imran vs modi 161

عمران بنام مودی از : سجاد اظہر

عمران بنام مودی
سجاد اظہر

Sajjad Azhar Ahle haram

آپ کو ہندوستان کا 15ویں بار وزیراعظم بننے کی مبارکباد ہندوستان کے عظیم فلسفی مہاویر کے اس قول کے ساتھ پیش کرتا ہوں ۔”عدم تشدد اعلیٰ ترین دھرم ہے “۔آپ زندگی کی 69 بہاریں دیکھ چکے ہیں میں دوسال آپ سے چھوٹا ہوں ۔آپ کی زندگی بھی انہونیوں سے عبارت ہے اور بہت سی ناممکنات مجھ سے بھی منسوب ہیں ۔ہم اپنی اپنی زندگیوں کی آخری اننگ کھیل رہے ہیں ۔ہمارے سامنے دنیا کی ڈیڑھ ارب آبادی کا آنے والا کل ہے اور پیچھے بد گمانیوں کی ایک پوری تاریخ ہے ۔ہمیں گزشتہ ستر سال سے بھی بہت پیچھے دیکھنا ہے جب شہنشاہ اکبر کے دور میں ہندوستان نہ صرف دنیا کی معیشت کا ایک چوتھائی تھا بلکہ ہندوستان میں ہندو مسلم بھائی چارے کی مثالی فضا بھی قائم تھی ۔ہمارا خطہ وسائل سے مالا مال ہے آج بھی دنیا کے لئے ہم سونے کی چڑیا ہو سکتے ہیں مگر اس کا راستہ اسی مثالی بھائی چارے سے ہو کر گزرتا ہے ۔
جناب نریندر مودی !
ہم نے تین جنگیں لڑیں اور کئی مرتبہ جنگ کے دہانے سے واپس آئے ۔فتح جس کی بھی ہوئی لیکن شکست ہمارے ملکوں کے غریب عوام کی ہوئی ۔دنیا میں خط غربت سے نیچے بسنے والوں کی تعداد 85 کروڑ ہے جن میں سے 42کروڑ انڈیا اور پاکستان میں بستے ہیں ۔ دونوں ممالک میں قریباً تیس فیصد لوگوں ایسے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ یہ اس خطے میں رہتے ہیں جہاں کی زمینیں سونا اگلتی ہیں مگر یہ سونا ہم مغرب کی بارود اگلتی بھٹیوں کی نظر کر دیتے ہیں ۔جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے ہم دونوں ملکوں میں بیروزگاری کا تناسب چھ فیصد پر پہنچ چکا ہے ۔غربت ، بیروزگاری اور جہالت ہم دونوں کے وہ مشترکہ مسائل ہیں جو ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتے دونوں ممالک پچھلے ستر سال سے اس گرداب سے نکلنے کی سر توڑ کوشش کر چکے ہیں مگر یہ مسائل ہماری جان نہیں چھوڑ رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مسائل کو تنوں سے پکڑ رہے ان کی جڑ تک نہیں پہنچے ۔
جناب وزیر اعظم !
ان مسائل کی جڑ ہمارے آپس کے تنازعات ہیں ۔جن میں کشمیر ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ماضی میں اس مسئلے کے حل کے لئے کچھ سنجیدہ کوششیں بھی ہوئیں مگر ہر بار معاملہ کہیں نہ کہیں آ کر رک جاتا ہے ۔کبھی سوچا ہے آپ نے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس کی وجہ ہماری آپس کی عدم اعتمادی اور کچھ بیرونی ریشہ دوانیاں بھی ہیں ۔جو ہم دونوں کو اپنی اپنی بھٹیاں گرم رکھنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔میں آپ کودعوت دیتا ہوں کہ آئیے ماضی کو ایک طرف رکھیں اور پورے اعتماد کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر مزاکرات کو وہیں سے جوڑیں جہاں سے ناطہ 2007ء میں ٹوٹ گیا تھا ۔
جناب نریندر مودی !
سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کہا کرتے تھے ناشتہ دہلی ، لنچ لاہور اور ڈنر کابل ، ہم آج بھی آپ کے لئے اپنے دروازے کھولنے کو تیار ہیں ۔ہم آپ کو سی پیک میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس سے آپ کے لئے افغانستان ہی نہیں پورے وسطی ایشیاء کا راستہ کھل جائے گا ۔ترقی کا وہ سفر جو ہمارے لئے مسلسل ناہموار ہے وہ تیز ترین ہو جائے گا ۔ہم آپ کے لئے انرجی کوریڈور بن جائیں گے جس سے آپ کے کارخانوں کی چمنیاں جلیں گی تو غربت چند سالوں میں ختم ہو جائے گی ۔ہم دونوں کی خوشحالی ایک دوسرے سے مشروط ہے ۔ایک دوسرے کو نظر انداز کر کے اگر ہم نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ایک بحران ٹلے گا تو دوسرا ہمیں اپنی لپیٹ لے لے گا ۔اس لئے جناب وزیراعظم ! میں بھارت کے 15 ویں وزیراعظم سے نہیں بلکہ دنیا کی چار ہزار سالہ پرانی تہذیب سے مخاطب ہوں مجھے یقین ہے کہ اس تہذیب میں اتنی وسعت ضرور ہے کہ یہ نہ صرف اپنے مسائل پر قابو پانے کی سکت رکھتی ہے بلکہ دنیا کو رہنمائی بھی فراہم کر سکتی ہے ۔دنیا علاقائی اتحادوں پر استوار ہو رہی ہے ۔کیونکہ معیشت کی کنجی آپس کے اتفاق میں ہی ہے ۔ہند چین بھائی بھائی کا نعرہ بھی پرانا نہیں ہوااور ہم دونوں تو ایک زبان اور ایک ثقافت جیسے مظبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ۔آیئے ان طاقتوں کو ایک طرف رکھئے جو ہمیں جوڑنا نہیں چاہتیں بلکہ اپنی اس تاریخ سے رہنمائی لیں جہاں ہم جڑے ہوئے تھے ہمارے دکھ سکھ سانجھے تھے ۔ہمارے آنگنوں میں روز کھانوں کا تبادلہ ہوتا تھا ۔اُدھر سے پالک پنیر آتی تھی تو اِدھر سے تڑکے والی دال جاتی تھی ۔
جناب نریندر مودی !
آج کی آزاد دنیا کو سب سے بڑا خطرہ انتہا پسندانہ سوچ اور رویوں سے ہے ۔ہماری آپس کی چپقلش جس انتہا پسندی کو رواج دے رہی ہے وہ ہم دونوں کے مستقبل کو راکھ بنا دے گی ۔ہمیں انتہا پسندی کی بجائے روشن خیالی کورواج دینا ہے ۔بارود کی فیکڑیوں کو تالے لگا کر یونیورسٹیوں کے اندر تخلیق و اختراع کو پھیلانا ہے ۔کیونکہ آگےکا رستہ علم کا راستہ ہے ۔جنگ پیچھے کی طرف لے جاتی ہے مجھے یقین ہے کہ آپ آگے کے راستے کا انتخاب کریں گے ۔سردیوں میں مغربی ہوائیں جب اسلام آباد میں برس رہی ہوتیں ہیں تو دہلی تک خنکی بڑھ جاتی ہے اور گرمیو ں میں جب مون سون کی بارشیں دہلی کو لپیٹ میں لیتی ہیں تو اس حبس سے اسلام آباد والے بھی بھیگ جاتے ہیں ۔اس لئے یاد رکھیں شعلے ادھر جلیں یا ادھر جلیں اس کی آگ دونوں کو راکھ بنائے گی ۔
خدا حافظ
عمران خان
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان

نوٹ :سجاد اظہر صحافی ہیں اور اسلام آباد میں مقیم ہیں ، پاکستان سے باہر لندن اور نیویارک میں بھی صحافت سے منسلک رہے ہیں ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں