مدارس کا نصاب 93

مدارس بقاء کی جنگ ہار گئے مفتی گلزار احمد نعیمی

مدارس بقاء کی جنگ ہار گئے
کل بروز بدھ 4 ستمبر 2019 کووفاقی وزیر تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت جناب سینیٹر شفقت محمود نے پریس کانفرنس کے ذریعہ اعلان کیا کہ ملک کے قومی تعلیمی اداروں میں قومی نصاب پڑھایا جائے گا،اخباری خبر کے مطابق قومی نصاب کے مطابق آٹھویں کا امتحان ہوگا۔مدارس کے طلباءآٹھویں اور دسویں کا امتحان عصری تعلیم کے طلباء کے ساتھ دیں گے۔مدارس کی رجسٹریشن کے لیے 12 مراکز قائم ہونگے،مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کابینہ نے دوارب روپے کی منظوری دی ہے۔29 اگست 2019 کو ہونے والے اجلاس میں علمائے کرام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مدارس کے طلباءبھی مڈل ،میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات قومی نصاب کے مطابق دیگر سکولوں میں پڑھنے والے طلباء کے ساتھ دیں گےاور انہیں بھی مڈل میٹرک کی ڈگریاں جاری کی جائیں گی۔وفاقی وزیر نے اسے بہت بڑا بریک تھرو قرار دیا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق اہل مدرسہ نے نئے نظام تعلیم کو رائج کرنے کے لیے4 سے پانچ سال کی مہلت مانگی ہے۔
میں ایک عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ مدارس کو نئے حالات کے مطابق جدید مضامین کو اپنے نصاب میں جگہ دینی چاہیے اور اپنے نظام تعلیم کو جدید بنیادوں پر استوار کرنا چاہیے۔مدرسوں کا موجودہ نصاب تعلیم جدید معروضی حالات کے مطابق نہیں ہے۔اس ضرورت کا احساس مدرسوں کے بورڈز کے ذمہ داروں نے نہیں کیا اور اپنے نصاب میں حالات کے مطابق تبدیلی نہیں کی۔اب حالات نے انہیں اس سطح تک مجبور کردیا ہے کہ انہیں اس چیز پر دستخط کرنا پڑے جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔میرے خیال کے مطابق مدارس اپنی بقاء کی جنگ ہار گئے ہیں۔اگر حقیقت حال پر گفتگو کی جائے تو مدارس اپنی بقاء کی جنگ اسی وقت ہار گئے تھے کہ جب انہوں نے افغان فساد میں بطور مجاہدین شمولیت اختیار کر لی تھی۔گو کہ اہل سنت کے اکابرین علامہ شاہ احمد نورانی،صاحبزادہ فضل کریم اورڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید نےاپنے مکتب کے مدارس کو اس آگ میں جھونکنے سے انکار کر دیا تھا اور اسکا انہیں نقصان بھی اٹھانا پڑا مگر انہوں نے بہت ہی دانشمندانہ فیصلہ کیا تھا۔دیکھیں علماء کا کام اپنی علمی مسندوں کوخیرآباد کہہ کر میدان جنگ میں کود جانا نہیں ہے۔علماء و مشائخ کا فیلڈ علم کی نشرواشاعت اور روحانی روایات کا فروغ ہے۔اگر کسی قوم کی علمی اور روحانی بنیادیں مضبوط ہوں تو وہ قوم پہاڑوں کی چٹانوں سے بھی مضبوط ہوتی ہے اور اگر یہ بنیادیں کمزور ہوں تو وہ ایٹم بم جیسی قوت رکھنے کے باوجود ایک کمزور اور لاچار قوم ہوتی ہے۔علم اور تزکیہء نفس کسی قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔استعماری قوتوں نے بڑی چالاکی سے افغانستان کو مورد فساد بنایا،وہاں جنگ کی آگ سلگھائی اور اہل مدرسہ کو اس آگ کے لیےایندھن کے طور پر استعمال کیا۔ایک طرف اپنے مقاصد حاصل کیے اور دوسری طرف ان مدراس کو بدنام کر کے انکو دہشتگردی اور انتہاء پسندی کے اڈے بنا دیا۔جب مدارس پر دہشت گردی کا الزام لگا تو ہمارے قائدین سر اٹھا کے چلتے تھے اور ببانگ دہل کہتے تھے کہ ہمارا کوئی مدرسہ دہشت گردی میں شامل نہیں ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم علیہ الرحمہ اور راقم اے ٹی وی (Atv)کے ایک پروگرام میں شریک تھے طالبان کاجن بوتل سے نکل کر پاکستان کو شدید متاثر کررہا تھا۔اینکر نے صاحبزادہ صاحب سے سوال کیا کہ آپ کے مدارس دہشت گردی میں ملوث ہوگئے ہیں۔اس فقرے سے آگے انہوں نے اینکر کو نہ بڑھنے دیا اور فرمایا کہ “آپ اہل سنت کے کسی ایک مدرسہ کی نشان دہی کریں یا کوئی بھی کر دے میں صبح آپکو ساتھ لیکر جاؤں گا اگر وہ مدرسہ دہشت گردی میں ملوث پایا گیا تو میں اپنے ہاتھ سے آپ کے کیمروں کی موجودگی میں تالا لگاؤں گا۔الحمد للہ ہمارا کوئی مدرسہ دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے”۔ اسی طرح میرے قائد،میرے محسن ومربی شہید پاکستان ڈاکٹر سرفراز نعیمی علیہ الرحمہ سے جب صحافی یہ سوال کرتے تھے کہ آپ کے مدارس دہشتگردی میں ملوث ہیں تو آپ جوابا سوال کرتے ہمارا کون سا مدرسہ دہشت گردی میں شامل ہے؟ تو وہ کوئی جواب نہ دے پاتے تھے۔مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کے ساتھ بھی جو لمحات گزرے ان سے بھی جب سوال کیا جاتا تو وہ بھی یہی فرماتے کہ ہمارے مدارس دہشت گردی میں شامل نہیں ہیں۔یہ قائدین ہمیشہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے نظر آتے تھے کہ آپ پرامن اور دہشت گردی میں ملوث مدارس کو ایک چھڑی سے مت ہانکیں۔ہمارے مدارس کو ان مدارس سے الگ رکھیں جو دہشت گردی میں ملوث ہیں۔حتیٰ کہ جب تنظیم اتحاد مدارس دینیہ کا قیام عمل میں آیا اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی اس کے سیکرٹری جنرل بنے اس وقت آپ تمام مسالک کے مدارس کی نمائندگی بھی کرتے تھے لیکن اہل سنت کے مدارس کی جداگانہ حیثیت کو برقرار رکھا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے مدارس حکومت وقت اور ریاست کا تحفظ کرنے والے سیکورٹی کے ریاستی اداروں کی گڈ بک میں شامل تھے۔ہم خود دہشت گردی کا نشانہ بنے مگر ہم پر دہشت گردی کا دھبہ نہ لگا۔
کچھ عرصہ قبل جب ہماری تنظیم المدارس کے صدر اتحاد مدارس دینیہ کے سربراہ بنے تو انہیں بہت ہی شاطرانہ طریقے سے ٹریپ کیا گیااور وہ اپنی تنظیم کے کم اور دہشت گردی میں ملوث مدارس کے زیادہ نمائندہ کے طور پر سامنے آئے۔جس سے د ہشت گردی میں ملوث اور دہشت گردی کی مخالفت کرنے والے مدارس کے درمیان امتیاز ختم ہوگیا۔تمام مدارس کو ایک ہی نظر سے دیکھا جانے لگا۔( یہ میرا نقطہء نظر ہے اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے،بلکہ کوئی دشنام طرازی بھی کرنا چاہے تو اسے حق حاصل ہے)
اگر صدر تنظیم المدارس اپنے پلیٹ فارم کے نظام تعلیم کو اعلی بنیادوں پر کھڑا کرنے کی طرف توجہ فرماتے اور نصاب تعلیم کو نئے دور کی ضرورتوں کے مطابق بنا لیتے تویہ صورت حال کم از کم ہمارے مدارس کے لیے جنم نہ لیتی۔پاکستان میں سول بیوروکریسی کبھی بھی نہیں چاہتی کہ مدارس کے طلباء قومی دھارے میں شامل ہوں اور وہ ملک کے انتظامی معاملات میں دخیل ہوکر کوئی بڑا کردار ادا کریں۔اگر وہ اس پر راضی ہوتے تو حکومت کے نظم کے تحت قائم ہونے والے دو مدارس سکھر ماڈل مدرسہ اور حاجی کیمپ اسلام آباد میں قائم ماڈل مدرسہ کو کامیاب بناتے مگر سول بیوروکریسی نے ان دونوں مدرسوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔انہیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر غریبوں کے لائق بچے انتظامی عہدوں پر آگئے تو ہمارے نالائق بچے کہاں جائیں گے۔مجھے خوف اور بلکہ شدید خوف ہے کہ اگر یہ بڑی تبدیلی سول بیوروکریسی نے کامیاب نہ ہونے دی تو مدارس کا مستقبل ختم ہوجائے گا اور ملک سے اسلامی تعلیمات کا جنازہ نکل جائے گا۔پاکستان مشرقی اور مذہبی تعلیمات کا امین ہےلیکن اب لگ رہا ہے کہ ملک میں مغربی کلچرکو فروغ دینے والے عناصر غالب آگئے ہیں اور وہ ہمارے مشرقی کلچر اور مذہبی روایات کو ختم کرنے کے لیےبہت ہی مضبوط پوزیشن حاصل کرچکے ہیں۔اب شاید یہ ہوکہ ہماری بود وباش مکمل طور پر مغربی رنگ میں رنگین ہوجائے،بچی کھچی روایات بھی ختم ہوجائیں اور مذہب کے بجائے سیکولرزم یہاں فروغ پائے۔
بظاہر مذہب اور روایت شکست کھا گئی ہے اور مدارس اپنی بقاء کی جنگ ہار گئے ہیں بندوں کی منصوبہ بندی سے تو ایسا ہی لگ رہا ہے لیکن قادرمطلق کی کیا منصوبہ بندی ہےاسکا مجھے بھی انتظار ہے اور آپ بھی انتظار فرمائیں۔
ہمارے علماء نے اتحاد وحدت کے لیے، مذہبی روایات کے فروغ اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مخلصانہ جدوجہد نہیں کی،ہمارے اکابرین نےہمیں مذہبی طور پر ایک مضبوط اسلامی ملک دیا تھا مگر ہم نے اس ورثے کی ایمانداردی سے حفاظت نہیں کی۔نتیجتا آج ایک مذہبی طور پر مضبوط ریاست بدترین سیکولر روپ دھارنے جارہی ہے۔میں اس تبدیلی کو موجودہ یا کسی سابقہ حکومت سے نہیں جوڑتا، یہ تبدیلی کا عمل ہے جو سالہا سال سے جاری ہے۔ہم نے اس پر توجہ نہیں کی ،آپس میں دست وگریباں رہے۔ہمارےہمسایہ ملک ایران میں علماء نے ایک عظیم جدوجہد کے ذریعہ ایک بدترین سیکولر مغرب زدہ ریاست کو اسلام کا قلعہ بنا دیا۔فرق صرف اخلاص کا ہے،یہاں مذہبی سیاسی جماعتیں سیکولر سیاسی جماعتوں کی بی ٹیم ہیں وہاں مذہب بمقابلہ سیکولرزم تھااور مذہب جیت گیا۔ایران چالیس سال سےامریکی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے مگر وہ ایشیا کی ایک مضبوط معاشی طاقت بن چکا ہے۔پچھلے دنوں اس نے امریکہ کے ایک ڈرون کو گرایا جو امریکی ٹیکنالوجی کا شاہکار تھا اور امریکہ کے عسکری نظام میں بہت ہی قیمتی ڈرون تھا۔انہوں نے اپنی یونیورسٹیز کو سائنس اور ٹیکنالوجی سے بہت مضبوط کردیا ہے۔انکے علمی حوزہ جات میں بھی علم خوب پھل پھول رہا ہے۔ہم نے اس سطح پر کام نہیں کیا اس لیے ہمارا معاشرہ سیکولرزم اور الحاد کی طرف بہت تیزی سے جارہا ہے۔قصور قوم کا نہیں قائدین کا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں