working women in pakistan 43

ورکنگ لیڈی تحریر: زویا چوہدری شریعہ اینڈ لاء، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

ورکنگ لیڈی
تحریر: زویا چوہدری (شریعہ اینڈ لاء، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد)
اگر یہ الفاظ کافی نہیں تو آؤ کوئی اور کہانی تمہیں سناتے ہیں- یہ حقیقت اگر تمہارے دل کو چھو کر نہیں گزری تو چلو کسی اور سچ کے سائے تلے جا بیٹھتے ہیں- ایسا کرنا اِس لیے ضرورى ہے کیونکہ اگر تم یہ بات نہیں کرو گے اور تم یہ بات آگے تک نہیں پہنچاؤ گے تو تمہارے حصے کی ذمہ داری نبھانے والا کوئی اور نہ ہو گا- ذمہ داریاں ایک کندھے سے دوسرے کندھے تک منتقل ہوتی رہتی ہیں- اِس لئے ہر ذمہ دار کندھے کو چاہئیے کے وہ اپنے ذمے موجود ہر کام کو خوش اسلوبی سے نبھائے- اگر آپ اس کا عملى نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں تو اس عورت کو دیکھئیے جو صبح صادق سے رات گئے تک کام میں مصروف رہتی ہے- اُس کے بچے چاہے پیچھے چیخے چلائے یا پھر مٹی میں کپڑے گدلے کریں وہ دل میں بچوں کے لیے پریشان ظاہری طور پر پر سکون نظر آتی اپنے کام میں جٹی رہتی ہے- دور کھڑی اپنے چھ، سات سال کے بچوں پر نظر دوڑاتی ہے کے خدا نخواستہ کسی کو چوٹ نہ لگ جائے اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو جاتی ہے- اگر کوئی بچہ زیادہ تنگ کرے تو اُسے اپنے کمزور کندھوں پر بیٹھا لیتی ہے- نہ کھانے کی ہوش اور نہ پینے کی فکر، بس اس کوشش میں لگی ہوتی ہے کے رات کو جب گھر لوٹے تو خالی ہاتھ نہ ہو- اس کے ہاتھوں میں اپنے بچوں کے لیے امیدِ حیات ہو- جس سے وہ ان کے پیٹ بھر کر انہیں ایک اور رات زندگی بخش سکے- تاکہ جب نیا دن طلوع ہو اور اس کے بچے خوش باش چہرے لے کر جاگیں تو وہ ایک نئی طاقت کے ساتھ ان کے لیے ایک اور دن کی زندگی خریدنے چل نکلے-
آپ یقیناً یہی سوچ رہے ہوں گے کے ایسی محنت مزدوری تو مرد بھی ہر روز کرتا ہے- اپنے جسم کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر بیچنے کے بعد ہی وہ بھی دال روٹی خریدنے کے قابل ہوتا ہے- پھر یہ سارے اعزازات عورت کو کیوں پہنائے جا رہے ہیں اور پھر دوسری سوچ یہ آئے گی کہ “آں ہاں! بہن نئی نئی Feminist پیدا ہوئی ہیں-”
دراصل بات کبھی کبھی Gender Equality کے جھمیلے سے کہی آگے نکل آتی ہے- جہاں نہ Gender کا سوال رہتا ہے اور نہ ہی Equality کی بات باقی رہتی ہے- اس مقام پر صرف انسانیت کھڑی یہ سوال کر رہی ہوتی ہے کہ “سارا دن دھکے کھاتی عورت کسی تحسین اور اعزاز کی مستحق نہیں؟ ” وہ جو نہ صرف گھر کے سبھی افراد کا خیال رکھتی ہے بلکہ ان افراد کے جسموں کو ڈھانپنے کے لیے گھر سے باہر بھی محنت مزدوری کرتی ہے، کیا ایسی ذات چند مؤدت اور محبت بھرے الفاظ کی مستحق نہیں ہو سکتی؟ یاد رہے کہ یہ سب کام وہ اپنے شوق سے نہیں کرتی بلکہ اکثر و بیشتر اُسے حالات گھر کی چوکھٹ سے باہر دھکیل دیتے ہیں-
حال ہی میں میری ملاقات دو ایسی خواتین سے ہوئی جن کی باتوں نے میرے خیالات کو تحریر کی شکل دے دی- ان میں سے ایک پندرہ یا سولہ سال کی بچی “کومل” تھی- جو اپنے گھر سے دور کسی دوسرے شہر میں پانچ ہزار روپے ماہانہ پر کام کرتی ہے- دن رات کام اور خود سے چند سال چھوٹے بچوں کی خدمت گزاری کے بعد اُسے اپنی مالكن سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ “وہ بھری بس کے سامنے کومل کا منہ توڑ دے گی”   ایسے لوگوں کی انسانیت بے شک گھاس چرنے گئی ہے-
دوسری خاتون مجھے ایک ہسپتال میں ملیں جن نے ایک نہایت خوبصورت بات کہی کہ “سب سے زیادہ نظر انداز ایک ورکنگ لیڈی ہوتی ہے- جو گھر اور باہر کے درمیان پستی رہتی ہے- کبھی خود کے لیے وقت نہیں نکال پاتی- رشتے داروں کو یہ گلہ ہوتا ہے کے چند ہزاروں نے اسکی ناک آسمان پر پہنچا دی ہے- جبکہ حقیقت میں وہ اپنی کسی بھی ناک کی پروا کئے بغیر اپنے روز و شب گزار رہی ہوتی ہے-”
الامام محمد ابو زھرۃ کی کتاب میں میاں بیوی کے حقوق سے متعلق ایک چیپٹر موجود ہے- جس میں وہ یہ لکھتے ہیں کے امام شافعی اور امام ابو حنیفہ (رحمت الله عليهما) کی رائے میں بیوی کے ذمے اپنے خاوند اور اولاد کی خدمت سے متعلق کوئی شرعی دلیل نہیں ملتی- بلکہ اس کے ذمے کسی خادم سے گھر کے کام کاج کروانا ہے-
اب زرہ سوچیے کے وہ عورت جو بغیر کسی شرعی حکم کے  صرف اپنے گھر والوں کی خاطر دن رات کام کرتی ہے کیسے طنز و طعنے کی مستحق ہو سکتی ہے- اصولاً ہم سب کو (خاص طور پر خواتین) ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے- جتنا میرا تجربہ رہا ہے عورتیں ہی دوسری عورتوں کے لیے زیادہ مشکلات پیدا کرتی ہیں-
رہی بات مرد حضرات کی محنت مشقت کرنے کی تو ایسا کرنا انکی سرشت میں شامل ہے- مرد کی تخلیق بھی اسی مقصد کے لیے کی گئی ہے کے وہ زمانے کی دھوپ اور گرمی برداشت کر سکے- دوسری طرف عورت ذات جذبات سے گوندھی ہوئی ایسی کومل ہستی ہے جو اگر صبر اور برداشت کرنے پر آئے تو یوسف جیسی مثالیں قائم کر دے- ہر وہ عورت جو بیک وقت بہت سی ذمے داریاں نبھا رہی ہے اسے میرا سلام اور دعائیں-

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں