syed saqib akbar 41

صوفیا کی روایت میں انسان دوستی: سیدثاقب اکبر

صوفیا کی روایت میں انسان دوستی
ثاقب اکبر
صوفیا کا مشرب عشق الٰہی اور انسان دوستی ہے۔ ان کی انسان دوستی ان کے عشق الٰہی سے پھوٹتی ہے۔ وہ خدمت انسان میں رضائے الٰہی تلاش کرتے ہیں۔ یہی انبیاءکا راستہ ہے، یہی قرآن کی سبیل ہے۔ تمام آسمانی کتابیں انسانوں کے لیے خیر اور بھلائی کا پیغام رکھتی ہیں۔تمام انبیاءانسانوں سے محبت کا عملی نمونہ رہے۔ انسان دوستی پیغام انبیاءکی روح ہے۔صوفیا اور عرفاکے طرز عمل اور فکر کے پس منظر میں یہی آسمانی ہدایت اور آسمانی ہادیوں کا کردار موجود ہے۔ صوفیا کے کلام اور خاص طور پر تصوف کی شعری روایت میں انسان دوستی اپنی گہرائیوں اور پہنائیوں کے ساتھ موجود ہے۔
صوفیا کے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان مردم بیزار ہو کر مقبول بارگاہ پروردگار ہو جائے۔صوفیا اور عرفا نے اپنے عمل اور قول کے ذریعے انسانی معاشرے کے لیے امن و سلامتی کا پیغام دیا۔ انھوں نے تمام انسانوں کو عیال اللہ جانا، انھوں نے نفرت کے بجائے محبت کا پیغام عام کیا۔ ان کی انسان دوستی دین کے پھیلنے اور مقبولیت کا سبب ہوئی۔ ہمارے بلند پایا شعراءنے بھی جن میں سے بیشتر صوفی مشرب ہیں، اپنی شاعری میں یہی پیغام عام کیا ہے۔
حضرت فاطمة الزہراؑ کی فقیر و محتاج کے لیے دل سوزی کو ایک شعر میں علامہ اقبال یوں بیان کرتے ہیں:
بہرِ محتاجے دلش آں گونہ سوخت
با یہودے چادرِ خود را فروخت
پوری کی احتیاج کچھ ایسے فقیر کی
چادر جو پاس تھی وہ یہودی کو بیچ دی
مولانا رومی کو روایت تصوف و عرفان میں بہت بلند مقام حاصل ہے، ان کا کلام صلح و آشتی کے پیغام سے مملو ہے وہ ہر حالت میں خلق خدا سے خیر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
خیر کن با خلق، بھر ایزدت
یا برایِ راحتِ جان خودت
تا ھمارہ دوست بینی در نظر
در دلت ناید زکین ناخوش صُور
وہ کہنا چاہتے ہیں کہ تم نیکی اللہ کی رضا کے لیے کرو اور اگر خدا کی رضا کے لیے نہیں کرتے تو کم ازکم اپنی حفظ و راحت جان کے لیے ہی کرو اور یہ سلسلہ جاری رکھو، اس صورت میں سب لوگ تمھارے ہو جائیں گے اور تمھارے دوست بن جائیں گے اور تمھاری جان کینے اور دشمنی والی صورتیں نہیں دیکھے گی۔
قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ تمام انسانوں کو نفس واحدہ سے پیدا کیا گیا ہے یعنی ان کی بنیاد ایک ہی ہے ، پھر اسی نفس واحدہ سے اس کا جوڑا پیدا کیا گیا ہے اور پھر ان کو ملانے سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیے گئے۔ (سورہ نساءآیة ۱)
نبی کریم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ تمام مسلمان ایک بدن کی طرح ہیں، اس کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا بدن بے خواب ہو جاتا ہے۔ ایک اور حدیث میں یہی بات تمام انسانوں کے لیے کی گئی ہے۔ شیخ سعدی نے اس بات کو یوں نظم بند کیا ہے:
بنی آدم اعضای یکدیگرند
کہ در آفرینش ز یک گوھر ند
چو عضوی بہ درد آورد روزگار
دگر عضو ھا را نماند قرار
تو کز محنت دیگران بی غمی
نشاید کہ نامد نھند آدمی
بنی آدم سب ایک دوسرے کے اعضاءکی طرح ہیں کیونکہ سب ایک گوہر سے پیدا کیے گئے ہیں، کسی ایک حصے کسی روز اگر تکلیف ہو جائے تو تمام دیگر اعضاءبے قرار ہو جاتے ہیں، اگر تو دوسروں کی تکلیف سے بے غم ہے تو پھر شاید تمھارا نام آدمی نہیں ہو سکتا۔
سعدی نے معاشرے میں امن و سلامتی اور صلح و صفا کے لیے بھی بہت خوبصورت پیغام دیا ہے۔ ایک مقام پر وہ کہتے ہیں:
جھاندیدہ بعد از دو رکعت نماز
بہ داور برآورد دست نیاز
کہ ای برفرازندہ ¿ آسمان
بہ جنگش گرفتی بہ صلحش بمان
ایک جہاں دیدہ شخص دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد اللہ کے حضور دست نیاز بلند کرتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ اے آسمانوں کی بلندیوں پر رہنے والے ہمارے زمین پر سے جنگ کو ختم کردے اور یہاں امن و صلح قائم فرما دے۔
ایک اور مقام پر کہتے ہیں:
من امروز کردم در صلح باز
تو فردا مکن در بہ رویم فراز
میں نے آج امن و صلح کا دروازہ کھولا ہے، تم آنے والے کل کو میرے سامنے اپنا دروازہ نہ کھولنا۔
حافظ شیرازی بھی اس وادی میں کسی سے پیچھے نہیں، وہ فرماتے ہیں:
آسایش دو گیتی تفسیر این دو حرفست
بادوستان مروّت با دشمنان مدارا
اس زمین کا آرام و راحت ان دو حرفوں کی تفسیر سے عبارت ہے کہ دوستوں سے مروت رکھو اور دشمنوں سے مدارا کرو۔
دوسروں کو آزار نہ دینے کے حوالے سے کہتے ہیں :
مباش در پی آزار و ھرچہ خواہی کن
کہ در شریعت ما غیر از این گناھی نیست
کسی کے در پئے آزار نہ ہو اور اس کے علاوہ جو چاہو کرو کیونکہ ہمارے شریعت میں اس کے علاوہ کوئی گناہ نہیں ہے۔
سعدی کے نزدیک تو طریقت اور سلوک الی اللہ فقط خدمت خلق میں پنہاں ہے۔
وہ کہتے ہیں:
طریقت بہ جز خدمت خلق نیست
بہ تسبیح و سجادہ و دلق نیست
طریقت ،تسبیح ، سجادہ اور چادر کا نام نہیں بلکہ طریقت خدمت خلق کے سوا کچھ بھی نہیں۔
عموماً عرفا و صوفیا مظاہر شریعت کے بجائے بندگان خدا کی دلجوئی کو اپنا مطمح ¿ نظر قرار دیتے ہیں اور اسی ذریعے سے اپنے پروردگار سے رضا جوئی کے درپے رہتے ہیں۔ بابا بلّھے شاہ سے منسوب ایک شعر ہے جسے بعض لوگ میاں محمد بخش کا قرار دیتے ہیں اور جو زبان زد عام ہے، یہی پیغام لیے ہوئے ہے۔
مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے ڈھا دے جو کجھ ڈھینداے
اک بندے دا دل ناں ڈھاویں رب دلاں وچ ریھند اے
امام خمینی کا دیوان بھی ایسے اشعار سے معمور ہے۔ دو شعر ملاحظہ فرمائیں:
در میخانہ گشائید بہ رویم، شب و روز
کہ من از مسجد واز مدرسہ بیزار شدم
جامہ ¿ زہد و ریا کندم و برتن کردم
خرقہ ¿ پیر خرابا تی و ہشیار شدم
میرے سامنے میخانے کا دروازہ کھول دو کہ میں دن رات اس میں جاﺅں کیونکہ میں مسجد اور مدرسے سے بیزار ہو گیا ہوں، میں نے زہد و ریا کا جامہ پھاڑ دیا ہے اور پیر خراباتی کا خرقہ پہن لیا ہے اور مجھے ہوش آگیا ہے۔
خدمت خلق کے حوالے سے حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے اپنے پیر ومرشد خواجہ عثمان ہارونیؒ کا ایک قول اپنی کتاب انیس الارواح کی دسویں مجلس میں یوں بیان کیا ہے:
جب کوئی پیاسے کو پانی پلاتا ہے، اس وقت اس کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں، وہ ایسا ہوتا ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو، اگر وہ مر جائے تو اس کا شمار شہداءمیں ہوگا۔ پھر فرمایا جو شخص بھوکے کو کھانا کھلائے اللہ اس کی ہزار ضرورتوں کوپورا کرتا ہے اور جہنم کی آگ سے اسے آزاد کرتا ہے اور جنت میں اس کے لیے محل مخصوص کرتا ہے۔
فرحت احساس کا ایک خوبصورت شعر صوفیانہ مٹھاس اور محبت کو لیے ہوئے ہے:
علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو، جانے کس کس سے
محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے
صوفیاءکی رائے میں ملّا اور پادری انسانوں کو تقسیم کرتے ہیں جب کہ مشرب تصوف انسانوں کو باہم جوڑنے کا نام ہے۔علامہ اقبال اپنی ایک مختصر نظم میں ملا کے بارے میں اپنا نظریہ نہایت عمدگی سے بیان کرتے ہیں:
مَیں بھی حاضر تھا وہاں، ضبطِ سخن کر نہ سکا
حق سے جب حضرتِ م ±لّا کو مِلا حکمِ بہشت
عرض کی مَیں نے، الٰہی! مری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے اسے ح ±ور و شراب و لبِ کشت
نہیں فردوس مقامِ جَدل و قال و اقول
بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت
ہے بد آموزیِ اقوام و مِلل کام اس کا
اور جنّت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ ک ±نِشت!
عبید اللہ سندھی ایک مقام پر کہتے ہیں:
ہمارے صوفیاءکرام نے خدا پرستی کی اس عملی شکل انسان دوستی کو تو اصل دین قرار دیا تھا ان کا تو یہ عقیدہ ہو گیا تھا کہ جسے صرف اپنے گروہ یا جماعت سے محبت ہے اور وہ دوسروں کو جو اس کے ہم عقیدہ نہیں نفرت سے دیکھتا ہے، وہ سچا موحد اور خدا پرست نہیں ہوسکتا۔ وہ اپنی تعلیمات میں اس بات پہ زور دیتے تھے کہ تمام انسانوں کو ”عیال اللہ“ سمجھو اور ان کا اپنا عمل بھی اس کا شاہد تھا، لیکن اس سے یہ خیال نہ ہو کہ انھوں نے صواب اور ناصواب اور ثواب و گناہ کی تمیز اٹھا دی تھی، بے شک وہ نیکو کار کو اچھا سمجھتے تھے لیکن غلط کار کا ان کو نیکو کار سے زیادہ خیال رہتا تھا اور جس طرح ماں اپنے نافرمان بچے کے لیے زیادہ کڑھتی ہے اور اس کا اسے دوسروں سے زیادہ خیال ہوتا ہے اسی طرح غلط کار کو سیدھے راستے پر لگانے کے لیے یہ خدا پرست بزرگ تیار رہتے تھے۔
ان کی یہ کیفیت دراصل قرآن کریم کی اس عبارت کی عکاسی ہے:
یٰحَس ±رَةً عَلَی ال ±عِبَادِ(یٰس:۰۳)
یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کی نافرمانی پر خوش نہیںہوتا بلکہ اسے افسوس ہوتا ہے وہ اظہار حسرت و غم کرتا ہے۔ صوفیاءاور عرفاءکی یہی کیفیت ہوتی ہے۔
ہم اپنی گفتگو کو ڈاکٹر طاہر القادری کی اس بات پر تمام کرتے ہیں۔ تاریخ اسلام میں درج ذیل دو رویے ہمیشہ رہے ہیں:
صوفیاءکا رویہ: اس رویہ کے حاملین کا طرز ہمیشہ سے لوگوں کو اسلام میں داخل کرنا رہا ہے اور ہے۔
انتہا پسندوں کا رویہ: اس رویہ کے حاملین کا رویہ ہمیشہ سے مسلمانوں کو اسلام سے خارج کرنا رہا ہے اور ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں