعاون پر زور دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں پاک ایران وزرائے داخلہ کی اسپیشل سیکیورٹی کمیٹی کا دسواں اجلاس جون میں اسلام آباد میں بلانے پر اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق مشترکہ قونصلر کمیشن کا اگلا اجلاس جون کے بعد منعقد کیا جائے گا۔

مشترکہ اعلامیے میں پاکستان نے ایران کی جانب سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کرنے پر خیرمقدم کیا۔

پاک ایران مشترکہ اعلامیے میں افغان مسئلے پر وسیع تر علاقائی اتفاق رائے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔

اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں کی جانب سے دہشت گردی کی ہرشکل کی مذمت کی اور دہشت گردی سے نمٹنے کےلیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لیےکوششیں دوگنا کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

اعلامیے میں دونوں ملکوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پیک سمیت دوطرفہ اور کثیرملکی معاہدوں پر عملدرآمد کا خیر مقدم کیا جب کہ پاکستان اور ایران کا مسئلہ کشمیر مذاکرات سے پرامن طریقے سے حل کرنے پربھی زور دیا گیا۔

وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

اس سے قبل سعد آباد پیلس پہنچنے پر ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا جہاں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور وزیراعظم عمران خان نے گارڈ آف آنر کا بھی معائنہ کیا۔

وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا: فوٹو/ عمران خان فیس بک آفیشل
وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پاکستانی وفد میں وفاقی وزراء شیریں مزاری، علی حیدر زیدی اور دیگر ایران کے دورے پر ہیں۔

عمران خان کی ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان نے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کی۔

اعلامیے کے مطابق ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور وفد نے ایرانی رہبر کی روحانی رہنمائی سے بھی استفادہ کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای نے پاکستانی عوام سے گہرے برادرانہ تعلقات کا اظہار کیا اور پاکستانی قوم کی کامیابی کےلیے دعا بھی کی

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں