صاحبزادہ سلطان احمد علی (چیئرمین مسلم انسٹی ٹیوٹ) 165

صاحبزادہ سلطان احمد علی (چیئرمین مسلم انسٹی ٹیوٹ)

صاحبزادہ سلطان احمد علی
(چیئرمین مسلم انسٹی ٹیوٹ)
اہل بیت اطہار کا سلسلہ چونکہ سید ۃ النساء حضرت خاتون جنت سلام اللہ علیہاسے شروع ہوتا ہے اور تمام اہل طریقت انہی کے در سے اقتصاد فیض حاصل کرتے ہیں تو اس لیے میرے لیے یہ ہمیشہ یہ ایک ایسا موضوع رہا ہے کہ میں اس پہ گفتگو کرنے کے لیے، اس پر بات کرنے کے لیے اپنی زبان کو اور اپنے آپ کو اپنی غفلتوں، اپنے گناہوں اور اپنے اند ر کیخرابیوں کی وجہ سے اپنے جان وتن کو اور اپنی زبان کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ ان حسین، بابر کت اور پاکیزہ ہستیوں کانام لیا جائے جیسے کسی نے کہا ہے کہ
ہزاربار بشو یم دہن ز مشک و گلاب
ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبی است
گو کہ میں نے ہزار مرتبہ اپنے دہن کو اور اپنی زبان کو عرق گلاب سے دھویا ہے، پاک کیا ہے، خوشبو دار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان کا نام اپنی زبان پر لانا کما ل بے ادبی ہے۔
میرے پاس ان کی ذات اقدس کے متعلق کچھ کہنے کے لیے اپنی علمی استطاعت کے ناطے سے بھی کچھ نہیں اور اپنی پاکی کے ناطے سے بھی کچھ نہیں میں بزرگان دین کا سہارا لے کر ایک دو گزارشات عرض کرنا چاہوں گا
پہلی بات غزنوی ؒنے حضرت خاتون جنت سلام اللہ علیہا کی ذات اقدس کو جو نظرانہ پیش کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ
سراسر جملہ عالم پر زنان است
ذرے چوں فاطمہ خیر النساء کوب
وہ کہتے ہیں کہ عورتیں تو دنیا میں آئیں ہزاروں، لاکھوں اور اربوں کی تعداد میں لیکن کوئی عورت تمہیں سید ہ فاطمۃ الزہراء کی طرح اور ان کی مثل کی کہاں ملے گی اور یہ وہی موضوع ہے جسے اقبال نے رموز بے خودی میں چھیڑا ہے مادرارا اسوہ رسول کامل بتول کہہ کے رموز بے خودی میں تین نظمیں اس حوالے سے ہیں جو اس میں پہلی نظم ہے اس میں اس کا عنوان ہے
درمعنٰی ان کے بقاء نو ازامومت است
و حفظ احترام امومت اسلام است
علامہ اقبال ؒنے فرمایا کہ جتنی انواع ہیں ان کی بقاء امومت سے ہے اور اس تسلسل میں انہوں نے اہلیان اسلام کو اکسایا ہے کہ جتنی قابل جتنی محترم اور جتنی معزز ماں تم معاشرے کو فراہم کرو گے معاشرے میں اتنے ہی خدمت کار اور عزت والے لوگ پیدا ہونگے اور اقبال ؒنے کہا کہ
شفقت او شفقت پیامبر است
سیرت اقوام با صورت گر است
کہ اپنی معاشرتی ماں کو حقیر مت سمجھوماں کی شفقت ایسے ہوتی ہے جیسے پیغمبر اسلام ؐنے اپنی امت پر رحمت فرمائی ہے حضور کی رحمت کی خیرات ماں کی رحمت کو ہوتی ہے اور اقوام کی سیرت ماں کی سیرت سے تشکیل پاتی ہے اور
حافظ رمز اخوت مادراں
قوت قرآن و ملت مادراں
یہاں پر اختتام کرکے اقبال ؒ نے جو دوسری نظم کہی ہے در معنٰی ایں کہ سید ۃ النساء فاطمۃ الزھر اء سوہئ کامل است برائے نساء اسلام اور اس میں ایک دو ان کے فضائل ہیں جو علامہ نے بیان کیے اور آخر میں ان کا اظہار عقیدت ہے جو سیدہ کے قدموں میں پیش کیا اس میں چار صفات بڑی اعلیٰ ماں کے لیے علام اقبالؒ نے پیش کیں حضرت سید ۃ النساء کی ذات گرامی سے پہلا جو انہوں نے بیان کیا وہ یہ ہے
بہر محتاج دل اشت آں گوں نہ سوخت
بیہود چادر خودراں فروخت
آپ فرماتے ہیں کہ پہلی عظیم ترین صفت جو آپ کی ذات گرامی میں نظر آتی ہے وہ سخاوت کی ہے کہ ایک محتاج جو آپ کے دروازے پر خیرات مانگنے کے لیے آیا بھیگ مانگنے آیااس کو بھیگ دینے کے لیے آپ کے دل میں ایساگداز آیا کہ میرے دربار پر منگتا آئے اور یہاں سے خالی چلا جائے۔آپ نے ایک یہودی کو اپنی چادر فروخت کر کے منگتے کی جھولی بھر دی اس لیے آج بھی ان کے دربار سے کوئی منگتا خالی نہیں جاتادوسری صفت جو اقبال ؒنے بیان فرمائی کہ جیسے ہماری سو سائٹی کو بدلنے کی کوشش کی جاری ہے ہماری اقدار، ہماری روایات، ہماری تہذیب، ہمارے تمدن اور ہماری اس اسلامی، دینی، روحانی معاشرت کو جس طریقے سے جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کے جواب میں اقبال ؒفرماتے ہیں نوری و ہم آتشی فرماں بر اشت کہ وہ ایسی ہستی ہیں کہ ملائکہ اورجنات ان کے در اقدس کی غلامی کا دم بھرتے ہیں لیکن گن رضائے است در رضائے شوہراست اس کے باوجود کہ ملائکہ ان کے در پر سلام پڑھنے آتے ہیں جنات ان کے در کی غلامی کرتے ہیں لیکن اس سرداری، اس سربراہی، اس بادشاہی کے باوجودان کی رضا ان کے شوہر کی رضا میں گم ہے
اور اس کے بعد اقبالؒ نے جو تیسری نظم لکھی ہے جسے وہ کہتے ہیں:
خطاب بمقدراۃ الاسلام اسلا م کی بیٹیوں اور خواتین کو جو اسلام نے خطاب کیا اور اس کا جو انہوں نے اختتام کیا ہے اس میں بیان کرتے ہیں کہ فطرت تو جذبہ ہا دارد بلندوہ کہتے ہیں کہ تمہاری فطرت کے اندر بے شمار جذبے ہیں اس لیے اپنی آنکھوں کو کبھی بھی سید ۃ فاطمۃ الزھراء کے در سے خیرات لینے کے لیے بند نہ کر وتا حسین شاخ تو بارہ ورت وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کے در سے خیرات ملتی رہی تو تمہاری جھولیوں میں اور تمہاری آغوشوں میں حسین پرورش پاتے رہیں گے۔
میں چونکہ طریقہ قادریہ سے تعلق رکھتا ہوں تو جتنے بھی طر ق ہیں طریقہ قادریہ کے وہ اہل بیت سے جاکے ملتے ہیں اس طریق کے بانی پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی ؒہیں اورسلطان العارفین حضرت سلطان باہو ؒبھی اُن کا جتنا درس ہے، جتنا ارشاد ہے، جتنی انہوں نے رغبت دلائی ہے وہ اہل بیت سے وابستہ ہونے کی دلائی ہے آپ نے فرمایا جو سادات سے دشمنی رکھتا ہے بنی فاطمہ سے دشمنی رکھتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور بہشت کے اند ر وہ جائیں گے جو سادات کی غلامی کا دم بھرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ
جے گر دین علم وچ ہونداتے سر نیزے کیوں چڑدے ہو
اٹھارہ ہزار جو عالم آہا کوئی اگے حسین دے مردے ہو
جے کر مندے بیعت رسولی تاں پانی کیوں بند کردے ہو
جے کج ملاحظہ سرور دا کردے تا خیمے تمبو کیوں سڑدے ہو
صادق دین انہاں دے باہوجو سر قربانی کردے ہو
اور آپ نے یہ نظریہ پیش کیا کہ جسے تم پنجتن کہتے ہو یہ پنجتن نہیں بلکہ ایک تن ہے او ر اس پر آپ فرماتے ہیں کہ
پنجے محل، پنجاں وچ چانن، دیوا کِت وَل دھرئیے ہْو
پنجے مَہر، پنجے پٹواری، حاصل کِت وَل بھریئے ہْو
پنج امام تے پنجے قبلے، سجدہ کِت وَل کریئے ہْو
جے صاحب سِر منگے باہْو ہرگز ڈِھل نہ کریئے ہْو

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں