فلسفہ قربانی اور مذہب بیزار لوگ ۔ تحریر : مفتی گلزار احمد نعیمی 7 95

فلسفہ قربانی اور مذہب بیزار لوگ ۔ تحریر : مفتی گلزار احمد نعیمی

فلسفئہ قربانی۔
اور
مذہب بیزار لوگ
امت مسلمہ چودہ سوسال سے عید الاضحیٰ کے موقع سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والتسلیم کی سنت ادا کرتی چلی آرہی۔قربانی ہر اس شخص پر واجب ہے جو اسے ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو۔اسکا وجوب سورۃ الکوثر کی آیت ۔2 سے ثابت یے جہاں اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے حبیب جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرمایا: فصل لربک وانحر۔۔۔۔یعنی نماز ادا کیجیے اور قربانی کیجیے۔اسی طرح متعدد احادیث سے قربانی کرنے کی تاکید ملتی ہے۔
آج کے جدید دور میں مذہب سے دوری اور ملحدانہ سوچ نے جہاں دیگر مذہبی عقائد کو متاثر کیا ہے وہاں قربانی جیسے عظیم عمل کی اہمیت کو بھی ختم کرنے پرمسلسل کام ہورہا ہے۔سوشل میڈیا پر بہت سے مفکرین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اس خون خرابے کا کوئی جواز نہیں ہے،جانور ذبح کر کے گوشت غرباء ومساکین میں تقسیم کرنے کے بجائے اگر جانور کی قیمت ان میں تقسیم کر دی جائے توزیادہ بہتر ہے اس سے جانوروں کی جان بچ سکتی ہے۔
ایک گروہ یہ کہہ رہا ہے کہ قربانی کے جانور صرف حج کے موقع پر ذبح ہوں تاکہ حاجیوں کے کھانے ہینے کا انتظام ہوسکے،اس قربانی کا مقصد وحید حاجیوں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنا تھا،اسکو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاریخی قربانی کے ساتھ جوڑ کر صاحب استطاعت افراد کو اس بات پر تشویق دلانا مقصود تھا کہ وہ حج ادا کرنے کے لیے آنے والے مہمانوں کے خوردونوش کا انتظام کریں۔ایک سیدھی سادھی سمجھ آنے والی بات کو قربانی فریضہ بنا کر کیا سے کیا بنا دیا۔(معاذاللہ) ان مسلمانوں کی اور ان کے علماء کی عقل کا اندازہ کیا کیا جاسکتا ہے۔اللہ کو جانوروں کے خون خرابے سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔(العیاذ باللہ)
اس انسانی فلاح وبہبود پر مبنی نام نہادنظریہ پر گفتگو کرنے سے پہلے میں بہت ہی مختصر طور پر قرآن وسنت سے استشھاد پیش کرتا ہوں پھر ہم اس نظریہ کو دیکھتے ہیں جو آجکل انسانی فلاح وبہبود کا چورن ہیچنے والے مفکرین پیش کر رہے ہیں۔
قرآن مجید کی سورۃ الحج میں اللہ سبحانہ وتعالی نے ارشاد فرمایا: اور ہر امت کے لیےہم نے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہےتاکہ وہ اللہ کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر( ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں پس تمہارا خدا خدائے واحد ہے اسی کی اطاعت کرو اور عاجزی کرنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔( الحج،آیۃ،34)
آیہ مبارکہ سے پتہ چل رہا ہے کہ یہ قربانی کا عمل ہر امت کے لیے مشروع تھااور تمام ادیان سماویہ میں رائج تھا۔۔۔۔قربانی کو اللہ تعالی نے دسویں ذوالحجہ کے دن ابن آدم کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔ام المؤمنین سیدہ عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا روایت فرماتی ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک قربانی کے دن بندوں کا سب سے پسندیدہ عمل جانوروں کا خون بہانا ہے۔بندہ اللہ کے سامنے قیامت کے دن اپنی قربانیوں کے سینگوں،کھروں اور بالوں کو لیکر حاضر ہوگا۔قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے بارگاہ خداوندی میں قبولیت پا لیتا ہے۔اس لیے تمہیں خوشی سے قربانی کرنی چاہیے۔( ترمذی،1/180)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس سال تک مدینہ طیبہ میں تشریف فرمارہےاور اس عرصہ میں آپ نے مسلسل ہر سال قربانی فرمائی۔( ترمذی،1/182)
درج بالا آیہ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ہر امت پر قربانی کا فریضہ عائد تھا۔بلکہ امم سابقہ میں قدرے سخت تھا۔اس میں بڑی تفصیل ہے پھر کسی موقع پر اسے بیان کریں گے۔حدیث ام المؤمنین میں جس انداز سے قربانی کی فضیلت کو رسول اللہ نے بیان فرمایا ہے کہ قربانی کے جسم کا ہر ہر عضو ابن آدم کی بخشش کا سبب بنے گااگر ہم قربانی کے متبادل کے طور پر کوئی بھی کتنا بڑا عمل کر ڈالیں اس فضیلت کو نہیں پہنچ سکتا۔سرکار کا یہ فرمانا کہ” قربانی کے دن اللہ کی بارگاہ میں خون بہانے سےزیادہ کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہوسکتا، تمہیں خوشی سے قربانی کرنی چاہیے”۔اس سے میں تو بالکل واضح طور پر سمجھ سکتا ہوں کہ قربانی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔اس کو خون خرابہ کہنا اوریہ کہنا کہ اللہ کو اس خون خرابے سے کیا دلچسپی ہوسکتی یے۔یہ بات کوئی مادر پدر آزاد مذہب بیزار ہی کرسکتا ہے کسی موًمن کو جرآت نہیں ہوسکتی۔ایک طرف اللہ کے رسول کا قول مبارک ہے کہ عیدقربان کے دن اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل جانوروں کی قربانی کرنا ہے اور دوسری طرف ان مغرب زدہ افلاطونوں کے فلسفے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کی باتوں کو تو جوتے کی نوک پر رکھنا بھی ایک مسلمان کے جوتے کی توہین ہے۔ہم تو وہ کریں گے جورسول اللہ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے۔اگر آپ کی بات مان لیں کہ یہ قربانی حاجیوں کے کھانے پینے کے لیے تھی تو پھراب تو تمام حاجی اپنی اپنی ہوٹلز میں کھانا کھاتے ہیں اب قربانی کی کیا ضرورت ہے؟؟؟ آپ تحریک چلائیں کہ اب قربانی کی ضرورت ختم ہو گئی ہے اس لیےحج کے موقع پر جانوروں کا “خون خرابا”نہ کیا جائے. قربانی بند کردی جائے۔آپ کہتے ہیں کہ اسکی مشروعیت صرف مکہ میں حج کے موقع کے لیے تھی تو مجھے بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر مدینہ میں متواتر دس سال تک کیوں قربانی کرتے رہے۔؟؟مسلمانوں اور علماء کی عقل بالکل درست ہے تمہاری عقلوں پر اللہ نے نفاق کے پردے ڈال دیے ہیں۔تم ادھورے علم کے ساتھ اسلام کے خلاف برسرپیکار ہو۔آپ حقیقت سے بالکل ناآشنااور اسلام کے اصولوں سے نابلد ہیں۔یہ خون خرابہ نہیں ہے یہ ایک مقدس فریضہ کی ادآئیگی ہے۔یہ ایک عظیم عبادت ہے اور عبادت میں صرف اخلاص ہی چلتا ہے۔عبادات میں معاشی فوائد نہیں دیکھے جاتے، اسکا تعلق صرف اللہ سبحانہ وتعالی کی ذات سے ہوتا ہے۔عبادت میں ہم اپنی مرضی سے ردوبدل نہیں کرسکتے جیسا معبود کا حکم ہوویسے عبادت کی جاتی ہے۔آپ غریبوں کے زیادہ خیر خواہ ہیں کہ مدینہ کا تاجدار؟؟؟ جو غرباء میں اپنا سب کچھ قربان کر دیتے تھے انہوں نے مسلسل دس سال تک مدینہ میں قربانی کی آپ اسے محض خون خرابا کہتے ہیں۔!!۔عید قربان کے علاوہ وطن عزیز میں لاکھوں جانور روزانہ کی بنیاد پر ذبح ہوتے ہیں وہ خون خرابا نہیں ہے؟؟؟؟؟۔سال کے 364 دن تمہیں کوئی خون خرابا نظر نہین آتا صرف عید قربان پرہی آپ تنقید کرتے ہیں۔کل کلاں تو آپ یہ بھی ارشاد فرمادیں گے کہ حج بھی ایک رسم ہے سعودیہ جانے سے بہتر ہے کہ یہاں غرباء کی مدد کردی جائے۔
میں معاشیات کا طالب علم رہا ہوں میں جانتا ہوں کیٹل فارمننگ اور کیٹل انڈسٹری سے ہزاروں نہیں لاکھوں افراد وابستہ ہیں اور انکا رزق مویشی پال انڈسٹری کے ساتھ جڑا ہواہے،عید قربان کے موقع پر گردش زر(circulation of wealth) کا بھی اندازہ لگا لیں۔ایک مویشی فارمر سے لیکر ذبح کرنے والے قصاب تک دولت کتنے ہاتھ بدلتی ہے۔ایک قربانی ایک جاندار معاشی سرگرمی کو جنم دیتی ہے۔آپ کی تھیوری کے مطابق اگر ہم یہ رقم ویسے غرباء ومساکین میں تقسیم کردیں تو اسکا مطلب ہوگا ہم انہیں بے عملی اور بھیک مانگنے کا خوگر بنا رہے ہیں۔میرے محترم جدت پسند اور غریبوں کے خیر خواہ صاحب۔۔! آپ کو جاننا چاہیے کہ جب کوئی معاشی سرگرمی (Economic activity)
ہوتی ہے تو اس سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔بے روزگاری میں کمی ہوتی ہے۔ان جانوروں کا گوشت لاکھوں افراد کے کام آتا ہے۔انہی جانوروں کی کھالوں سے خیراتی اداروں کی مدد ہوتی ہے اگرچہ اب صنعت کاروں اور حکومتوں نے مل کر خیراتی اداروں کے لیے اس دروازے کو بند کردیا ہے۔کھالیں اب صنعت کار اداروں سے مفت بھی نہیں لیتے۔لیکن یہ استحصال عنقریب ختم ہوجائے گا۔۔ان شاء اللہ۔
انہی جانوروں کی کھالوں سے لیدر انڈسٹری چل رہی ہے جہاں دس لاکھ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔جو لوگ اکنامکس کا علم پڑھے ہیں اور لارڈ کینز کی ملٹی پلائر(multiplier theory)
کو جانتے ہیں وہ تو قربانی پر اعتراض نہیں کرسکتے۔اگر آپ غریبوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو آپ عورتوں کو میک اپ چھڑانے پر کام کریں، انہیں بتائیں کہ آپکی لاکھوں بہنیں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے والدین کے گھر ہی اپنے بال سفید کردیتی ہیں۔اگرعورتیں کاسمیٹک کو چھوڑ دیں تو کیا اس رقم سے غریبوں کی مدد نہیں ہوسکتی؟؟لوگ کروڑوں روپئے سگریٹ کے دھوؤں میں اڑا رہے،سگریٹ نوشی کینسر کا موجب ہے آپ انکو ترغیب کیوں نہیں دیتے کہ جو پیسہ وہ سگریٹ نوشی پہ لگاتے ہیں وہ غرباء ومساکین کی اعانت پر خرچ کریں۔
خدارا۔۔! مذہب سے دشمنی نہ کریں،مذہبی روایات کو ختم کرنے سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔جس طرح تم مذہب کے پیچھے پڑے ہوئے ہو مجھے یقین ہے تم ایک دن دھاڑیں مارمار کر رو گے مگر وقت گزر چکا ہوگا۔آج مغربی عوام مذہب کو چھوڑ کر ہچتا رہےہیں۔آخر میں بل گیٹس(Bill gates)
کا ایک ٹویٹ آپکی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔وہ کہتا ہے۔”I don’t want to see any tweet hating on Muslims for salaghtering animals,about 1 million animals killed each day by KFC,Mc Donalds,Burger King etc.to feed the rich and making hella money out of it.During Eid Muslims sacrifice them to feed the poor for free and y’ all lose your mind
مفہوم۔۔میں مسلمانوں پر کوئی نفرت انگیز ٹویٹ نہیں دیکھنا چاہتا کہ وہ جانور ذبح کرتے ہیں۔کے ایف سی،مکڈونلڈ اور برگرکنگ پر روزانہ دس لاکھ جانور ذبح ہوتے ہیں امراء کے لیے اور اس کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی جاتی ہے۔عید کے موقع پر تو مسلمان غرباء کےلیے قربانی کرتے ہیں اور مفت گوشت تقسیم کرتے ہیں۔
اب آپ خود انصاف کریں۔
وماعلی الا البلاغ
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں