انتہا ء پسندی کے اسباب 69

انتہا ء پسندی کے اسباب از مفتی گلزار احمد نعیمی

انتہا ء پسندی کے اسباب
از: مفتی گلزار احمد نعیمی
مرکزی صدر جماعت اہل حرم پاکستان
پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد

انتہاء پسندی کے مختلف اسباب ہیں ۔ ہر مکتب فکر نے اسے اپنے اپنے انداز سے دیکھا ہے ۔ نفسیاتی مکتبہَ فکر کے لوگ اس انتہاء پسندی کو سماجی مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ سماجی ماہرین اس کو سماجیات کے ساتھ جوڑتے ہیں جبکہ ماہرین اقتصادیات اسے معاشی مسئلہ سمجھتے ہیں ہر شخص نے اسے اپنی اپنی فکر اور سوچ کے مطابق دیکھا ہے ۔ لیکن اگر اس مسئلہ کو وسعت نظری و قلبی سے دیکھا جائے تو اس کے مختلف اسباب ایک دوسرے پر اپنا اثر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ہ میں کسی ایک سبب پر تو جہات مرکوز کر کے اس کے سد باب کے لیے کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔ کچھ اسباب معاشی ہیں ، کچھ مذہبی ہیں ، کچھ نظریاتی ہیں اور سماجی بھی ہیں ۔ جب حکومتیں خود اندرونی بگاڑ اور فساد کا شکار ہو جائیں تو اس سے بھی انتہا پسندی جنم لیتی ہے ۔ حکمران جب اپنی خواہشات کے بندے بن کر خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں تو اس سے معاشرے کے افراد کے حقوق ادا نہیں ہوتے جس سے انتہاء پسندی جنم لیتی ہے ۔ بعض اوقات حکمران بیرونی آقاءوں کے اشاروں پر چلتے ہیں اور فیصلے عوامی خواہشات کے برعکس کرتے ہیں جو انتہا پسندی کو جنم دیتے ہیں ۔ پاکستان میں بطور خاص اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی عموماً ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ یہاں عوام اور حکمرانوں یا مذہب اور حکمرانوں کی سمتیں بالکل جد ا جدا ہیں ۔

انتہاء پسندی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب وہ لوگ ہیں جو ہیں تو جاہل یا نیم خواندہ لیکن روپ انہوں نے مستند علماء اور مفتیان کا دھارا ہوا ہے ۔ حلال کو حرام اور حرام کو حلال بے دھڑک ہوکر بنا رہے ہیں ۔ انہیں دین کے جزیَ اور کلی امور کا با لکل ادراک نہیں ہوتا ۔ وہ کل پر جزء کا یا جزء پر کل کا حکم لگا دیتے ہیں ۔ نفل کو واجب کے درجے تک پہنچا دیتے ہیں مستحب اور مباح کی تفریق مدنظر نہیں رکھتے ۔ دین کے فہم میں بالکل ناپختگی کی وجہ سے تفہیم شریعت میں خطاء کرتے ہیں اور مقاصد شریعت کو سمجھنے سے بالکل بے برہ ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی نیم مالاءوں کے بارے میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: حضرت عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ سلم نے فرمایا: لا یقبض اللہ العلم انتزاعاًینتزعہ‘ من الناس و لکن یقبض العلماء حتیٰ اذا لم یبق عالمٌ اتخذالناس روساء جھالاً فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا(رواہ بخاری و مسلم )

ترجمہ: اللہ رب العزت علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ وہ لوگوں سے اس کو چھین لے گابلکہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھایا جائے گا یہاں تک کہ کوئی عالم دین نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے اور ان سے مسائل پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔

انتہاء پسندی کی ایک وجہ فروعی مسائل میں زیادہ دلچسپی اور اصولی مسائل میں غیر دلچسپی کا رجحان ہے ۔ نہایت بڑے مسائل جو بہت زیادہ اہم ہیں ان میں دلچسپی کم ہو اور جو غیر اہم مسائل ہیں وہ زیادہ اہم بن جائیں تویہ چیز بھی بگاڑ اور فساد کو جنم دیتی ہے ۔ ہم لوگ ان مسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں کہ داڑھی بڑھی ہونی چاہیے یا کم ہونی چاہیے ،فوٹو گرافی جائز ہے یا ناجائز ۔ آج بڑا مسئلہ یہ نہیں ہے بلکہ آج کے بڑے مسائل میں الحاد اور سیکولرازم کی اسلام پر یلغار ہے ۔ اسلامی زمین پر صیہونی اور غیر مسلم قوتوں کا قبضہ ہے ۔ ایشیاء اور افریقہ کے ممالک میں صلیبیوں کی یلغار ہے ۔ اسلامی تشخص کو مٹانے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کو ذبح کیا جارہا ہے پچھلے دنوں افغانستان میں ایک مدرسہ میں جلسہ درستار فضیلت پر اتحادی فورسز کی بمباری ہوئی جس کے نتیجے میں ایک سو سے زیادہ ننھے حفاظ شہید ہوگئے اور کئی سو افراد زخمی ہوئے وغیرہ وغیرہ ۔ اسلام اور اہل اسلام کو دبانے اور طاغوت کو غالب کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔

اس لیے ہ میں فروعی مسائل میں الجھ کر فرقہ وارانہ مسائل کھڑے کر کے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مسلمانوں اور خصوصاًنئی نسل کے عقائد کو محفوظ کرنے کے لیے حکمت عملی بنانی چاہیے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :کوئی قوم ہدایت ملنے کے بعد اس وقت گمراہ ہوتی ہے جب وہ جنگ و جدل میں مبتلا ہوتی ہے ۔ (سنن ابی داءود ، ترمذی)

ایک بڑی چیز جو انتہا پسندی کا سبب بن رہی ہے وہ حلال وحرام میں مسرفانہ رویہ ہے ۔ ایک عالم شریعت کے حلال و حرم سے پوری طرح آگاہی نہیں رکھتا لیکن فوراً وہ کسی چیز کے حرام ہونے کا فتویٰ جاری کر دیتا ہے ۔ قرآن مجید نے فرمایا:وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ اََلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہَذَا حَلاَلٌ وَہَذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ ;202;ِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُون (النحل:۶۱۱)

ترجمہ :اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر ;200;جائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو، جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلانہیں ہو گا(النحل:۶۱۱)

ہمارے اکابر علماء حلال اور حرام کو بیان کرتے ہوئے بہت احتیات برتتے تھے جس چیزکی حرمت کے بارے میں علم قطعی نہیں ہوتا اس کی حرمت کا فتو یٰ نہیں دیتے تھے ۔ کسی چیز کو محض ظن و تخمین یا صرف اپنے مزاج کے خلاف سمجھ کر حرام قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ہ میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کسی چیز کی حرمت احادیث ضعیفہ یامجرد نص سے ثابت نہیں ہوسکتی ۔ حرمت کے ثبوت کے لیے نص صریح یا معتبر اجماع کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ امام مالک علیہ الرحمۃ نے فرمایا: کہ میرے لیے بہت سخت مسئلہ وہ ہے جو مجھ سے پوچھا جاتا ہے وہ حرام و حلال سے متعلق ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کے سامنے جب مسائل پیش کیے جاتے تو وہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جمع کرتے تھے اور پھر فتویٰ جاری کرتے تھے ۔ کسی شخص کی پسند یا عدم پسند کو حلال و حرام کا مسئلہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ اگر کوئی شخص اپنی رائے کو حلال و حرام کے ساتھ جوڑے گا تو وہ قرآنی نص کے مطابق اللہ پر جھوٹ باندھے گا ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا :قُلْ اََرَاََیْتُم مَّا اََنزَلَ اللّہُ لَکُم مِّن رِّزْقٍ فَجَعَلْتُم مِّنْہُ حَرَاماً وَحَلاَلاً قُلْ ;200;للّہُ اََذِنَ لَکُمْ اََمْ عَلَی اللّہِ تَفْتَرُون(سورۃ یونس:آیت 59)

ترجمہ: کہو کہ بھلا دیکھو تو اللہ نے تمہارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اُس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افتراء کرتے ہو;238;

حلال تو وہ ہے جسے اللہ اور اسکا رسول حلال فرمائے اور حرم بھی وہی ہو گا جسے وہ حرام فرمائیں ، امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اپنی شہرہَ آفاق کتاب الام میں حضرت قاضی ابو یوسف علیہ الرحمۃ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مشاءخ کو حلال و حرام کے حوالہ سے بہت محتاط پایا سوائے ان چیزوں کے جو کتاب اللہ میں موجود ہیں ۔

انتہاء پسندی کے فروغ کے لیے حلال و حرام کو اپنی رائے کے مطابق بنانا یہ بہت ہی مشہور نقطۃ نظر بن چکا ہے، ہ میں اللہ سے ڈرنا چاہیے اپنی مرضی کے حلال وحرام تشکیل دے کر امت کے اندر بگاڑ پیدانہیں کرنا چاہیے ۔ ہ میں معاشرتی ، سیاسی اور معاشی مسائل میں بھی راہ اعتدال اختیار کرنی چاہیے ۔ پاکستان میں بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ اور بین المسالک قربتیں انتہاء پسندی کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہیں ۔ ہ میں ان قربتوں کے بڑھانے پر کام کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کی تکفیر سے باز رہنا ہوگا ۔ اسلام دشمن قوتوں کی چالوں کو سمجھنا ہوگا اور ان چالوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام مسالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی ۔

اللہ تعالیٰ ہمار ا حامی و ناصر ہے ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں