mufti gulzar ahmed naeemi 104

مولاناکا آزادی مارچ۔ تحریر مفتی گلزار احمدنعیمی

مولاناکا آزادی مارچ۔
تحریر مفتی گلزار احمدنعیمی
مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اسلام آبادکے مشہور ترین مقام پشاور موڑ پر پڑاؤ ڈال چکا ہے۔کل کے پہلے جلسہ سے مولانا نے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کو پاکستان کا گورباچوف قرار دیا ہے اور انہیں حکومت سے دستبردار ہونے کے لیے دو دن کی مہلت دی۔مولانا کے نقطئہ نظر کے مطابق روس اپنی معیشت کی زبوں حالی کی وجہ سے ریاستوں میں ٹکڑے ہوکرتقسیم ہوا،آج پاکستان کی معیشت بھی زبوں حالی کا شکار ہے اس لیے خدانخواستہ یہ بھی ٹوٹ جائے گا۔مولانا،انکی جماعت اور ان کے مکتب نے کبھی بھی پاکستان کے استحکام کی بات نہیں کی۔یہ بہت ہی قابل افسوس اور تکلیف دہ بات ہے کہ یہ لوگ پاکستان میں رہ کر پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور پاکستانی فوج کو نہ صرف گالیاں دیتے ہیں بلکہ ان پر خود کش حملے کرتے رہے ہیں۔پاکستان میں جتنے بھی مسالک موجود ہیں اور جتنے بھی غیر مسلم مذاہب ہیں ان سب میں مولانا اور ان کے مکتب کے لوگ ریاست پاکستان اور محافظیں ریاست کی دشمنی میں پیش پیش رہے ہیں۔یہ لوگ تحریک پاکستان میں ہندوؤں کے ساتھ تھے،قیام پاکستان کے بعد بھی ہندوؤں کے ساتھ تھے اور آج بھی انکی تمام تر سرگرمیاں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے ہیں۔آج پاکستان میں جمیعت علمائے اسلام کی پاکستان کے بارے وہی سوچ ہے جو جمیعت علمائے ہند کی انڈیا میں ہے۔مولانا مدنی پاکستان کے خلاف جو زہر اگلتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔تحریک پاکستان کے خلاف فتوی دینے والی جماعت کے امیر مولانا مدنی نے جمیعت ہند کی سوویں سالگرہ کے موقع پر مولانا فضل الرحمن کی موجودگی میں اجیت دوول کے ساتھ گفتگو میں پاکستان کی شدید ترین مخالفت کی تھی مگر مولانا بالکل خاموش رہے۔
یہی مولانا فضل الرحمن جب کشمیر کمیٹی کے چیرمین تھے اس وقت کشمیر کے لیے زرہ برابر بھی کام نہیں کیا۔آج کہتے ہیں کہ عمران نے کشمیر بیچ دیا ہے۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: آج آپکا مبارک اجتماع یہ اعلان کرتا ہے کہ ناموس رسالت کو کوئی چھیڑ نہیں سکے گا،عقیدہ ختم نبوت کو کوئی نہیں چھیڑ سکے گا۔قربان جائیں آپ کے ان جملوں پر، قبلہ پچھلی حکومت جسکا آپ حصہ تھے اس نے قانون ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا آپ نے صافی کے پروگرام میں اسکا برملا اعتراف کیا،آپ اس حکومت کا پھر بھی حصہ رہے۔آج عمران خان اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر نہایت بہادری سے ناموس رسالت کا دفاع کرتا ہے آپ پھر بھی اسے بے ہودگی سے یہودی ایجنٹ کہتے ہیں۔آپکی اس دوغلی پالیسی کی وجہ سے آپکو آپکے حلیفوں نے ناموس رسالت کارڈ استعمال کرنے سے سختی سے روک دیا ہے۔آپ نے اپنے خطاب میں ربیع الاول کے مہینہ کا ذکر کیا۔۔آپکو اس مہینے سے کیا علاقہ حضرت۔۔! آپکے لوگوں نےچند سال پہلے آپ کے اپنے علاقےڈیرہ اسماعیل خان کی پہاڑپور تحصیل میں میلاد النبی کے جلوس پر اندھا دھند فائرنگ کرکے عشاق کی لاشیں گرائیں۔آپ کس منہ سے ماہ ربیع الاول کی بات کرتے ہیں۔یہ کیسا تحفظ ناموس رسالت کا اجتماع ہے کہ جس میں ابھی تک سرکار کی رسالت کا ایک بھی نعرہ نہیں لگایا گیا۔نعرہ تکبیر کے فورابعد” مولانا آرہا ہے” کا نعرہ لگتا ہے۔
آپ نے فرمایا: اس حکومت کی پشت پر ادارہ ہے ہم اداروں کو دو دن کی مہلت دیتے ہیں۔۔۔کیا ایم ایم اے کی حکومت ادارے کی آشیرباد کے بغیر معرض وجود میں آئی تھی؟؟؟. کیا آپ نے ادارے کی پشت پناہی کے بغیر حکومت کی تھی۔؟؟؟اس ملک میں کوئی حکومت ادارے کے بغیر نہیں چلتی۔آج کا پاکستانی سیاست دان مذہبی ہو یا سیکولر کرپشن میں سر تا پا ڈوبا ہوا ہے۔اس سے بڑھ کر اور جھوٹ کیا ہوسکتا ہے کہ آپ موجودہ حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ اس نے کرپشن میں اضافہ کیا ہے۔ آپ نے کہا تم چوروں کے چور ہو۔۔آپ جن لوگوں کے حکومتوں میں حلیف رہے ہیں وہ تو کوثر وتسنیم سے دھلے ہوئے تھے۔؟؟؟؟آپ نے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اور مجبورا ڈی جی آئی ایس پی آر کو بولنا پڑا۔آپ پاک آرمی کو سازشوں میں الجھا کر مودی کے لیے آسانیاں پیدا کررہے ہیں۔
آپ نے میڈیا کو بغاوت پر اکسایا۔آپ نے اعلان کیا کہ یہ مجمع اس بات پر قادر ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں گھس کر وزیر اعظم کو گرفتار کرے۔یہ کھلی بغاوت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر عمران خان اپنے آپ کو بہادر کہتا ہے تو اس پر اسے ایکشن لینا چاہیے۔تمام قانون دان اور پاکستان سے محبت کرنے والے اسے جھلی بغاوت قرار دے رہے ہیں۔اس سے بھی بڑھ کر یہ المیہ ہوا کہ کل کی تمام تقاریر پاک فوج اور ریاستی محافظ اداروں کے خلاف ہوئیں۔ شہباز شریف نے کہا عمران جادوٹونے کے ذریعے حکومت چلا رہا ہے۔جتنی مدد اسے ملی ہےاگر ہمیں دس فیصد بھی ملتی تو ہم ملک کو کہاں سے کہاں لے جاتے۔6 ماہ میں اگر معیشت کو نہ اٹھایاتو میرا نام عمران نیازی رکھ دینا۔بلاول نے کہا” گزشتہ الیکشن میں ایجنٹوں کو باہر نکلوا کر اندر باہر فوج کو کھڑا کردیا گیا۔یہ کیسی آزادی ہےکہ سب کچھ پابند کردیا گیا ہے یہ حکومت سلیکٹرز کے ذریعے آئی ہے اس لیے یہ عوام کو نہیں سلیکٹرز کو خوش کررہے ہیں۔وزیراعظم کٹھ پتلی ہے۔نالائق ہے۔کشمیر پر سودا کرلیا گیا ہے۔”
کل کی تقاریر سے یہ لگا کہ یہ کوئی پاکستانی سیاسی قائدین نہیں تھے۔میں اس اکٹھ کو سیاست دانوں کا اجتماع نہیں کہتا میرے نزدیک یہ بین الاقوامی ایسٹیبلشمنٹ کے ملازمین کا اجتماع تھا۔انکی تقاریر سے بھارت اور مودی نے کتنی خوشیاں منائیں یہ بھارتی میڈیا پر دیکھا جاسکتا ہے۔بھارت میں ہندو مندروں میں جاکر بتوں سےمولانا کی کامیابی کی دعائیں مانگ رہے ہیں کیونکہ جو کام مودی اور اور بھارتی فوج نہیں کر پارہی وہ کام مولانا ان کے لیے کررہے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ اس پورے فسادی مارچ میں اہل سنت کی کوئی تنظیم،کوئی جماعت شامل نہیں ہے۔کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ امام اہل سنت الشاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کے فرزند جناب اویس نورانی تو پیش پیش ہیں۔ان کے بارے میں صرف یہی کہوں گا” بیگانی شادی میں عبداللہ ناچے” اویس نورانی بڑے باپ کے بیٹے ہیں انہیں اس حد تک اپنے آپ کو بے وقعت نہیں کرنا چاہیے تھا۔یہ بہت ہی قابل افسوس ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں