صدی کی ڈیل 133

صدی کی ڈیل ! یوم نکبہ اور عالمی یوم القدس تحریر:صابر ابو مریم

صدی کی ڈیل ! یوم نکبہ اور عالمی یوم القدس
تحریر:صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر ،شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

مسئلہ فلسطین ایک سو سالہ تاریخ میں انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور دنیا بھر میں ایک ایسے سودے کی گونج سنائی دے رہی ہے کہ جس کو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیش کیا ہے اور اس کو مرتب کرنے میں ان کے داماد کوشنر کا انتہائی اہم کردار مانا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ کوشنرسے متعلق دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ شخص مذہبی اعتبار سے صہیونی ہے ۔مزید یہ کہ عرب دنیا کے ممالک میں بادشاہوں اور شہزادوں کا قریبی دوست بھی ہے جبکہ دوسری طرف صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا وزیر اعظم نیتن یاہو بھی اس شخص پر اندھا اعتماد کرتا ہے۔ویسے تو کوشنر دنیا کے بڑے سرمایہ کاروں میں بھی شمار ہوتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ صہیونیوں اور امریکی انتظامیہ کا بھی پسندیدہ فرد ہے
فلسطین کا مسئلہ آج سے ایک سو سال پہلے ٹھیک1917ء میں اسی دن پیدا ہو گیا تھا جب برطانوی استعمار کے اعلیٰ عہدیدار جیمز بالفور نے فلسطین کی تقسیم کا اعلانیہ جاری کرتے ہوئے صہیونیوں کو فلسطین پر قبضہ کرنے کی کلین چٹ دی تھی جب کہ اس کلین چٹ پر امریکی انتظامیہ نے بھی سیاہ دستخط کر کے خود کو اس دہشت گردانہ کاروائی اور ظالمانہ اقدام سے پیچھے نہ رکھا تھا۔
دور حاضر میں امریکی حکومت کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے یکطرفہ فیصلوں کو صادر کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔انہوںنے فلسطین کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے جو راستہ اختیار کیا ہے اس راستے میں فلسطین نامی خطہ ہی ختم کر دیا جائے گا اور اس معاہدے یا دستاویز کو امریکی صدر نے ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا نام دیا ہے اور اسے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین جاری طویل مدتی سست رفتار نام نہاد امن مذاکرات کا ہی تسلسل قرار دیا ہے۔صدی کی ڈیل کے بارے میں تاحال مکمل معلومات حاصل نہیں ہوئی ہیں ۔لیکن امریکی صدر کے فلسطین سے متعلق یکطرفہ اور غیر منصفانہ فیصلوں کی روشنی میں تو ایسا ہی نظر آتا ہے کہ امریکی صدر نے فلسطین کو صہیونیوں کی جاگیر بنانے کی ٹھان رکھی ہے۔جیسا کہ انہوںنے گذشتہ برس پہلے یروشلم شہر یا القدس شہر جو کہ مسلمانوں اور مسیحی عوام کا بھی مقدس شہر ہے کو غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت اعلان کر دیا اور پھر امریکی سفارتخانہ کو بھی اس شہر میں منتقل کر کے جہاں انہوںنے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کی وہاں ساتھ ساتھ ان کے عزائم نے اس بات کا اشارہ بھی دیا ہے کہ ان کا مستقبل میں پیش کیا جانے والانام نہاد فلسطین امن فارمولا یعنی صدی کی ڈیل کا مطلب فلسطین کا سودا صہیونیوں کے ہاتھ میں کرنا ہے۔اسی طرح ابھی کچھ روز قبل ہی شام کی جولان کی پہاڑی علاقے کو بھی اسرائیل کی خود مختاری میں دینے کا احمقانہ اعلان دراصل مستقبل قریب میں ان کی جانب سے سنگین فیصلوں کے صادر کئے جانے کا اشارہ ہیں۔
گذشتہ ایک برس سے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے داماد کی مدد سے فلسطین کے سودے کے عنوان سے صدی کی ڈیل کو متعارف کروادیا ہے۔اس کام کے لئے اب ایک سال میں ٹرمپ اور ان کے داماد کوشنر کی مسلسل ملاقاتوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عرب دنیا کے حکمران ذہنی طور پر اس فارمولے کو قبول کر چکے ہیںجکہ رسمی طور پر اس کے اعلان اور اس کو قبول کرنے کا انتظار جاری ہے۔فلسطین کے قریبی سرحدی ممالک کی بات کی جائے تو یہاں مصر او ر اردن اس وقت مکمل طور پر امریکی اشاروں پر ناچنے کا کام انجام دے رہے ہیں اور ان سے ایسے حالات میں فلسطینیوں کے حق میں کسی خیر کی امید نہیں کی جا رہی ہے۔دوسری طرف کی سرحدوں پر شام ایک ایسا ملک ہے جو امریکی صدی کی ڈیل کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔لہذا ایسے ہی اقدامات کی سزا شام کو داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی صورت میں دراصل مغربی ممالک اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے ہی تحفہ ملا ہے۔لبنان میں بھی ایسی حکومت قائم ہے کہ جو یقینا امریکن صدی کی ڈیل پر امریکہ کا ساتھ نہیںدے گی بلکہ فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنے کی خاطر س حد تک ممکن ہو گا اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
خلیجی عرب ریاستوں میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور کوشنر گہرے دوست اور سرمایہ کاری میں شراکت دار بھی ہیں۔تاہم اب آ پ خود ہی سمجھ سکتے ہیںکہ سعودی عرب کی حکومت سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے ؟خلیج کی دیگر ریاستیں بشمول قطر،کویت، بحرین، امارات وغیرہ سب کے سب کسی نہ کسی حد تک امریکی دبائو اور غلامی کے شکنجہ مین پھنسے ہوئے ہیں۔صدی کی ڈیل پر نہ جانے کوئی ٹھوس موقف اختیار کر پائیںگے یا نہیں؟ترکی خطے میں ایسا ملک ہے کہ جہاں کی حکومت اگر چہ کسی حد تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی قائم کر چکی ہے لیکن فلسطینیوں کے سودے میں امریکہ کے صدی کے ڈیل نامی معاہدے کی حمایت نہیں کی جائے گی ۔اب دیگر ریاستوں میں ایران اور عراق ہیں۔ایران سنہ1979ء کے بعد سے فلسطین کا دنیا میں سب سے بڑا حمایت کرنے والا واحد ملک ہے جبکہ عراق میں بھی موجودہ حکومت کے ایران کے ساتھ بہتر ہونے والے تعلقات کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسطینیوں کے معاملے میں ایران کے ساتھ ساتھ عراق بھی امریکی صدی کی ڈیل کی مخالفت اور مزاحمت کریں گے۔
پاکستان اگر چہ موجودہ حالات میں سنگین معاشی بحران سے گزر رہاہے لیکن ساتھ ساتھ فلسطین کاز کے عنوان سے بھی ایک بحرانی کیفیت نے جنم لیا تھا۔جس کی اصل وجہ پاکستان میں قائم کیا جانے والا خفیہ صہیونی نیٹ ورک تھا کہ جس کی مدد سے معروف قسم کے تجزیہ نگاروں اور چندسیاست دانوں کو استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد پاکستان میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کیا جائے۔یہ سارے کے سارے معاملات صدی کی ڈیل کے ضمن میں انجام پا رہے ہیں تا کہ جب صدی کی ڈیل نامی منصوبہ رسمی طور پر اعلان کیا جائے تو عرب دنیا کے خاموش حکمرانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان جیسے بڑے اسلامی ممالک اور انڈونیشیا اور ملائیشیا بھی خاموش تماشائی کاکردار ادا کریں۔لیکن اب پیدا ہونے والی صورتحال میں وزیر اعظم کی جانب سے واضح پالیسی آنے کے بعد معاملہ صاف ہو چکا ہے کہ پاکستان فلسطین کاز پر اپنی پالیسی پر کبھی یو ٹرن نہیں لے گا۔
بہر حال مجموعی طور پر عرب ممالک کی جانب سے امریکی جھکائو کی وہ سے صورتحال فلسطینی کاز کے حق میں نظر نہیں آتی ہے۔عرب دنیا کے حکمرانوںنے صدی کی ڈیل کی حمایت میں پس پردہ اپنے اپنے ممالک میں اپنی بادشاہتوں کے لئے پچاس پچاس سالوں کی گارنٹی امریکہ سے لے لی ہے۔لہذا اب کوئی بھی اس سوچ میں نہ پڑے کہ امریکہ جب فلسطین نامی خطے کے خاتمہ کا اعلان صدی کی ڈیل کی صورت میں کرے گا تو کوئی عرب ملک کی حکومت فلسطینیوں کا دفاع کرے گی؟ ہر گز ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہاہے۔
تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ اب امریکی صدر نے حتمی طور پر یہ طے کر لیا ہے کہ وہ جون کے مہینہ میں صدی کی ڈیل نامی اعلان یا معاہدہ کو منظر عام پر لے آئیں گے۔واضح رہے کہ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے امریکی صدر کے یروشلم اور امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کے اقدامات کو دنیا بھر سے اکثر ممالک نے مسترد کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود امریکی صدر کی ہٹ دھرمی اپنی جگہ قائم ہے۔اب ایک طرف جون کے مہینہ میں صدی کی ڈیل کا اعلان ہونے کا امکان ہے جس کے بعد یقینا فلسطین کے مظلوم عوام کے لئے مشکلات اور مصائب بڑھ جائیں گے۔پہلے ہی غزہ کی پٹی بارہ سال سے صہیونیوں کے بد ترین محاصرے کا شکار ہے جس کے باعث غزہ کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں اور خطرات سے دوچار ہیں۔اسی طرح القدس کے مقبوضہ علاقو ں میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے مقدسات کو منہدم کرنے کی صہیونی منصوبہ بندیا عرو ج پر ہیں۔مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس ہو یامسیحیوں کامعبد کہ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش ہے ۔اس کو Holy church of Sepulcher کہا جاتا ہے۔
امریکی صدر کے جون میں صدی کی ڈیل کے اعلان سے قبل ماہ مئی میں رمضان المبارک کی آمد ہے اور ساتھ ساتھ مئی کا مہینہ ہی تاریخی مہینہ ہے جب 15مئی کو فلسطینیوں پر تباہ کن مصیبت ڈھائی گئی تھی اور اس دن کو پوری دنیا میں ’’یوم نکبہ‘‘ کے عنوان سے یاد رکھا جاتا ہے ۔ماہ رمضان المبار ک کے آخری جمعہ کو دنیا بھر میں بلا تفریق و مذہب و رنگ ونسل حریت پسند ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒکے فرمان کے مطابق آخری جمعہ کو ’’عالمی یوم القدس‘‘ مناتے ہیں۔
اس سال کہ جب فلسطینیوں کو صدی کی ڈیل کے ساتھ ساتھ دیگر اور مصائب کا بھی سامنا ہے تو کیوں نہ دنیا بھر میں اور وطن عزیز پاکستان میں بھی حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں سب ملک کر یوم نکبہ اور جمعۃ الوداع عالمی یوم القدس کو ایک نئی روح اور ولولہ کے ساتھ زندہ کریں اور ایک ایسی مزاحمت کو کھڑا کرنے کی کوشش کریں جو امریکی صدر اور صہیونیوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دے۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی دنیا کے حکمران اگر چہ خیانت کار بھی ہیں لیکن اسلامی دنیا کے عوام خودار اور غیرت مند ہیں اور کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ فلسطین کا سودا کرلیا جائے۔حتٰی خود فلسطینی حکومتی اور حزب اختلاف کے دھڑوں سمیت امریکہ سے امن مذاکرات کرنے والی پی ایل او اور فلسطین اتھارٹی نے بھی امریکہ کے صدی کے ڈیل منصوبہ کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے خلاف سخت مزاحمت کرنے کے عزم کا اظہا ر کیا ہے۔
یوم نکبہ اور یوم القدس پر پوری دنیا کے حریت پسند جو فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع کی خاطر سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں سب کے سب یک آواز ہو کر اٹھ کھڑے ہوں اور امریکی صدر ٹرمپ اور اس کے عرب خلیجی اتحادیوں کے صدی کی ڈیل پر دیکھے جانے والے ناپاک خوابوں کو چکنا چور کر دیں۔فلسطینیوں نے فیصلہ کر لیا ہے وہ مسلسل جد وجہد کر رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ وہ کسی بھی ناپاک منصوبہ کو چاہے وہ امریکہ کی طرف سے ہو یا کسی بھی عرب ملک کی پیش کش ہو قبول نہیں کیا جائے گا۔فلسطین کے مفتی اعظم اور عیسائی سربراہ نے واضح طور پر بیان دیا ہے کہ ’’فلسطین بکائو مال نہیں ہے‘‘،فلسطین کی حرمت و عظمت کا دفاع خون کے آخری قطرے تک کیا جائے گا۔
آئیں اس سال پاکستان میں گلی کوچوں میں جمعۃ الوداع عالمی یوم القدس او ر پندر ہ مئی یوم نکبہ پر عالمی سامراجی قوتوں کے خلاف اپنی حکومت کی پشت پر کھڑے ہو کر ثابت کر دیں کہ پاکستان کے عوام اور حکومت فلسطین کاز کے ساتھ ہیں۔اس عنوان سے حکومت کو بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں