علامہ غلام رسول سعیدی اور تفسیر تبیان القرآن

علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ اور تفسیر تبیان القرآن

علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ اور تفسیر تبیان القرآن – اہل حرم پاکستان

علامہ غلام رسول سعیدیؒ کا تعارف
لکھاری : ارم شفیق
پیدائش:
علامہ غلام رسول سعیدی ۱۰ رمضان المبارک ۱۳۵۶ھ بمطابق ۱۴ نومبر۱۹۳۷ء ہندوستان کے مشہور شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔(۱)آپ کا اصل نام شمس الدین نجمی ہے۔جب بھی آپ کی والدہ کا خط آتا اس پر نجمی بیٹا لکھا ہوتا تھا۔جب آپ کی رغبت دین کی طرف ہوئی تو اس وقت آپ نے حضور ﷺ کی نسبت سے اپنا نام غلام رسول رکھا۔(۲)اور احمد سعید کاظمی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے تو انہی کی نسبت سے خود کو سعیدی لکھاکرتے تھے۔
خاندانی پسِ منظر:
آپ کے والد محمد منیر صاحب نے پانچ شادیاں کی تھیں اور علامہ سعیدی صاحب آپ کی پانچویں اہلیہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔آپ کی والدہ کا نام شفیق فاطمہ تھا۔سعیدی صاحب کے والد کی وفات کے بعد آپ کی والدہ نے دوسری شادی کر لی۔ان کے بطن سے آپ کے ایک بھائی محمد خلیل اور ایک بہن پیدا ہوئیں۔آپ کے والد حقیقی کی اولاد میں چار بھائی اور ایک بہن پیدا ہوئے۔بھائیوں کے نام محمد وزیر مرحوم،محمد قدیر،محمد امیر اور محمد نذیر ہیں جبکہ بہن کا نام شمیم اختر ہے۔(۳)
ابتدائی حالات زندگی:
۶ سال کی عمر میں آپ نے اپنی والدہ ماجدہ سے قرآن مجید ناظرہ مکمل کیا۔دس سال کی عمر میں آپ نے پنجابی اسلامیہ ہائی سکول دہلی سے پرائمری پا س کی۔اسی دوران برصغیر کی تقسیم ہوئی تو آپ انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں قیام پذیر ہوئے۔نویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد پریس میں ملازمت شروع کر دی۔(۴)
دہلی شہر میں آپ کے والد صاحب کاا پنا پریس تھا جہاں آپ نے بڑی عیش وعشرت کی زندگی بسر کی۔والد صاحب کی وفات اور پاکستان ہجرت کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔معاشی مسائل اور غربت کی وجہ سے آپ نے کچھ عرصہ پرنس روڈ پرموجود ایک پریس میں بطور ملازم کام کیا۔پریس کو حکومت کے خلاف کچھ لکھنے کی وجہ سے سیل کردیا گیا تو یہ ملازمت بھی گئی۔اس کے بعد آپ نے ایک ہوٹل میں کام کیااور اجرت پرقلفیاں بھی بیچتے رہے۔(۵)
حصول علم کی ابتداء:
پریس میں ملازمت کے دوران اگرچہ عام لوگوں کی طرح مذہب اور دینی مسائل سے چنداں واقفیت نہ تھی،تاہم باہمی صلوٰۃ وصوم کی محبت و چاشنی ان کے نہاں خانہ دل میں جاگزیں تھی۔حتیٰ کہ اگر رات کے وقت بھی کہیں سے صلوۃ وسلام کی آواز سنائی دیتی تو مؤدب ہو کر کھڑے ہو جاتے۔قدرت کو آپ کے ذریعے دین اسلام کی خدمت اور مسلک اہلِ سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت مقصود تھی اس لیے ایک مرتبہ پھر آپ کا رجحان حصول علم کی طرف ہو گیا۔(۶)
ذَلِکَ فَضْلُ اللَّہِ یُؤْتیِہِ مَنْ یشَاءُ(۷)
ترجمہ:یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرتاہے۔
۱۹۵۸ ء میں علامہ محمد اچھروی (۸) کی تقریر کے نتیجے میں علم دین کی طرف متوجہ ہوئے۔علمائے دین کی متضاد تقریروں اور قرآن مجید کے مختلف تراجم سے آپ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ کونسا نظریہ صحیح ہے؟اس الجھن کے خاتمے کے لیے آپ نے دین کا علم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔اتفاق سے انہی دنوں جامعہ محمدیہ رضویہ میں طالبان علم کے لیے داخلے کا اشتہار چھپا تو آپ ملازمت ترک کر کے جامعہ محمدیہ رحیم یار خاں جا پہنچے اور وہاں درس نظامی کے تمام مروجہ علوم پڑھے۔احادیث وتفاسیر اور اجلہ علماء کی تصنیفات کا مطالعہ کیا۔نیزاس دوران امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات کے مطالعے کا بھی موقع ملا۔(۹)
حصول علم کی لگن:
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کی علم کی لگن اور تشنگی کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جس کو علامہ عبد الحکیم شرف قادری صاحب نقل کرتے ہیں کہ ”مجھے وہ منظر کبھی نہیں بھولتا جب علامہ غلام رسول سعیدی صاحب (شارح صحیح مسلم)صبح کے سات آٹھ بجے کتابوں کا انبار اٹھائے مسجد سے باہر آئے،تو ایک طالب علم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ استاد صاحب(علامہ بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ )(۱۰)توڈھوک دھمن (اپنے)گھر چلے گئے۔یہ بات سن کر علامہ صاحب اس قدر افسردہ ہوئے کہ آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔کہنے لگے،ہم لوگ رات بھر مطالعہ کرتے رہے اور نماز فجر کے بعد بھی تیاری کرتے رہے لیکن استاذ صاحب چپ چاپ گھر چلے گئے۔آج طلباء میں اشتیاق علم کی یہ فروانی کہاں؟یہی وجہ ہے کہ انہیں علمی کمال بھی تو حاصل نہیں ہوتا۔”(۱۱)
Allama Ghulam Rasool Saeedi
آپ کے اساتذہ کرام:
آپ نے ا پنے وقت کے مشہور اور مستند اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا۔مولانا محمد نواز اویسی مدظلہ العالی سے فارسی اور قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا۔مولانا عبد المجید اویسی سے فارسی کی بقیہ کتابیں اور صرف و نحو پڑھی۔اویسی صاحب کے پاس آپ ڈیڑھ سال رہے اور ان کے ہمراہ سکندرآباداور سراج العلوم خانپور گئے۔مفتی محمد حسین نعیمی ؒ (۱۲) سے جامعہ نعیمیہ میں شرح جامی،سلم العلوم،ہدایۃ الحکمت اور تفسیر جلالین پڑھیں۔مولانا عبد الغفور صاحب سے کافیہ،شرح تہذیب،اصول الشاشی اور نور الانوار پڑھیں۔مفتی عزیز احمد سے جامعہ نعیمیہ میں تلخیص کے چند ابواب پڑھے۔(۱۳)
مولاناعطاء محمد بندیالوی:علم کی مزید طلب آپ کو جامعہ امدادیہ مظہریہ بندیال(ضلع خوشاب)لے گئی جہاں مولانا عطاء محمد بندیالوی سے شمس بازغہ،مختصرالمعانی،مطول،ملاحسن،زواہد ثلثٰہ،قاضی مبارک،حمد اللہ،ہدایہ آخرین،شرح نخبۃ الفکر اور جامع ترمذی پڑھی۔
مولانا ولی الدین رحمۃ اللہ علیہ:اخیر میں جامعہ قادریہ فیصل آباد میں آگئے وہاں مولانا ولی الدین سے اقلیدس اور تصریح پڑھی۔حضرت مولانا مختار حق صاحب سے فیصل آباد میں ہی سراجی پڑھی۔
یہ وہ گرامی قدر اساتذہ ہیں جن کی تعلیم و تربیت اور محبت و شفقت نے علامہ سعیدی صاحب کو ایسا ہیرا بنا دیا جس کی چمک دمک نے چہاردانگِ عالم میں لاتعداد طالبانِ علم اور طالبانِ حق کو فیض یاب کیا۔(۱۴)
تدریس:
۱۹۶۶ء میں علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد اسی سال جامعہ نعیمیہ لاہور میں پڑھانا شروع کیا۔چار سال تک آپ مختلف علوم و فنون پڑھاتے رہیاور پھر ۱۹۷۰ء سے دورہ حدیث شریف کے اسباق بھی پڑھانا شروع کر دیئے۔(۱۵)
۱۹۶۶ء سے ۱۹۷۵ء تک جامعہ نعیمیہ لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔اسی دوران ۱۹۷۹ء میں کراچی بھی تشریف لائے لیکن دل نہ لگنے کی وجہ سے ۱۹۸۰ء کے وسط میں دوبارہ لاہور آگئے۔اس طرح تقریباً ۱۹ برس جامعہ نعیمیہ لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے ہزاروں طالبانِ علم کو علمی و روحانی فیض سے سیراب کیا۔(۱۶)
علمی مذاکرے:
علامہ سعیدی صاحب نے بہت سے مسائل پر انتہائی گہرے مطالعے کے باوجود حتمی رائے قائم کرنے اور اس کے لکھنے سے پہلے اپنے معاصر اہلِ علم سے علمی تبادلہ خیال کا طریقہ اختیار کیا۔چنانچہ مسجد کی تعمیر کے غیر مسلموں سے مالی معاونت قبول کرنے،مسافرکی نماز قصراورپراویڈنٹ پر سود،ایسے چند مسائل پر سعیدی صاحب نے مفتی محمد رفیع عثمانی شیخ سبحان محمود،مفتی عبد الرؤف سکھروی اور شیعہ افتاء کے دیگر مفتیان سے علمی مذاکرہ کیا۔اس مذاکرے میں مفتی منیب الرحمان اور مولانا شاہ حسین گردیزی نے بھی شرکت کی۔مذاکرے کا ماحول انتہائی خوشگوار اور خالص علمی و فقہی تھا۔(۱۷)
مناظرے:
۱۹۶۶ء میں علامہ غلام رسول سعیدی صاحب بہت بڑے عالم عبد القادر روپڑی سے” محفل میلاد” کے جواز پر مناظرہ کیا۔اسی طرح دوسری مرتبہ علم غیب کے مسئلے پر انہی سے دوبارہ مناظرہ ہوا۔یہ دونوں مناظرے لاہور میں منعقد ہوئے۔ان دونوں مناظروں کی مفصل روداد”ماہنامہ الاشرف”بابت مئی ۱۹۹۲ء کر اچی میں شائع ہوئی ہے۔(۱۸)
تبلیغی دورے:
آپ سے محبت و عقیدت رکھنے والوں کا حلقہ اندرون وبیرون ملک ہرسو پھیلا ہوا ہے۔چنانچہ دین کی ترویج و اشاعت کی فرض سے دو مرتبہ برطانیہ تشریف لے گئے۔۱۹۹۰ء میں تلامذہ کی دعوت پر انگلینڈ تشریف لے گئے۔وہاں کے علمی ودینی حلقوں میں آپ کی بڑی پذیرائی ہوئی۔آپ نے انگلستان کے مختلف شہروں لندن،مانچسٹر،بریْ فورڈ،برمنگھم، لیڈز،ڈیوزیری،لنکاشائر،لیسٹر اور برسٹل وغیرہ میں دینی،تربیتی اور تبلیغی اجتماعات میں لیکچرز دیئے۔(۱۹)
حج اکبر کی سعادت:
شرح صحیح مسلم جلد سوم میں علامہ صاحب نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ جس سال یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو اس سال کا حج،حج اکبر ہوتا ہے۔اور حج اکبر کا ثواب ستر حج سے بڑھ کر ہوتا ہے۔نیز رسول اللہ ﷺ نے جس سال حج اداکیاتھا اس سال بھی یوم عرفہ جمعہ کے دن ہی تھا۔اللہ تعالیٰ نے سعیدی صاحب کو بھی ۱۹۹۴ء میں حج اکبر کی سعادت عظمیٰ سے نوازا۔(۲۰)
تلامذہ:
علامہ صاحب کی مایہ ناز تفسیر تبیان الفرقان میں جن تلامذہ کا ذکر ہے ان میں سے چند کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
علامہ سید محمد اشرف(ناروے) ڈاکٹر صاحبزادہ سید جمیل الرحمان شاہ
صاحبزادہ محمد حبیب الرحمان مجبوبی(برطانیہ) علامہ غلام نصیر الدین چشتی گولڑوی
مولانا حافظ محمد واحد بخش غوتوی مولانا عارف حسین اشرفی سعیدی(لندن)
مولانا حکیم عبد المجید مولانا عبد اللہ سلطانی(برمنگھم،برطانیہ)
مولانا حافظ اشرف چوہدری(جرمنی) مولانا منور احمد نعیمی
مولانا حافظ محمد ناصر خان چشتی(تونسہ شریف) مولانا حافظ عنایت اللہ نعیمی(۲۱)
تصنیفات و تالیفات:
علامہ سعیدی صاحب نے بے شمار موضوعات پر قلم اٹھایا۔ان میں سے مشہور کتب کی فہرست درج ذیل ہے:
149 تبیان القرآن شرح صحیح مسلم
149 تذکرۃ المحدثین توضیح البیان
149 مقالات سعیدی مقام ولایت و نبوت
149 ذکر بالجہر حیات استاذ العلماء
149 ضیائے کنز الایمان فاضلِ بریلوی کا فقہی مقام
149 معاشرے کے ناسور لفظِ خدا کی تحقیق
149 نظام مصطفیٰ کی شرعی حیثیت،ضرورت و اہمیت
149 نعمۃ الباری/نعم الباری شرح صحیح بخاری تفسیر تبیان القرآن (۲۲)
جسٹس کا تاریخ ساز فیصلہ:
۱۹۹۰ء میں وفاقی شرعی عدالت لاہور ”سود”سے متعلق ایک رٹ کی سماعت کر رہی تھی،اس وقت یہ سوال درپیش تھا کہ اگر قرض پر سود نہ لیا جائے اور قرض خواہ کو چند سال بعد اس کو صرف اس کی اصل رقم ہی واپس ملے تو افراط زر کی وجہ سیچند سال وہ رقم چوتھائی مالیت کی یا اس سے بھی کم کی رہ جائے گی تو اسلام میں اس صورت حال کا کیا حل ہے؟ایک وکیل نے علامہ سعیدی صاحب کی ”مقالات سعیدی”سے اس مسئلہ کا بہترین حل پیش کیا۔اس وقت وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمان(۲۳)تھے،وہ اس حل سے بے حد متاثر ہوئے اور انہوں نے سود کی ممانعت کے بارے میں جو تین سو صفحات پر مشتمل تاریخ ساز فیصلہ لکھا،اس میں مقالات سعیدی کا ایک اقتباس بھی درج ہے۔یہ تاریخ ساز فیصلہ ہفت روزہ ”زندگی ”لاہور۱۰ جنوری ۱۹۹۲ء کے شمارے میں صفحہ۲ پر شائع ہو چکا ہے۔(۲۴)
اس تاریخ ساز فیصلے کا مختصر تعارف یہ ہے:
(اس فیصلے کی رو سے سود پر مبنی 23 مالیاتی قوانین قرآن و سنت کے منافی ٹھہراتے ہوئے کالعدم قرار دے دیئے گئے۔ عدالت کا فیصلہ تھا کہ بینکوں کے منافع سمیت سود اپنی ہر شکل میں حرام ہے،خواہ اسے منافع کہا جائے یا مارک اپ کا خوبصورت نام دیا جائے۔عدالت نے متبادل قانون سازی کیلئے حکومت کو چھ ماہ کی مہلت دی اور واضح کر دیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یکم جولائی 1992ء سے متذکرہ مالیاتی قوانین خودبخودکالعدم ہو جائیں گے۔)
مختلف قومی اداروں کی رکنیت:
آپ۱۹۹۱ء سے ۲۹۹۱ء تک مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔فروری ۱۹۹۷ ء میں آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور۱۹۹۹ء تک رکن کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتیرہے۔(۲۵)
جسٹس کے عہدے کی پیشکش:
جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمان نے متعدد ذرائع سے ایک سال تک کوشش کی کہ علامہ صاحب وفاقی شرعی عدالت میں جسٹس کا عہدہ قبول کریں،لیکن علامہ صاحب نے عدالت کی ذمہ داری سنبھالنے سے ا س لیے انکار کر دیاکہ اس سے ان کی تدریس و تصنیف کا کام متاثر ہوگا۔(۲۶)
وفات:
سعید ملت علامہ غلام رسول سعیدی صاحب نے ۴ فروری ۶۱۰۲ء کو روشنیوں کے شہر کراچی میں وفات پائی۔
مصنفِ تبیان القرآن علامہ غلام رسول سعیدی کے مذکورہ حالات زندگی کے مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مصنف ایک علمی و فکری شخصیت کے مالک تھے۔انہیں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ۔انہوں نے ذاتی محنت سے علمی دنیا میں مقام حاصل کیا اوران کی زیادہ شناخت ان کی تصنیفی و تالیفی کام سے ہے۔
تبیان القرآن کا تعارف واسلوب و منہج
تعارفِ تفسیر:
”تفسیر تبیان ا لقرآن”علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کا ایک عظیم اور قابلِ قدر کارنامہ ہیجوکہ قرآن حکیم کی ایک مبسوط اور جامع تفسیر ہے۔سعیدی صاحب نے۲۱ فروری ۱۹۹۶ء کو اس تفسیر کا آغاز کیاتھا جس کا اختتام ۲ فروری ۲۰۰۵ء کو ہوا۔
۱۲ جلدوں پر مشتمل یہ تفسیر عہد جدید کی جامع کامل اور مکمل تفسیر ہے۔اس حوالے سے سعیدی صاحب خودفرماتے ہیں:
”ہمارے بزرگ علماء نے اپنے اپنے زمانہ میں اس دوران کے مطابق قرآن مجید کے مفاہیم کو اردو زبان میں منتقل کیا۔مگر زبان کا یہ اسلوب وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے اس وجہ سے میں محسوس کرتاتھاکہ اس دور کے اردو پڑھنے والوں کے مزاج اور ان کے اسلوب کے مطابق قرآن مجید کا ترجمہ کرنا چاہیے تاکہ ترجمہ پڑھنے والوں کے لیے ترجمہ اجنبی نہ ہو۔”(۲۷)
چنانچہ آپ نے آسان اردو قرآن مجید کابامحاورہ اور سلیس ترجمہ کیا اور احکام القرآن کی تشریح و توضیح کے ساتھ ساتھ احادیث رسول اور صحابہ و تابعین کے اقوال کے بکثرت حوالے دیئے ہیں۔اسی طرح نئے اور تازہ مسائل کو نئے انداز میں بیان کیا ہے۔نیز مفسرین کی آراء بھی نقل کی ہیں۔
فقہی مسائل کے سلسلے میں آپ نے ہر مکتبہ فکر کی رائے کو درج کیا ہے اور آخر میں احناف کو دلائل کے ساتھ ترجیح دی ہے۔
مصادر و مراجع کی فہرست میں آپ نے مؤلفین کی تاریخ وفات کے اعتبار سے کتب کو مرتب کیا ہے جو اس تفسیر کی خصوصیت ہے۔(۲۸)
قرآن کا ترجمہ:
سعیدی صاحب نے قرآن مجید کاترجمہ تحت اللفظ نہیں کیابلکہ اپنے آپ کو الفاظ اور عبارت کا پابند رکھا ہے اور لفظی ترجمہ سے احتراز کیا ہے۔ترجمہ میں علامہ احمد سعیدکاظمی کے ترجمہ”البیان”سے استفادہ کیا ہے۔
قرآن کی تفسیر:
سعیدی صاحب نے قرآن کی تفسیر میں احکام القرآن،الجامع لاحکام القرآن،البحر المحیط،تفسیر کبیر،الدرالمنثوراور روح المعانی سے استفادہ کیاہے۔اسی طرح موجودہ تفاسیر میں سے تفسیر منیر،مراغی،فی ظلال القرآن اور تفسیر قاسمی کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔(۲۹)
اسباب نزول:
اسباب نزول کے بیان میں ”جامع البیان”پر اعتماد کیا ہے۔
حوالہ جات:
سعیدی صاحب نے تفسیر میں جو احادیث درج کی ہیں ان کو ان کے اصل حوالہ جات کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔اسی طرح فقہی مباحث میں مذاہب اربعہ کو ان کی اصل کتابوں کے حوالے کے ساتھ درج کیا ہے۔
سعیدی صاحب اپنی تفسیر کے انداز تحریر اور اسلوب کے بارے میں لکھتے ہیں۔
”میں نے اس تفسیر کو متوسط طریقہ پر لکھا ہے۔اس میں بہت زیادہ تفصیل ہے اور نہ بہت اختصار ہے۔مسائل حاضرہ پر میں نے بحث شرح وبسط کے ساتھ شرح صحیح مسلم میں لکھ دیاہے،اسی طرح عبادات اور معاملات پر بھی سیر حاصل بحث اس میں آگئی ہے۔تاہم جو مسائل اور مباحث اس میں آنے سے رہ گئے ہیں ان شاء اللہ ان کا اس میں تفصیل سے ذکر کروں گا۔معاصرین اور عہد قدیب کے مفسرین کی تحقیقات اور نگارشات کو میں نے اپنے پیش نظر رکھا ہے۔اور جہاں میری رائے ان کے ساتھ متفق نہ ہو سکی میں ادب واحترام کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کر دیاہے۔”(۳۰)
مفتی منیب الرحمان(۳۱) تبیان القرآن کے بارے میں لکھتے ہیں:
”تبیان القرآن عہد جدید کی نہایت جامع،کامل اور مکمل تفسیر ہیمیرے محدو د مطالعے کے مطابق اردو اور عربی کی کسی تفسیر میں اتنا ذخیرہ معلومات یکجا نہیں ہے،اگرچہ ہر تفسیر میں آپ کو جستہ جستہ تمام علوم و فنون سے متعلق معلومات ملیں گی لیکن بالعموم ہر تفسیر میں کوئی نہ کوئی رنگ غالب ہوگا۔”(۳۲)
صدر رابطۃ المدارس (جماعت اسلامی)مولانا عبدالمالک(۳۳) لکھتے ہیں:
”شیخ الحدیث مولانا غلام رسول سعیدی صاحب عصر حاضر کے ممتاز مفسر،عظیم القدر محدث اور وسیع النظر فقیہ ہیں۔متعدد گراں قدر علمی تصانیف ان کی باقیات الصالحات ہیں۔ان کی تفسیر کا مطالعہ کرنے سے یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ مصنف نے ان خصوصیات اور اصولوں کی پوری پاسداری کی ہے جو کہ تفسیر کرنے کے لیے ضروری ہیں۔”(۳۴)
مختلف مکاتب فکر کے جید علماء اس تفسیر کی علمی اہمیت اور خوبیوں کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی مباحث کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

حوالہ جات:
۱۔مباحث سیرت تبیان القرآن کی روشنی میں،اختر حسین،مکتبہ فیضان مدینہ،فیصل آباد،۲۰۱۶ء،ص:۱۸
۲۔علامہ غلام رسول سعیدی حیات و خدمات(نعمۃ الباری شرح صحیح بخاری کا خصوصی مطالعہ)شگفتہ جبیں،والضحیٰ پبلیکیشنز، لاہور۲۰۱۶ء، ص:۹
۳۔حیات سعید ملت،محمد ناصر خان چشتی،فرید بک سٹال لاہور،۲۰۰۴ء،ص:۱۹
۴۔علامہ غلام رسول سعیدی حیات و خدمات،شگفتہ جبیں،ص:۱۰
۵۔تبیان القرآن،علامہ غلام رسول سعیدی،ضیاء القرآن پبلیکیشنزلاہور۲۰۰۶ء:۱/۵
۶۔حیات سعید ملت،محمد ناصر خان چشتی،ص:۱۹
۷۔سورۃ الجمعۃ:۶۲/۴
۸۔علامہ محمداچھروی 1901ء کو قصبہ ”شروکانہ ” ضلع قصورپنجاب میں پیدا ہوئے۔ آپ کا لقب مناظر اسلام تھا۔ آپ کو قدرت نے تمام علوم معتدلہ میں بالعموم اور ”علم مناظرہ ” میں بالخصوص وافر حصہ عطا کیا تھا۔ آپ نے 21 دسمبر 1971 کو وفات پائی۔
۹۔حیات سعید ملت،محمد ناصر خان چشتی،ص:۰۲
۱۰۔علامہ عطا محمد بندیالوی 1916ء کو موضع ڈھوک دھمن ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ بیعت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ سے ہے۔ آپ نے درس نظامی کو ایک نئی زندگی عطا کی۔آپ کی وفات 21 فروری 1999ء کو ہوئی۔ (حیات سعید ملت،محمد ناصر خان چشتی،ص:۲۱)
۱۱۔علامہ سعیدی کی حیات و خدمات،محمد ناصر خان چشتی،الناصر پبلیکیشنز کراچی،ص:۱۴
۱۲۔مفتی محمد حسین نعیمی ؒ 1923ء میں سنبھل ضلع مراد آباد(ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔آپ جامعہ نعیمیہ لاہور کے بانی تھے۔ آپ نے تحفظ مقام مصطفیٰ اور نفاذ نظام مصطفیٰ کی خاطر قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ کی وفات 1996 ء کو لاہور میں ہوئی۔
۱۳۔حیات سعید ملت،محمد ناصر خان چشتی،ص:۲۰
۱۴۔مباحث سیرت تبیان القرآن کی روشنی میں،اختر حسین،ص:۱۹
۱۵۔حقائق شرح صحیح مسلم ودقائق تبیان القرآن،محمد اسماعیل،فرید بک سٹال لاہور،ص:۳۹
۱۶۔حیات سعید ملت،محمد ناصر خان چشتی،ص:۲۶
۱۷۔مباحث سیرت تبیان القرآن کی روشنی میں،اختر حسین،ص:۲۰
۱۸۔حیات سعید ملت،محمد ناصر خان،ص:۲۶
۱۹۔حقائق شرح صحیح مسلم ودقائق تبیان القرآن،محمد اسماعیل،ص:۴۰
۲۰۔حیات سعیدملت،محمد ناصرخان چشتی،ص:۳۷
۲۱۔حیات سعیدملت،محمد ناصرخان چشتی ص:۴۳تا۴۵
۲۲۔غلام رسول سعیدی حیات وخدمات،شگفتہ جبیں،ص:۵۹
۲۳۔جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمان (تمغہ امتیاز)۱۶جون ۱۹۲۸ء کوبجنور انڈیامیں پیداہوئے۔آپ ۱۷ نومبر۱۹۹۰ء سے لے کر۱۶ نومبر۱۹۹۲ء تک وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس رہے۔۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۴ء تک اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبررہے۔آپ نے اسلامی قوانین پر متعدد کتب لکھیں۔
۲۴۔حیات سعید ملت،محمد ناصر خان چشتی،ص:۵۲
۲۵۔غلام رسول سعیدی۔حیات و خدمات،شگفتہ جبیں،ص:۱۶
۲۶۔حیات سعیدِ ملت،محمد ناصر خان چشتی،ص:۵۳
۲۷۔تبیان القرآن،علامہ غلام رسول سعیدی،فرید بک سٹال لاہور:۱/۳۷
۲۸۔مباحث سیرت تبیان القرآن کی روشنی میں،اختر حسین،ص:۳۰
۲۹۔تبیان القرآن،علامہ غلام رسول سعیدی:۱/۳۸
۳۰۔ایضاً
۳۱۔مفتی منیب الرحمان ۸ فروری ۱۹۴۵ء کو مانسہرہ میں پیداہوئے آپ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین،تنظیم المدرس اہلسنت بورڈ پاکستان کے صدر اور دارالعلوم نعیمیہ کراچی کے مہتمم ہیں اور ابھی تک حیات ہیں۔
۳۲۔حیات سعید ملت،محمد ناصر خان چشتی،ص:۵۷
۳۳۔مولانا عبد المالک یکم جنوری ۱۹۴۳ء کو مانسہرہ میں پیداہوئے۔آپ جمیعت اتحاد العلماء پاکستان کے ۱۹۸۶ء سے صدر ہیں۔رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان کے ۱۹۸۳ئسے۲۰۰۳ء تک نائب اعلیٰ رہے جبکہ۲۰۰۳ء سے صدر ہیں۔
۳۴۔ماہنامہ ترجمان القرآن،اپریل ۱۹۹۹ء،لاہور،ص:۶۵تا۷۰

Facebook Comments
Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں