صدر ٹرمپ امید سے ہیں، اور ہم بھی 7 78

صدر ٹرمپ امید سے ہیں، اور ہم بھی

صدر ٹرمپ امید سے ہیں، اور ہم بھیٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بار بار پیشکش سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ (اے ایف پی)

گذشتہ ہفتے ایک صحافی دوست کے گھر عید ملن پارٹی تھی۔ وہاں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک باخبر وزیر جو ہمارے دوست بھی ہیں، ان سے ملاقات ہوئی تو ہم ایک طرف بیٹھ گئے اور کشمیر پر بات کرنے لگے۔

میں نے پوچھا ’کیا کنٹرول لائن پر ہماری افواج کی کوئی غیر معمولی نقل و حرکت ہے؟‘

جواب آیا، ’بالکل نہیں۔ بلکہ پلوامہ حملے کے بعد جو صورتحال تھی وہی برقرار ہے اور ہماری اطلاعات کے مطابق دوسری جانب بھی یہی صورتحال ہے۔‘

میں نے سوچا کہ پھر یہ جو جنگ کے نقارے بجائے جا رہے ہیں اس کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

خارجہ امور کے ماہرین جانتے ہیں کہ سب کچھ اچانک نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی تعلقات کی راہداریوں میں بیک چینل ہر وقت چل رہے ہوتے ہیں۔ واشنگٹن، اسلام آباد، نیو دہلی اور کابل میں کب سے کچھ ہو رہا تھا۔ پس پردہ معاملات طے ہو رہے تھے۔

اس کی ایک مثال اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سابق مستقل نمائندہ نکی ہیلی کا بیان ہے جو بھارتی نژاد ہیں اور ساؤتھ کیرولینا کی گورنر بھی رہ چکی ہیں۔

انہوں نے اپریل 2017 میں، جب وہ اقوام متحدہ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں، بیان دیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کریں گے اور اس کے لیے وہ حالات کے خراب ہونے کا انتظار نہیں کریں گے۔

اور اس سے بھی بہت پہلے ستمبر 2011 میں جب ایک روز مجھے فارن پریس سینٹر نیویارک سے کال موصول ہوئی کہ صدر اوباما کے خصوصی نمائندے مارک گروس مین پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ سے تبادلہ خیالات کرنا چاہتے ہیں تو میں قیاس کرتا رہا کہ شاید افغانستان پر بات کی جائے گی۔

تاہم وہاں افغانستان کا ذکر سرسری تھا، اصل موضوع پاکستان اور بھارت تھے۔ مارک گروس مین نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ دہلی سے کابل تک ایک نئی شاہراہِ ریشم بنائی جائے جس میں امریکہ اور اس کی کمپنیاں سرمایہ کاری کریں۔

ہم نے پوچھا کہ ’ان حالات میں جب افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہے، پاکستان میں آئے روز خود کش حملے ہو رہے ہیں، پاکستان اور بھارت نے مسئلہ کشمیر پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑ رکھا ہے، کیا ایسا سوچنا دیوانے کا خواب نہیں ہے؟‘

جواب آیا کہ ’تنازعات کو حل کرنے کا ایک یہ بھی طریقہ ہے کہ جنگ کی بجائے امن کے سٹیک ہولڈرز بڑھائے جائیں۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر امریکہ، پاکستان، بھارت اور افغانستان چاروں کو اس تجارتی راہداری سے اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا تو اس سے خطے میں دیرپا امن کی راہیں ہموار ہوں گی۔‘

میں نے پوچھا کہ ’چینییوں کے اپنے سلک روٹ کی موجودگی اور چین کی جانب سے اس کی بحالی کی خبروں کی بعد کیا پاکستان اس بات پر راضی ہو جائے گا کہ وہ اس کے متبادل امریکہ کو بھی راستہ دے؟‘

مارک گروس مین بولے: ’ہمیں چین کے پرانے سلک روٹ پر کوئی اعتراض نہیں، چین وہاں سے تجارت کرے البتہ پاکستان کو اپنے فائدے کے لیے مسلسل سوچنا چاہیے کہ اسے کہاں کہاں سے اضافی فائدہ مل سکتا ہے۔‘

معلوم نہیں امریکہ کی جانب سے یہ منصوبہ اب کس سٹیج پر ہے مگر افغانستان میں ممکنہ امن معاہدہ اور صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر پر غیرمعمولی متحرک ہونا بتاتا ہے کہ پس پردہ کچھ نہ کچھ ضرور پک رہا ہے۔

نیویارک میں مقیم معروف سینیئر صحافی اور تجزیہ کار آفاق خیالی نے یہ لکھ کر ہمیں اور حیران کر دیا ہے کہ اب پتہ چلا ہے کہ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات کے موقع پر پاکستانی سفارت کار کیوں پاکستانی میڈیا کو کہتے رہے کہ کشمیر پر سوال نہ کریں۔

اب پتہ چلا کہ پینٹا گون میں جنرل باجوہ کو کیوں 21 توپوں کی سلامی پیش کی گئی۔ حالانکہ جب ہم نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پینٹا گون میں دیگر ممالک کی افواج کے سربراہوں کو یہ عزت نہیں بخشی جاتی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دوبارہ انتخابات سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے ایک غیرملکی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مودی جیت جاتے ہیں تو امن مذاکرات کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے کیونکہ کانگریس ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر فیصلہ کن بات چیت سے دور بھاگتی ہے۔

کسی حد تک قرائن یہی بتاتے ہیں کہ افغانستان کی امن ڈیل کا کوئی نہ کوئی تعلق مسئلہ کشمیر کے ساتھ ہے۔ جیسے جیسے افغانستان میں امن ڈیل واضح ہو رہی تھی کشمیر پر بھی واشنگٹن، اسلام آباد اور دہلی میں بہت کچھ ہو رہا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے نزدیک مسئلہ کشمیر کا روڈ میپ ہے کیا؟

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’میں اپنی جانب سے ثالثی کی بھر پور کوشش کروں گا، لیکن اس مسئلے کے پیچھے مذہب ہے اور مذہب ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔‘

گویا صدر ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر کی مکمل جان کاری دی جا چکی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ وادی میں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، جموں میں ہندوؤں کی اور لداخ میں بدھ متوں کی اکثریت ہے۔ اس پس منظر میں کشمیر کی تقسیم، آزادی یا کسی اور آپشن پر عمل پیرا ہونا آسان نہیں ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ کو جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اگر انہیں مخالف فریقین سے سو فیصد آشیر باد نہ ملے تو وہ اپنا راستہ ہی الگ کر لیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر مسلسل دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی سمجھوتے کے قریب ہیں۔ ان کی باڈی لینگویج بھی بتاتی ہے کہ صدر ٹرمپ امید سے ہیں۔ اس لیے ہم بھی کسی اچھی خبر کے انتظار میں ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں