Mufti Gulzar Ahmed Naeemi 78

قرآن کریم اور معاشرتی اصلاح از مفتی گلزار احمد نعیمی

قرآن کریم اور معاشرتی اصلاح
قرآن کریم انسانیت کی اصلاح اور معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کا وہ مائیہ ناز اور تیر بحدف نسخہ ہے کہ جسکا کوئی متبادل ہے نہ بدل ہے۔یہ وہ کتاب ہے جو ہر نقطئہ دشوار کا قابل تحسین حل ہے۔کتب سماویہ ہوں یا غیر سماویہ قرآن کے مقابلہ میں ہمیشہ پست ہی رہی ہیں۔قرآن ہمیشہ ارفع و اعلی رہا ہے۔اس کی تعیلم وتعلم سے وابستہ لوگ زمانے کے اشراف قرار پائے۔کسی اور نے نہیں خود پیغمبر انس وجان نے ان کے بارے میں فرمایا:عن سعد قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیارکم من تعلم القرآن وعلمہ(ابن ماجہ)تم میں سے اعلی شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کوسکھائے۔حضرت عثمان بن عفان روایت کرتے ہیں کہ سرکار نے فرمایا:خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ(بخاری)”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسرں کو سکھائے”۔حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص روایت کرتے ہیں کہ سرکار نے فرمایا:جس نے قرآن پڑھا اس نے اپنے دونوں پہلوؤں کو نبوت پر رکھا(یعنی ظاہر اور باطن کو)فرق صرف یہ ہے کہ اس پر وحی نازل نہیں ہوتی۔صاحب قرآن کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی کے ساتھ جھگڑےاور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ وہ جاہلوں کے ساتھ جاہلوں والی بات کرےحالنکہ اس کے دل میں اللہ کا کلام ہے۔اس حدیث کو امام حاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہےاور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے اس کتاب کو قیامت تک کےلیے ہر قسم کی تحریف اور کمی بیشی سے منزہ اور محفوظ فرما دیا ہے تاکہ یہ قیامت تک کے آنے والے تمام زمانوں اور تمام انسانوں کی فلاح اور اصلاح کے لیے کام آسکے۔یہ وہ کتاب ہے کہ جس کو ایک دو یا دس بیس افراد نے نہیں بلکہ نسلوں نے آنے والی نسلوں کو منتقل کیا ہے۔اس تواتر کی مثال کسی کتاب میں نہیں پائی جاتی۔قوموں کی ترقی وتنزلی کو اللہ سبحانہ وتعالی نے اس کتاب کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔وہ انسانی معاشرے جنہوں نے قرآن سے نظری اور فکری اکتساب فیض کیا وہ دنیاوی ترقی کےبھی منازل رفیعہ پر جا براجمان ہوئےاور جنہوں نے اس کے ابدی فیض سے منہ موڑ لیا تو وہ قعر مذلت میں گر گئے۔کائنات کے عظیم مصلح سید لولاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ان اللہ یرفع بھذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین(مسلم)بے شک اللہ نے اس کتاب کے ذریعے اقوام کو بلند کیا اور اسی کے ذریعہ کچھ کو رسوا کیا۔
اس کا اصلاحی پروگرام کسی ایک زمانہ یا کسی ایک قوم کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ہر زمانہ اور ہر قوم کے لیے مفید رہا ہے۔آسٹریا کے مشہور ومعروف پروفیسر جناب محمد اسد نے لکھا ہے:
“The Quran has fundamentally affected the social, religious and political history of the world (Can’t be Quran be translated by prof.Asad,Astria)”
ترجمہ:قرآن نےدنیا کی سماجی،مذہبی اور سیاسی تاریخ کو بہت متاثر کیا ہے۔
قرآن کا موضوع ہی انسان اور اس کے اندر پائی جانے والی کمزوریوں کی اصلاح ہے۔قرآن نے انسان کی ذہن سازی کے لیے عقیدہ کی اصلاح کو اپنا بنیادی ہدف بنایا ہے۔ قرآن کے نزول سے پہلے انسانی معاشرے بےخدا معاشرے تھے۔بتوں کی پوجا،ہر نفع و نقصان دینے والی چیز کے کے سامنے سجدہ ریز ہونے نے اسے بہت ہی کمزور کردیا تھا۔قرآن مجید کے نازل ہونے سے قبل ایک بہت ہی بڑی غلط فہمی پائی جاتی تھی کہ ہر نفع اور نقصان دینے والی چیز میں مافوق الفطرت اثرات ہوتے ہیں۔اس لیے اسکو قابل احترام سمجھا جائے۔احترام کی یہ سوچ آگے چل کر تقدیس کا روپ دھار لیتی تھی اس چیز کو مقدس ماننے کی سوچ اسے اسکی عبادت کی طرف راغب کر دیتی تھی۔نتیجتا انسان اسکی عبادت کرنا شروع ہوجاتا تھا۔پہاڑوں دریاوں درختوں وغیرہ کی عبادت اسی سوچ کا شاخسانہ تھی۔قرآن مجید واحد کتاب ہے کہ جس نے انسان کی رہنمائی فرمائی کہ یہ سب چیزیں انسان کے فائدہ کے لیے تخلیق کی گئی ہیں۔قرآن نے انسانوں کو فرمایا:
“وسخر لکم ما فی الارض جمیعا(القرآن)”
ترجمہ: اور اس نے تمہارے لیے ہر چیز کو مسخر کر دیا ہے۔
تسخیر کائنات کے اس قرآنی اعلان نے انسانوں پر تحقیق و جستجو کے بے شمار ابواب کھول دیے۔اگر انسان تقدیس کے نقطئہ نظر پر قائم رہتا تو وہ کبھی بھی ترقی کی نئی منزلیں ایجاد نہ کرسکتا تھا۔قرآن کریم نے اس اعتقادی اصلاح کے ذریعے سے انسان کے عقیدہ کی اصلاح کا بنیادی کام کیاجس کی وجہ سے انسان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوا۔
جب قرآنی تعلیمات کے ذریعہ سے انسان بے شمار خداؤں کے چنگل سے آزاد ہوا تو پھر وہ ایک خدا کے سامنے سجدہ ریز ہوا۔وہ موحد ہوگیا۔وحدت الہ کے اس تصور نے وحدث انسانیت کے تصور کو اجاگر کیا۔قرآن نے انسان کو مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا: ان کل من فی السموات والارض الا آتی الرحمن عبدا.ترجمہ:جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کا عبادت گزار ہے۔ایک خدا کے ماننے والوں کے درمیان انسانی وحدت کا تصور قائم ہوا۔وحدت انسانی کے اس تصور نے انسانیت کے درمیان محبت اور بھائی چارے کی فضا کو پیدا کیا۔غلام اور آقاء،امیر اور غریب ،چھوٹے اور بڑے کی تمیز کو بہت حد تک کم سے کم کیا۔
قرآن کی انسانوں کے لیےسب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس نے انسانی معاشروں سے جمود کو ختم کر کے انہیں تخلیقی منہج عطا کیا۔آج دنیا میں ہمیں جو بھی ترقی نظر آتی ہے وہ سب کی سب اللہ تعالی کے نازل کردہ اس شاہکار قرآن کریم کی مرہون منت ہے۔اگر قرآن انسان کے جمود کو نہ توڑتا تو انسان ستاروں پہ کمند ڈالنے کے قابل کبھی نہ ہوتا۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مسلم معاشروں کے دوبارہ جمود کی طرف آنے کی بنیادی وجہ قرآن سے غفلت ہے۔اگر مسلمان دوبارہ اس سے مضبوط تعلق قائم کر لیں تو وہ دنیا کی قوموں میں عروج حاصل کر سکتے ہیں۔انسانوں کو پہلے بھی قرآن نے متمدن بنایا تھا اور آج بھی یہی نسخئہ کیمیاء ہی قابل عمل ہے۔قرآن مجید میں تدبر کیا جائے اس کے حلال وحرام کی معرفت حاصل کی جائے۔اس کے بیان کردہ قصص سے عبرت پکڑ کر اپنے احوال کو درست کیا جائے۔یہی حکمت اور دانائی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں