سماجی برائیاں اور ان کا تدارک 38

سماجی برائیاں اور ان کا تدارک

سماجی برائیاں اور ان کا تدارک
تحریر: توصیف راحت
(جنرل سیکرٹری جماعت اہل حرم ضلع اٹک)

موجودہ دور میں جب کہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے ذرائع ابلاغ کو ہر فرد تک بہم پہنچا دیا ہے… گھر بیٹھا ہر شخص سماجی رابطوں کی ویب سائٹس (فیسبک ٹویٹر وغیرہ) کے ذریعے پوری دنیا تک اپنا مافی الضمیر پہنچا سکتا ہے اور لوگوں کو اپنے افکار اور نظریات سے آگاہ کرسکتا ہے… ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم ان ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوۓ مثبت پہلوؤں کی ترویج کریں… غیر مسلم دنیا کو اسلام کا صحیح چہرہ دکھائیں… اللی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی ترویج و اشاعت کریں…اپنی اسلی ثقافت اور ادب کی اشاعت کریں… انسانی کی حقوق کی پاسداری کریں اور جہاں پر جو بھی قوم ادارہ یا شخص بین الاقوامی اور قومی قانون کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف صداۓ احتجاج بلند کریں…. اپنے اپنے شعبے میں اپنی بہترین خدمات پیش کریں…. اپنے اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کےلیے آواز اٹھائیں ….

مگر بدقسمتی سے ہم منفی استعمالات کا شکار ہوچکے ہیں…. ہمیں دوسروں کی نظریات سے اختلاف اس قدر نفرت میں مبتلا کرچکا ہے کہ ہم نے “لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم” کے فلسفے کو یکسر بھلا دیا ہے…. ہم کسی بھی انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس کا چہرہ بگاڑنے میں عار محسوس نہیں کرتے بلکہ بے شرمی کی حد تو یہ ہے کہ دوسروں کو شیئر کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں…. ہم حوا کی بیٹی کی عزت سربازار نیلام کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں…. اور نیم برہنہ تصاویر اپنی دیواروں کی زینت بناتے ہیں… ہم بغیر کسی تصدیق کے کوئی بھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے منسوب کرکے دھڑا دھڑ شیئر کر رہے ہوتے ہیں اور کسی بات پر عمل کرنے سے زیادہ شیئر کرنے پر ثواب کمانے کے چکر میں لگے رہتے ہیں… ہم “انما المومنون اخوة” کی آیت کو فراموش کرچکے ہی… ہم صرف اپنی نظریات کو حرف آخر اور اپنے من پسند شخص یا لیڈر کو دودھ کا دھلا ہوا سمجھتے ہیں…. یہاں پہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ

آخر تبدیلی کب آۓ گی؟؟؟ مندرجہ بالا معاشرتی برائیاں اور اس نوعیت کے سماجی مسائل کب حل ہوں گے؟

جب تک ہم (من حیث القوم) اپنے آپ میں تبدیلی نہیں لاتے… ہم مندرجہ بالا نقائص کو اپنی ذات سے دور نہیں کرتے…. تبدیلی نہیں آۓ گی…

تبدیلی اس وقت آۓ گی جب میرے ملک کا معلم پڑھانے سے زیادہ سکھانے پر توجہ دے گا… میرے ملک کے معالج مریض کو گاہک سمجھنا چھوڑ دیں گے… عوام کے محافظ(پولیس) اپنے فرائض بخوبی ادا کرنا شروع کریں گے… سرکاری اداروں میں غریبوں کا ستحصال ختم ہوگا…. عوام کو سستا اور فوری انصاف ملے گا… حقیقی معنوں میں تبدیلی تب آۓ گی…

المختصر جب تک میں اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتا…. میں مندر بالا نقائص کو ترک کرکے بہ حیثیت مسلمان اور پاکستانی اپنا کردار ادا نہیں کرتا…..میرے لیے تبدیلی کے خواب دیکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کےمترادف ہے….

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں