نقد حدیث کا مفہوم 26

نقد حدیث کا مفہوم اور تاریخ و ترویج

نقد حدیث کا مفہوم
لغوی مفہوم:
1۔ لسان العرب میں نقد کا لغوی معنی اس طرح مذکور ہے:
“تمیز الدراهم وإخراج الزیف منها، واعطاؤها إنسانا و أخذها فتمیز الدراهم والدنانیر یکون بتمیز الجید من الردیء، وإخراج الزیف منها والردیء”
ترجمہ: یعنی دراہم کی تمیز کرنا اور بیکار دراہم کو الگ کرنا، انہیں انسانوں کو دینا اور لینا ، پس دراہم و دنانیر کی تمیز ٹھیک کو بیکار سے الگ کر کے۔ اس سےمعلوم ہوا کہ نقدمیں صحیح اور درست کو غلط اور غیر معیاری سے الگ کرنے کے معنی پائے جاتے ہیں ۔
2۔ المحیط فی اللغۃ میں اسماعیل بن عباد نے بھی نقد کا معنی دراہم کی تمیز کرنا لکھا ہے۔
3۔ المنجد میں نقد کا معنی پرکھنا اور کلام کے عیوب و محاسن کو ظاہر کرنا بیان کیا گیا ہے ۔
4۔ لاروس المعجم العربی الحدیث میں نقد کا معنی ٹھیک کو بیکار سے الگ کرنا اور کلام میں سے اس کے عیب کو ظاہر کرنا بیان ہوا ہے۔
اصطلاحی مفہوم:
محدثین کرام نے نقد حدیث کی اصطلاحی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
“تمیز الأحادیث الصحیحة من السقیمة والحکم علی رواتها تجریحا أو تعدیلا بألفاظ مخصوصة ودلائل معلومة”
ترجمہ: صحیح احادیث کو سقیم ( ضعیف) احادیث سے ممتازکرنا اور اس کے رواۃ پر مخصوص الفاظ اور علمی دلائل کے ساتھ جرح و تعدیل کرنا نقد حدیث کہلاتا ہے۔
ترکیب و ہیئت کے لحاظ سے حدیث دو اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے۔
1۔ سند
2۔ متن
سند کو خارجی جزء او ر متن کو داخلی جزء بھی کہا جاتا ہے۔
سند کا لغوی و اصطلاحی مفہوم:
کتاب العین میں امام خلیل بن احمدالفراھیدی ؒ (م571ھ) نے سند کی لغوی وضاحت کرتے ہوئے کہا :
“السند ما إرتفع من الأرض فی قبل جبل أو واد وکل شئی أسندت الیه شیأ فھو مسند”
ترجمہ : سند پہاڑ یا وادی میں بلند مقام کو کہتے ہیں اور ہر وہ چیز جس پر کوئی چیز بھروسہ کرے مسنَد کہلاتی ہے۔
منہج النقد فی علوم الحدیث میں ڈاکٹر نورالدین عتر سند کا اصطلاحی مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
“اما السند والمراد به عند المحدثین حکایة رجال الحدیث ألذین رووه واحدا عن واحد إلی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم”
ترجمہ: رہی سند تو اس سےمحدثین کرام کے ہاں رواۃ حدیث کی وہ حکایت ہے جوایک دوسرے سے تسلسل کے ساتھ یوں نقل کرتے جاتے ہیں کہ بالآخر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جا پہنچاتے ہیں ۔
سندِ حدیث پر نقد:
محدثین نے دین کا فریضہ سمجھ کر شک و شبہ سے پاک احادیث کو آگے روایت کرنے کیلئے بڑی جانفشانی اور عرق ریزی سے کام لیا کیونکہ ان کے ہاں ” الاسناد من الدین” کی سوچ پائی جاتی ہے ۔ محدثین نے سند کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے بہت سی اصطلاحات وضع کی ہیں ۔یہ تمام تر معرفت سند اور تحقیق سند کی غرض سے وضع کی گئی ہیں ۔سند پر نقد و جرح میں محدثین انہیں اصطلاحات کے پیش نظر حدیث پر حکم لگاتے ہیں۔ سند پر ہونے والے نقد کو خارجی نقد بھی کہا جاتا ہے۔ خارجی نقد میں سند ، سلسلہ سند ،رواۃ اور احوال رواۃ کی تحقیق اور درجہ بندی کی جاتی ہے۔
راوی کی ذاتی احوال، کردار ، قوت حافظہ، بصیرت ، ذہنی و علمی استعداد ، اخلاق و کردار ، ذریعہ معاش اور اس کے مشاغل کو کھنگالا جاتا ہےاور یہ تحقیق کی جاتی ہے کہ اس نے روایت حدیث کی شرائط کا کس قدر لحاظ کیا ہے۔
متن کا لغوی و اصطلاحی مفہوم :
ڈاکٹر محمود طحان تیسیر مصطلح الحدیث میں متن کا لغوی معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
” ما صلب وإرتفع من الأرض”
ترجمہ: متن زمین کے اس حصے کو کہتے ہیں جو سخت اور بلند ہو۔
حافظ ابن حجر ؒ متن کا اصطلاحی معنی بیان کرتے ہیں :
“المتن هو غایة ما ینتهی إلیه الأسناد من الکلام ”
ترجمہ : متن حدیث کے ان الفاظ کو کہا جاتا ہے جہاں جا کر اسناد ختم ہو جاتی ہے۔
یعنی متن وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں حدیث کی سند مکمل ہو جاتی ہے۔ اس سے آگے کا حصہ متن کہلاتا ہے۔
متنِ حدیث پر نقد:
“لم یقف العلماء عند نقد الحدیث من حیث سنده بل تعدو ا إلی النظر فی متنه”
ترجمہ: علماء نے نقد حدیث کے معاملہ میں صرف سند پر ہی اکتفا ء نہیں کیا بلکہ متن کی طرف بھی توجہ دی۔
محدثین نے متن حدیث پر نقد کے بہت سے معیار اور اصول مقرر کیے ہیں۔متن حدیث پر نقد کو داخلی نقدبھی کہا جاتا ہے اور اس میں دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کے الفاظ اور جملوں کی ساخت، اس کے معانی اور مفہوم زمانے کے عقلی، تجرباتی اور طبعی تقاضوں ، مسلمہ اصولوں اور شرعی اصولوں کے موافق ہیں یا نہیں۔ امام ابن قیم (م751ھ) سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا نقد سند کے بغیر متن پر غور و فکر سے حدیث نبوی کی پہچان ممکن ہے؟ تو آپ نے نہ صرف ہاں میں جواب دیا بلکہ اپنی کتاب ” المنار المنیف” میں پچاس کے قریب نقد کے حوالے سے درایتی معیاروں کی نشاندہی فرمائی ۔عقلی و روایتی معیاروں پر نقد حدیث کا تسلسل صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین تک جا پہنچتا ہے۔
سند اور متن پر نقد کو الگ الگ زیر بحث لایا جاتا ہے۔
نقد حدیث کی تاریخ و ترویج
خطا اور نسیان انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ انسا ن سے غلطی کا صادر ہونا دونوں طرح ہو سکتا ہے، بھول چوک یا پھر دانستہ ۔ عام معاملات میں جان بوجھ کر کی جانے والی غلطی نادانستہ خطا سے زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے لیکن حدیث کے معاملے میں جس طرح دانستہ غلطی قابل قبول نہیں اسی طرح نادانستہ غلطی کی بھی گنجائش نہیں کیونکہ حدیث کو دین متین میں بنیادی مصدر کی اہمیت حاصل ہے۔ جس طرح قرآ ن مجید اسلام کی اساس ہے اسی طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی دین اسلام کی اساس ہے لہذا اس میں بشری غلطی کی گنجائش نہیں اور اس کو تمام اغلاط سے پاک کرنا انتہائی ضروری ہے۔
چونکہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شریعت اسلامی میں مرکزی حیثیت حاصل ہےاس لئے مسلمانوں نے آغاز سے ہی خدمت دین میں حدیث رسول پر بہت توجہ دی اور حدیث کو قرآن پاک کے ساتھ باقی علوم پر ہمیشہ فوقیت اور اہمیت دی۔ نقد رواۃ و روایت ، جرح و تعدیل ، جمع و تدوین، تصحیح و تنقیح اور تطبیق و توجیہ کیلئے کئی انواع پرمشتمل علوم الحدیث کا فن بہترین انداز میں تشکیل دیا۔ علوم الحدیث اور نقد حدیث میں مسلمانوں نے وہ عظیم کام کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔
محدثین کرام کی تمام مساعیات جلیلہ میں نقد حدیث کا پہلو انتہائی نمایاں ہےجس میں یہ جانچنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےساتھ منسوب کوئی بھی حدیث درست ہے یا نہیں تا کہ اس کے قبول یاعدم قبول کےبارے میں حتمی فیصلہ کیا جاسکے اور اس میں مذکور حکم پر عمل کو فرض کا درجہ دیا جائےیا اس بات کا علم ہونے کے بعد کہ یہ حدیثِ رسول نہیں ہے اس سے احتراز کیا جائے ۔
روایات کی جانچ پڑتال کا کام مسلمانوں کی عظیم جماعت نے انتہائی جانفشانی سے آغاز میں ہی کرنا شروع کر دیا تھا اگرچہ اس وقت اصول و قواعد اتنے سخت اورمعیاری نہیں تھے جتنے بعد کےادوار میں ہوئے۔جوں جوں اسلام پھیلتا چلا گیا قرآن و حدیث کی نشر و اشاعت کا دائرہ بھی بڑھتا چلا گیا۔چنانچہ زمان و مکان اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نقد
حدیث کا معیار بلند اور سخت تر ہوتا گیا۔
نقد حدیث کے حوالے سے قلم اٹھانے والے چند مشہور نام مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ خطیب بغدادی (م 463 ھ) :
آپ کا نام احمد اور کنیت ابوبکر ہے۔آپ بہت اچھے عالم اور قرآن کریم کے حافظ تھے۔خطابت کے منصب پر تقریبا بیس سال تک فائز رہے ۔ آپ کا شمار مشہور حفاظ حدیث میں بھی ہوتا ہے ۔ آپ تاریخ بغداد سمیت تقریبا 70 سے زائد کتب کے مصنف ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :
الکفایہ فی علم الروایہ ،المسلسلات، الرباعیات، اقتضاء العلم والعمل،تقید العلم ، الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع،التبیین لاسماءالمدلسین وغیرہ
2۔ابن عساکر (م 571 ھ) :
آپ کا مکمل نام ابوالقاسم علی بن حسن بن هبة الله بن عبدالله بن حسین ثقة الدین ناصر السنة ابن عساکر الدمشقی ہے۔ حافظ ابن عساکر دمشق میں محرم کے مہینہ میں 499 ھ بمطابق 1105 میلادی میں پیدا ہوئے۔ ابن عساکر کے والد گرامی ایک متفی پرہیز گار اور پختہ کار عالم تھےاور ان کے بھائی الصائین بن ھبۃ بن حسن بھی قرآن و سنت کاعلم جاننے والے اور ثقہ اور فقہی تھے۔اپنے والد اور چچا کے پاس تعلیم کا آغاز کیا اور علم کی منزلیں طے کرنے لگے۔مختلف مدارس اور مختلف اساتذہ کرام سے تفسیر حدیث فقہ ادب تاریخ کا علم حاصل کیا ۔ ابن عساکر کی چند ایک تالیفات کے نام درج ذیل ہیں:
معجم الصحابة،معجم النسوان،معجم اسماءالقری والامصار،معجم الشیوخ والنبلاء،کشف المغلطی فی فصل الموطا،التبیین فی کذب المفتری علی الامام الاشعری اور تاریخ دمشق کے علاوہ اور بھی کتب ابن عساکر کے قلم سے صفحہ قرطاس پراتری ہیں۔
3۔ابن جوزی (م 597ھ):
آپ کالقب:جمال الدین ،کنیت:ابوالفرج اورنام ونسب:عبدالرحمن بن علی بن محمد بن علی بن عبداللہ بن حمادی
بن احمد بن محمد بن جعفر الجوزی بن عبداللہ بن قاسم بن نضر بن قاسم بن محمد بن عبداللہ بن عبد الرحمن بن قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق ہے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطہ سے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ علامہ كى چند مشہور و مقبول تصانيف يہ ہیں:
تہذيب سنن ابي داود، اعلام الموقعين،مدارج السالكين ،زاد المعاد، عدة الصابرين و ذخيرة الشاكرين ،مفتاح السعادة،الفوائد ،الوابل الصيب ان كے علاوہ بھی كئى ايك گرانقدر تصنيفات ہیں جو زيور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔آپ كى وفات 13 رجب 751 ھ ميں ہوئی اور دمشق كے باب صغير كے مقبرہ میں اپنے والد كے پہلو ميں دفن كئے گئے ۔
4۔امام ابن الصلاح (م 643 ھ):
آپ کا اسمِ گرامی عثمان، لقب تقی الدین اور کنیت ابو عمرو ہے۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے:”أبو عمرو تقي الدین عثمان بن عبد الرحمان بن عثمان بن موسی الکردي الشہر زوري الشرخاني”آپ کے والدِ محترم عبد الرحمان کا لقب چونکہ صلاح الدین تھا اس لئے ان کی طرف انتساب کے پیشِ نظر آپ ابن الصلاح کے نام سے علمی دنیا میں معروف ہیں۔
آپ نے بہت سی کتب تصنیف فرمائیں جو ہمیشہ کے لئے آپ کا صدقۂ جاریہ اور یاد گار ہیں۔ موضوع کے اعتبار سے ان میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ نیز سب تالیفات تحقیقاتِ راسخہ اور فوائدِ نافعہ پر مشتمل ہیں۔ آپ کی تصنیفات میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں۔(
شرح الوسیط في فقه الشافعیة، فوائد الرحل، صلة الناسك في صفةالمناسك، الإمالی، أدب المفتي والمستفتي، شرح صحیح مسلم،علوم الحدیث۔موخر الذکر آپ کی جملہ تصنیفات میں سے اہم ترین ہے۔
ان کے علاوہ نقد حدیث کے حوالے سے چند مشہور نام یہ ہیں: امام صغانی (م 650 ھ)، امام ذہبی (م 748ھ) ،امام ابن قیم (م 751ھ)، امام ملقن (م 804ھ)، امام بلقینی (م807ھ) ،امام سخاوی (م902ھ)،امام سیوطی (م 911ھ)
ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر نے اپنی کتاب علوم الحدیث میں نقد حدیث کے حوالے سے یہ اسماء ذکر کرنےکے بعد لکھا ہے کہ یہ وہ چندنام ہیں جنہوں نے نقد حدیث کے حوالے سے قلم اٹھایا ہے اور اس کے اصول و معیارات مقرر کیے ہیں ۔ مزید لکھتے ہیں کہ صدیوں پر محیط تاریخ علوم الحدیث میں سے صدی وار چند ایک حوالہ جات داخلی نقد حدیث کی فکر کا تسلسل ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں