اچھی حکمرانی کے اصول 156

شھادت امام عالی مقام اور خدائے و احد کی ناراضگی۔

شھادت امام عالی مقام
اور
خدائے و احد کی ناراضگی۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس راوی حدیث ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرمائی کہ میں نے نبی اللہ یحی علیہ السلام کے قتل کے بدلے ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا تھا اور آپکی بیٹی کے بیٹے کے خون کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار(140000) افراد کو قتل کرونگا( یہ الفاظ امام شافعی کی روایت کردہ حدیث کے ہیں)۔قال الحاکم ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ۔امام ذہبی کے مطابق یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔اس حدیث کو علامہ ابن حجر عسقلانی نے بھی تھذیب التھذیب میں نقل کیا ہے۔
بے شمار انبیاء علیھم السلام کو ناحق قتل کیا گیا۔جو بادشاہوں کو خدائے واحدکی عبادت کی طرف بلاتے تھے۔انکا صرف یہی قصور تھا۔اور یہی قصور حضرت امام عالی مقام کا تھا کہ وہ بھی یہ فرماتے تھے کہ حکمرانی بادشاہوں کے ہاتھ کی چھڑی نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ آللہ کی رسی ہے جسے عوام اور حکمرانوں کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔اگر آپ کے خطبات پر توجہ کی جائے تو آپ نے فرمایا تھا کہ :جو حکمران اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور اللہ کا عہد توڑے،عوام پر ظلم کرےاگر کوئی شخص اس کے ظلم و تعدی کو روکنے کی کوشش نہیں کرتا یاکوئی منصوبہ بندی نہیں کرتا تو اللہ کا حق ہے کہ اس گو نگے شیطان کا حشر بھی اسی ظالم کے ساتھ کرے۔یہ خرابیاں آپ نے یزید کی حکومت میں دیکھیں تو آپ نے خروج فرمایا۔یزید وہ پہلا شخص تھا جس نے دین کے ساتھ کھلواڑ کیا اور دین کے اصولوں کو اپنے پاوں تلے روندا۔علامہ ابن حجر عسقلانی کا ہی حوالہ دونگا ابن حجر ایک حدیث لائے ہیں کہ سرکار نے فرمایا : میری امت کا معاملہ یونہی برابر برابر قائم رہے گا “حتی یکون اول من یثلمه رجل من بنی امیة یقال لہ یزید۔(لسان المیزان ج6 باب یزید بن معاوية)”.یہاں تک کہ بنو امیہ کا پہلا شخص اس میں شگاف ڈالے گاجسے یزید کہا جائے گا۔ جب کسی حدیث کے ساتھ علامہ ابن حجر کا نام آجائے تو نام ہی کافی ہوتا ہے۔
صرف یزید ہی پر کیا موقوف یزید کے سب عمال ہی ایسے تھے۔ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سرکار عید گاہ میں داخل ہونے کے بعد پہلا کام عید کی نماز پڑھاتے تھے۔میں مروان مدینہ کے گورنر کے ساتھ عیدگاہ میں داخل ہوا تو وہ عید کی نماز پڑھائے بغیر منبر پر چڑھ گیا میں نے اسکا کپڑا پکڑا مگر وہ چھڑا کر منبر پر بیٹھ کر خطاب کرنے لگا۔ میں نے اسے کہا “غیرتم واللہ”۔اللہ کی قسم تم نے نبی کی سنت کو بدل دیا ہے۔کہنے لگا اے ابو سعید وہ دور گزر گیا ہے۔ نماز کے بعد لوگ ہمارا خطاب نہیں سنتے۔
اس قسم کے عمال کے سامنے کلمہ حق پیش کرنا بہت مشکل تھا لیکن قربان جائیں فاطمہ کے لال کی جرآت پر سب خطرات کو قبول کر کے احقاق حق فرمادیا۔اللہ آپ کے اور آپکے خاندان اور اصحاب کے درجات بلند فرمائے۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں