خاتون جنت کانفرنس 27

سینیٹرپروفیسر ابراہیم خان نائب امیر،جماعت اسلامی پاکستان خاتون جنت کانفرنس

سینیٹرپروفیسر ابراہیم خان
(نائب امیر،جماعت اسلامی پاکستان)
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ وذکراللہ کثیرا صد ق اللہ العظیم
سب سے پہلے جماعت اہل حرم کے سربراہ اور اس تنظیم کو اس کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ایسے وقت میں کہ جب ملک کے تعلیمی ادارں میں قوم کی نوجوان لڑکیاں اور لڑکے ہولی کی ہندؤوانہ رسمیں ادا کرتے ہیں اور یوم خواتین پر کچھ عورتیں اکھٹی ہوتیہیں اور اسلام کے شعائر کا مذاق اڑاتی ہیں ایسے وقت میں خاتون جنت کانفرنس کا انعقاد نہایت ہی قابل مبارک باد ہے اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔
سیرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک نہایت ہی دردناک واقعہ جس میں فاطمۃ الزھرہ شامل ہیں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتاہوں مکی دور ہے اور مسلمان بہت کمزور ہیں قریش کے سردار حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حرم کے اندر نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور وہ آپس میں کہتے ہیں کہ وہ فلاں قبیلہ میں اونٹ ذبح ہوا ہے۔ اس کی گندگی پڑی ہے تم میں کون ہو گا جو گندگی اٹھائے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ ریز ہوں ایسی حالت میں انکے مبارک کندھوں پر رکھ دے ایک بد بخت اٹھ جاتا ہے اور وہ گندگی اٹھا کر لا تاہے اور اونٹ کی اوجڑی جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں اللہ کے حضور پڑے ہیں ان کے مبارک کاندھوں پر وہ گندگی ڈال دیتے ہیں اور اس کے نیچے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر اٹھانے کے قابل نہیں رہتے عبد اللہ بن مسعود ؓ اس روایت کے راوی ہیں کہتے ہیں کہ دل پر تو آریاں چل رہی ہیں لیکن مکہ میں کوئی قبیلہ جرات نہیں کر پارہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس تکلیف کو دور کردے۔میرے ذہن میں ایک ترکیب سوجھتی ہے کہ فاطمہ چھوٹی ہے نبی کریم کے گھر جاتے ہیں اوروہاں سے فاطمہ کو کہہ دیتے ہیں کہ ایسی حالت ہے فاطمہ آتی ہے روتی ہے اور نبی ؐکے مبارک کندھوں سے گندگی ہٹاتی ہے اور وہ سردار جانوروں کی طرح ایک دوسرے کو کندھوں سے دھکے دے رہے ہیں جب گندگی ہٹ جاتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے سے سر اٹھاتے ہیں اور جس زبان سے رحمتیں پھوٹتی اور برستی ہیں ان سرداروں کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے بدعائیں نکلتی ہیں اور بدر کے مقام پر وہ سارے سردار جہنم واصل ہو جاتے ہیں۔
ہمارے سامنے اس وقت تین چیلنجز ہیں مدینہ کی اسلامی ریاست موجود نہیں ہے امت کے درمیا ن دراڑیں ہیں خلافت علی منہاج النبوۃ نہیں ہے اگر ہمیں مدینہ کی ریاست قائم کرنی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے نمونہ ہیں امت کے درمیان دراڑیں ختم کرنی ہیں علی رضی اللہ عنہ ہمارے لیے نمونہ ہے اور اگر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم کرنی ہے تو حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے لیے نمونہ ہیں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری امت کو توفیق دے ان کے نقشہ قدم پر چل کر دنیا کو اسلام کی برکات کا ایک نقشہ دیکھا دیں اور اللہ ہمیں دنیا و آخرت دونوں کی کامیابیوں سے نوازے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں