مفتی گلزار احمد نعیمی 292

مسئلہ کشمیر اور اسلامی دنیا۔ مفتی گلزار احمد نعیمی

مسئلہ کشمیر اور اسلامی دنیا۔
یوں تو کشمیری مسلمان کئی دہائیوں سے ظلم وستم برداشت کررہے ہیں اور آئے دن شھادتیں ہو رہی ہیں،ہندوستانی وحشی درندے مسلمانوں پر قتل وغارت کی اندوہناک داستانیں رقم کررہے ہیں مگر 5 اگست 2019 سے مسئلہ کشمیر نے ایک نئی جہت اختیار کر لی ہے۔مودی حکومت نے 370 اور 35-Aکا خاتمہ کرکے یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حثیت ختم کرنے کی کوشش کی ہےاور مقبوضہ کشمیرکو باقاعدہ طور پر بھارت کاحصہ بنا دیا ہے۔کشمیریوں کی آواز دبانے کےلیے22دنوں سے سخت ترین کرفیو ہے۔وادی میں انسان تو کجا پرندوں کو بھی پرمارنے کی اجازت نہیں ہے۔آج بائیسواں دن ہے کشمیری محصور ہیں اور وادی میں مسلسل کمونیکیشن بلیک آوٹ ہے۔
اس گھمبیر صورت حال میں پاکستان اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق کشمیریوں کی مدد کررہا ہے۔موجودہ حکومت کی کاوشوں سے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی کینوس پر دوبارہ اجاگر ہوا ہے۔لیکن اسلامی ممالک کی مجرمانہ خاموشی مظلوم کشمیریوں کے مورال پر بہت منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دوستوں کی مدد کی اشد ضرورت ہوتی۔دوستوں کا کھل کر ساتھ دینا بڑا معنی رکھتا ہے۔مشہور امریکی رہنماء مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نےامریکہ میں شہری حقوق کی تحریک کے دوران اپنے ایک خطاب میں کہا تھا:
“In the end,we will remember not the words of our enemies but the silence of our friends.”
ترجمہ:آخر میں ہم اپنے دشمنوں کی گفتگو کو یاد نہیں رکھیں گےبلکہ اپنے دوستوں کی خاموشی ہمیں یاد رہے گی۔
کشمیری مسلمانوں کے باب میں اگر اسلامی ممالک کی صرف خاموشی تک بات ہوتی پھر بھی کسی حد تک قابل افسوس نہ ہوتی مگر یہاں تونوبت بایں جا رسید کہ کشمیروں پر قیامت ڈھانے والے ظالم کافر مودی کی امت مسلمہ میں پذیرائی ہو رہی۔اسی ہفتہ متحدہ عرب امارات نے مودی کو اپنے ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ “زاید میڈل”عطا کیا ہے۔ ایوارڈ دیتے ہوئے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے کہا کہ یہ ایوارڈ نریندر مودی کی دوستی اور تعاون کو فروغ دینے میں ان کے کردار کی وجہ سے دیا گیا ہے۔اصل بات دوستی کی نہیں تعاون اور تجارت کی ہے۔بھارت دنیا میں خام تیل استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔وہ سب سے زیادہ تیل سعودی عرب اور یو اے ای اے سےہی خریدتا ہے۔ایک طرف مسلمانوں کے خون سے یہ ہندو ہولی کھیل رہے ہیں اور دوسری طرف مسلم ممالک اسے ایوارڈ سے نواز رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی دیکھا دیکھی بحرین نے بھی مودی کو اپنے ملک بڑا ایوارڈ عطا کردیا ہے۔اس نے کہا کہ میں سعودیہ اور یو اے ای سے ہیچھے کیوں رہوں۔ایک طرف مسلمانوں کا قتل عام ہے اور دوسری طرف معاشی اور اقتصادی مفادات ہیں۔یو اے ای نے اقتصادی مفادات کا انتخاب کیا ہے۔امت کس جانور کا نام ہے۔؟؟؟مورخ جب تاریخ لکھے گا تو وہ یہی لکھے گا کہ اسلام کے لیے اونٹوں کے گلہ بان عربوں نے اپنا تن من دھن قربان کر دیا تھا اور پوری دنیا میں اسلام کو غالب کردینے میں کامیاب ہوگئےاور آج کی دنیا میں تیل کی دولت سے مالا مال ان صحرا نشین بدووں نے اسلام کی ہر موقع پر توہین کی،اسلام کو کمزور کیا اور خود بے غیرتی کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیئے گئے۔آج اسلام انکی کسمپرسی،بے غیرتی اور کم ہمتی کے محلات پہ کھڑا آنسو بہا رہا ہے۔معاشی مفادات اور اسلام سے دوری نے انہیں بزدل اور بے غیرت بنا دیا ہے، وہ استعماری قوتوں سے خوفزدہ ہیں اپنی بادشاہتوں کی بقاء کا سہارہ خدا کو نہیں امریکہ اور اس کے حواریوں کو سمجھتے ہیں۔مخبر صادق نے بالکل سچ فرمایا،عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں،کہتے ہیں “سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول مامن قوم یظھر فیھم الزنا الا اخذو بالسنة ومامن قوم یظھر فیھم الرشاء الا اخذو بالرعب”۔رواہ احمد
ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناجس قوم میں زنا کی بیماری پیدا ہوجائے تو وہ قحط میں مبتلاء ہوجاتی ہےاور جس قوم میں رشوتیں پیدا ہوجائیں وہ دشمنوں کےخوف میں گرفتار کر دی جاتی ہے۔
یہ بادشاہ جس طرح زنا جواء اور شراب کے جرائم میں ملوث ہیں پوری دنیا جانتی ہے۔یہ اپنی بادشاہتیں بچانے کے لیے امریکہ اور اس کے حواریوں کو جورشوتیں دیتے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے۔دولت کی لالچ نے انہیں اندھا کردیا ہے اور یہ عملا اسلام کو خیر آباد کہہ چکے ہیں۔ام المومنین زینب بنت جحش کی روایت ملاحظہ ہو۔۔”عن زینب بنت جحش انھا قالت استیقظ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من النوم محمرا وجھہ یقول لا الہ الا اللہ ویل للعرب من شر قد اقترب فتح الیوم من ردم یاجوج وماجوج مثل ھذا ،وحلق باصبعہ وبالتی تلیھا فقالت زینب یارسول اللہ انہلک وفیناالصالحون؟ قال نعم اذا کثرت الخبث”۔( بخاری،رقم الحدیث 7059)۔ ترجمہ۔زینب بنت جحش کہتی ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپکا چہرہ انور سرخ تھا۔آپ کلمہ طیبہ پڑھ رہے تھےاور فرما رہے تھے عربوں کی ھلاکت،اس شر کی وجہ سے جو قریب آچکی ہے۔آج یاجوج وماجوج کے بند کو کھول دیا گیاہے۔آپ نے اپنی شھادت والی انگلی کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر حلقہ بنایا۔زینب کہتی ہیں میں نے عرض کیااے اللہ کے رسول! کیا ہم ھلاک ہوجائیں گےاس کے باوجود کہ ہم میں نیکوکار لوگ موجود ہونگے؟ فرمایا:ہاں،جب برائی عام ہوجائے گی۔
تمہارے اندر کی خباثتوں نے قول رسول مقبول کے مطابق تمہارے دلوں کو پتھر کر دیا ہے۔قرآن نے درست فرمایا ثم قست قلوبکم من بعد ذالک فھی کالحجارة او اشد قسوة( پھر تمہارے دل سخت ہوگئے وہ پتھر کی طرح ہوگئے یا اس سے بھی سخت)۔قرآن پھر فرماتا ہے لھم قلوب لایفقھون بھا ولھم اعین لا یبصرون بھا ولھم آذان لایسمعون بھا(اعراف)۔(دل تو ہیں مگر سمجھ نہیں ہے،آنکھیں تو ہیں مگر دیکھتے نہیں، کان تو ہیں مگر سنائی نہیں دیتا)
آج دنیائے اسلام کے چند ممالک کے سوا کسی نے بھی کشمیری مظلوموں کی حمایت میں موثر آواز نہیں بلند کی۔ترکی،ملیشیاءاور ایران کے علاوہ کسی نے حمایت نہیں کی۔ہم شکر گزار ہیں ایران اور ایرانی قوم کے۔ایرانی پارلیمینٹ نے کشمیری مظلوموں کے حق میں متفقہ قرار داد منظور کی۔وزیر خارجہ جواد ظریف اور ایرانی صدر نے کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائی۔سب سے موثر اور بلند آواز ایرانی رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی تھی جنہوں نے فرمایا: ہم کشمیر کے مسلمانوں کی صورت حال پر تشویش میں مبتلاء ہیں۔لیکن ہمیں توقع ہے کہ بھارتی حکومت کشمیر کے معزز لوگوں کے بارے میں منصفانہ پالیسی اختیار کرے گی اور انہیں دبانے اور خطے میں مسلمانوں کو ستانے سے باز رہے گی۔۔۔ایک ٹویٹ میں انہوں نے فرمایا: کشمیر میں موجودہ صورت حال اور پاک بھارت تنازعات برطانوی حکومت کےبرصغیر چھوڑتے وقت دانستہ شیطانی وسفاکانہ اقدامات کا نتیجہ ہیں۔برطانیہ جان بوجھ کر خطے میں یہ رستا ہوا ناسور چھوڑ گیا تھا تاکہ جنوبی ایشیا میں جھگڑے جاری رہیں۔ایرانی رہبر کا بیان بہت ہی درست اور حقیقت پر مبنی ہے۔آج بھی مغربی قوتیں نہیں چاہتیں کہ مسلمانوں کے علاقہ جات میں امن ہو اور مسلمان سکھ کا سانس لیں۔
پاکستان میں آج کچھ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ عرب دنیا ہمارا اور کشمیریوں کا ساتھ اس لیے نہیں دے رہی کہ ہم ہر موقع پہ نیوٹرل رہے ہیں۔یہ نقطئہ نظر بالکل درست نہیں ہے۔جناب عالی! ہم کہاں نیوٹرل رہے ہیں؟؟؟ ہم نے ہر وقت عربوں کا ساتھ دیا ہے۔عرب اسرائیل جنگ میں ہم نے غریب عربوں کو تین لاکھ سے زائد رائفلز خرید کردیں،لڑاکا جہاز خرید کر دیے اور ہر قسم کی دیگر مدد و حمایت دی۔جب بھی عربوں کو دفاعی اعتبار سے مسئلہ پیش آیا تو پاکستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہوا۔۔عرب اگر یہ چاہیں کہ ہم ایران کے مقابلے میں انکے ساتھ کھڑے ہوں،مظلوم یمنیوں کو بارود سے اڑانے میں عربوں کا ساتھ دیں اور شام کو صفحئہ ہستی سے مٹانے میں اپنے شامی بھائیوں کو گولیوں سے بھون ڈالیں،ہم سے یہ نہیں ہوسکتا۔یہ امریکہ تو کر سکتا ہے مگر پاکستان سوچ بھی نہیں سکتا۔
آخر میں یہ گزارش کرونگا کہ عنقریب اللہ سبحانہ وتعالی مظلوموں کو ظلم سے نجات دے گا۔اسکی یہی سنت ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جو مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہوگا وہ اللہ کی رحمت میں کھڑا ہوگا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں